ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 18

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۱۸﴾
ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے
En
وه پوشیده اور ﻇاہر کا جاننے واﻻ ہے زبردست حکمت واﻻ (ہے) En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18){ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} یہ صفات یہاں ذکر کرنے سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ میاں بیوی اور والد و اولاد کے باہمی معاملات سے پوری طرح واقف اللہ تعالیٰ ہی ہے، لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوسکتی، کیونکہ وہ ان سے الگ رہتے ہیں۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو ہر وقت اس عالم الغیب والشہادہ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہیے، کیونکہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ وہ غائب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے، وہ زبردست ہے اور دانا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔