(آیت 4){ ذٰلِكَفَضْلُاللّٰهِيُؤْتِيْهِمَنْيَّشَآءُ …:} یعنی اُمیوں میں نبی مبعوث کرنا اور اسے بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے رسول بنانا اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، وہ یہود یا کسی اور کی خواہش کا پابند نہیں کہ اسی کو اپنے فضل سے نوازے جسے وہ چاہیں اور نہ ہی یہ کسی کی محنت و کوشش پر موقوف ہے کہ کوئی ریاضت اور محنت کے ساتھ نبوت کا منصب حاصل کر لے، بلکہ یہ سراسر اللہ کے انتخاب اور اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «اَللّٰهُيَصْطَفِيْمِنَالْمَلٰٓىِٕكَةِرُسُلًاوَّمِنَالنَّاسِ» [الحج: ۷۵]”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اور فرمایا: «اَللّٰهُاَعْلَمُحَيْثُيَجْعَلُرِسَالَتَهٗ» [الأنعام: ۱۲۴]”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اور فرمایا: «وَاللّٰهُيَخْتَصُّبِرَحْمَتِهٖمَنْيَّشَآءُوَاللّٰهُذُوالْفَضْلِالْعَظِيْمِ» [البقرۃ: ۱۰۵]”اور اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یہ اشارہ نبوت محمدی کی طرف ہوسکتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی طرف بھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا [8] ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے
[8] یہود اگر جلتے ہیں تو جلتے رہیں۔ وہ کوئی اللہ کے فضل کے ٹھیکیدار نہیں ہیں کہ رسول اگر آنا تھا تو انہی کی قوم میں سے آنا چاہیے تھا۔ اور یہ فضل بھی کیا کم ہے کہ تا قیامت تمام روئے زمین کی قیادت پیغمبر اسلام اور آپ کی امت کے سپرد کر دی گئی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں