وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِیۡ وَ قَدۡ تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ ؕ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۵﴾
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو، حالانکہ یقینا تم جانتے ہو کہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
En
اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کج روی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔ اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا
En
اور (یاد کرو) جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو! تم مجھے کیوں ستا رہے ہو حاﻻنکہ تمہیں (بخوبی) معلوم ہے کہ میں تمہاری جانب اللہ کا رسول ہوں پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 5) ➊ {وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِيْ …:} قتال فی سبیل اللہ کی فضیلت کے ذکر اور اس سے گریز پر ملالت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب ذکر فرمایا، جس میں انھوں نے ان کی اس اذیت رسانی کا شکوہ اور اس پر ملامت کی جو انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ روا رکھی کہ جب وہ انھیں اپنے لیے اللہ کا رسول جانتے اور مانتے تھے تو ان پر لازم تھا کہ وہ ان کی تکریم کرتے، ان کی اطاعت کرتے اور ان کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام سے جہاد کرتے، مگر انھوں نے ان کے ساتھ عام رویے میں، ان کے احکام کی تعمیل میں اور جہاد کے لیے نکلنے کے معاملے میں، غرض ہر طرح سے انھیں تکلیف پہنچائی۔ یہاں جس ایذا کی طرف خصوصاً اشارہ ہے اور جس کی وجہ سے انھیں موسیٰ علیہ السلام سے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے {” الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ “} کا لقب ملا وہ ان کا جہاد کے لیے نکلنے سے صاف انکار ہے۔ مقصود مسلمانوں کو ان کا طریقہ اپنانے سے اجتناب کی تلقین ہے۔ تکریم و اطاعت کے معاملے میں ان کی ایذا کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (۶۹) کی تفسیر اور جہاد کے لیے نکلنے سے ان کے صاف انکار کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۲۰ تا ۲۶) کی تفسیر۔
➋ {فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ: ” زَاغُوْا“ ”زَاغَ يَزِيْغُ زَيْغًا“} (ض) ٹیڑھا ہونا۔ {” اَزَاغَ “} اس سے باب افعال ہے، ٹیڑھا کر دیا۔ یعنی جب وہ اطاعت کے بجائے ہر کام میں ٹیڑھے چلے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی راہ پر ڈال دیا، کیونکہ وہ ٹیڑھی راہ پر چلنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر نہیں چلاتا، کیونکہ اس سے آزمائش کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى» [النساء: ۱۱۵] ”ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا۔“
➌ { وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ:} جہاد سے انکار کی وجہ سے سورۂ مائدہ کی آیت (۲۵) میں موسیٰ علیہ السلام نے اور سورۂ مائدہ ہی کی آیت (۲۶) میں اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کو {” الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ “} کا خطاب دیا ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے علاوہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے منافقین سے بھی بہت اذیت پہنچی۔ زبانی اذیت کے علاوہ جہاد کے مواقع پر انھوں نے کئی دفعہ غداری کی، جنگ احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبی تین سو (۳۰۰) آدمیوں کو، جو لشکر کا تقریباً تیسرا حصہ تھے، عین میدان جنگ سے نکال کر لے گیا۔ جنگ خندق میں بھی انھوں نے کفار سے مل کر سازشوں میں اور مسلمانوں کی حوصلہ شکنی میں کوئی کمی نہیں کی۔ سورۂ آل عمران (۱۵۴ تا ۱۶۸) اور سورۂ احزاب (۹ تا ۲۰) میں اللہ تعالیٰ نے اس کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ زبانی اذیت کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (74،61،58)، احزاب (۵۷) اور منافقون (۸)۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے اعلان ہی سے کفار کی طرف سے مسلسل اور بے پناہ تکلیفیں پہنچیں، مگر اپنی جماعت میں شامل لوگوں کی طرف سے ایذا کا احساس زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے کہ اگر کچھ منافق قسم کے لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں اور جہاد میں جانے سے پس و پیش کرتے ہیں تو آپ غم نہ کریں، آپ کے ساتھ تو پھر بھی جہاد کرنے والوں اور جان و مال قربان کرنے والوں کی عظیم جماعت موجود ہے، موسیٰ علیہ السلام کو تو اپنوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی، ان کی قوم نے جہاد کے لیے نکلنے ہی سے صاف انکار کر دیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم کیں تو ایک آدمی نے کہا: ”یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کے چہرے کا ارادہ نہیں کیا گیا۔“ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے حتیٰ کہ میں نے غصے کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک میں دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوْسٰی لَقَدْ أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ] [بخاري، الدعوات، باب قول اللّٰہ تبارک و تعالٰی: «وصل علیھم» …: ۶۳۳۶] ”اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ ان کے ساتھ بھی چند لوگوں کے سوا بنی اسرائیل نے ایسا ہی سلوک کیا۔
➋ {فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ: ” زَاغُوْا“ ”زَاغَ يَزِيْغُ زَيْغًا“} (ض) ٹیڑھا ہونا۔ {” اَزَاغَ “} اس سے باب افعال ہے، ٹیڑھا کر دیا۔ یعنی جب وہ اطاعت کے بجائے ہر کام میں ٹیڑھے چلے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی راہ پر ڈال دیا، کیونکہ وہ ٹیڑھی راہ پر چلنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر نہیں چلاتا، کیونکہ اس سے آزمائش کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى» [النساء: ۱۱۵] ”ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا۔“
➌ { وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ:} جہاد سے انکار کی وجہ سے سورۂ مائدہ کی آیت (۲۵) میں موسیٰ علیہ السلام نے اور سورۂ مائدہ ہی کی آیت (۲۶) میں اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کو {” الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ “} کا خطاب دیا ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے علاوہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے منافقین سے بھی بہت اذیت پہنچی۔ زبانی اذیت کے علاوہ جہاد کے مواقع پر انھوں نے کئی دفعہ غداری کی، جنگ احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبی تین سو (۳۰۰) آدمیوں کو، جو لشکر کا تقریباً تیسرا حصہ تھے، عین میدان جنگ سے نکال کر لے گیا۔ جنگ خندق میں بھی انھوں نے کفار سے مل کر سازشوں میں اور مسلمانوں کی حوصلہ شکنی میں کوئی کمی نہیں کی۔ سورۂ آل عمران (۱۵۴ تا ۱۶۸) اور سورۂ احزاب (۹ تا ۲۰) میں اللہ تعالیٰ نے اس کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ زبانی اذیت کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (74،61،58)، احزاب (۵۷) اور منافقون (۸)۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے اعلان ہی سے کفار کی طرف سے مسلسل اور بے پناہ تکلیفیں پہنچیں، مگر اپنی جماعت میں شامل لوگوں کی طرف سے ایذا کا احساس زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے کہ اگر کچھ منافق قسم کے لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں اور جہاد میں جانے سے پس و پیش کرتے ہیں تو آپ غم نہ کریں، آپ کے ساتھ تو پھر بھی جہاد کرنے والوں اور جان و مال قربان کرنے والوں کی عظیم جماعت موجود ہے، موسیٰ علیہ السلام کو تو اپنوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی، ان کی قوم نے جہاد کے لیے نکلنے ہی سے صاف انکار کر دیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم کیں تو ایک آدمی نے کہا: ”یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کے چہرے کا ارادہ نہیں کیا گیا۔“ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے حتیٰ کہ میں نے غصے کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک میں دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوْسٰی لَقَدْ أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ] [بخاري، الدعوات، باب قول اللّٰہ تبارک و تعالٰی: «وصل علیھم» …: ۶۳۳۶] ”اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ ان کے ساتھ بھی چند لوگوں کے سوا بنی اسرائیل نے ایسا ہی سلوک کیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ کے سچے رسول ہیں، بنی اسرائیل انہیں اپنی زبان سے ایذا پہنچاتے تھے، حتٰی کہ بعض جسمانی عیوب ان کی طرف منسوب کرتے تھے، حالانکہ وہ بیماری ان کے اندر نہیں تھی۔ 5۔ 2 یعنی علم کے باوجود حق سے اعراض کیا اور حق کے مقابلے میں باطل کو خیر کے مقابلے میں شر کو اور ایمان کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کے طور پر ان کے دلوں کو مستقل طور پر ہدایت سے پھیر دیا۔ کیونکہ یہی سنت اللہ چلی آرہی ہے۔ کفر وضلالات پر دوام واستمرار ہی دلوں پر مہر لگنے کا باعث ہوتا ہے پھر فسق کفر اور ظلم اس کی طبیعت اور عادت بن جاتی ہے جس کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اس لیے آگے فرمایا اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو اپنی سنت کے مطابق گمراہ کیا ہوتا ہے اب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے جسے اس طریقے سے اللہ نے گمراہ کیا ہو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ اور (وہ بات یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: ”اے میری قوم! تم مجھے کیوں دکھ پہنچاتے [4] ہو حالانکہ تم جان چکے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ پھر جب انہوں نے کجروی [5] اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا
[4] بنی اسرائیل کا اپنے نبی سیدنا موسیٰ کو تکلیفیں پہنچانا :۔
تمام انبیاء کو اپنے مخالفین اور دشمنوں سے دکھ اور مصائب پہنچتے ہی رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ قابل افسوس بات یہ ہوتی ہے کہ اپنے ہی لوگ دکھ پہنچانے لگیں۔ اس سلسلہ میں سیدنا موسیٰؑ کی قوم نے سیدنا موسیٰؑ کو جس قدر پریشان کیا اور دکھ پہنچایا تھا۔ شاید ہی کسی دوسری قوم نے پہنچایا ہو۔ حالانکہ انہیں خوب معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ سیدنا موسیٰؑ نے انہیں اللہ کے حکم کے مطابق ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو طرح طرح کی کٹ حجتیاں اور سوال کر کر کے آپ کو پریشان کر دیا۔ فرعون سے نجات پا کر آگے روانہ ہوئے ہی تھے کہ ایک قوم کو بت پوجتے دیکھ کر کہنے لگے: موسیٰ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک بت بنا دو۔ جس کی ہم پوجا کیا کریں۔ میدان تیہ میں ان کو بلا مشقت من و سلویٰ مل رہا تھا تو کہنے لگے: موسیٰ! ہم تو یہ غذا کھا کر تنگ آگئے ہیں اور جی بھر گیا ہے۔ لہٰذا اب سبزیاں اور دالیں کھانا چاہتے ہیں۔ سیدنا موسیٰؑ طور پر تورات لینے گئے تو بعد میں ایک بچھڑا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی اور کہنے لگے کہ موسیٰؑ تو بھول کر طور پر چلے گئے۔ ہمارا اور اس کا معبود تو یہ ہے وہ وہاں کیا لینے چلے گئے۔ سیدنا موسیٰؑ کتاب تورات لے کر آئے تو کہنے لگے۔ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہی نازل شدہ کتاب ہے۔ ہم تو جب تک واضح طور پر اللہ کو دیکھ نہ لیں یہ کتاب ماننے کو تیار نہیں۔ سیدنا موسیٰؑ نے انہیں ارض شام میں جہاد کرنے کو کہا تو کہنے لگے موسیٰ! وہاں تو بڑے طاقتور لوگ رہتے ہیں ہم ان سے کیسے لڑ سکتے ہیں۔ اگر جہاد اتنا ہی ضروری ہے تو تم اور تمہارا رب دونوں جا کر ان سے جہاد کرو۔ ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ اپنی قوم کی ایسی ہی باتوں سے تنگ آکر سیدنا موسیٰؑ نے اللہ سے دعا کی تھی۔ ”پروردگار! میرا اختیار تو صرف اپنی ذات پر اور اپنے بھائی پر ہے لہٰذا اس نافرمان قوم سے ہمارا ساتھ چھڑا دے“ [5: 25]
انبیاء اپنی دشمن قوم کے لیے تو ایسی دعا مانگتے ہی رہے ہیں۔ مگر کسی نبی نے غالباً اپنی قوم کے حق میں ایسی دعا کبھی نہیں مانگی۔
[5] اپنے نبی کی شان میں گستاخیاں کرتے کرتے اور دکھ پہنچاتے پہنچاتے ان کی فطرت ہی کچھ ایسی ٹیڑھی بن چکی تھی کہ کسی حکم کو بھی وہ سچے ایمانداروں کی طرح تسلیم کر لینے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ بلکہ اس میں مین میخ نکال کر اس کا کچھ الٹا ہی مطلب نکال لیتے تھے۔ پھر جب انہوں نے کجروی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے بھی انہیں اسی راہ پر ڈال دیا۔ کیونکہ اللہ کا یہ دستور نہیں کہ وہ ٹیڑھی راہ اختیار کرنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر ڈال دے۔ اس لیے کہ ایسا کرنے سے اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔
انبیاء اپنی دشمن قوم کے لیے تو ایسی دعا مانگتے ہی رہے ہیں۔ مگر کسی نبی نے غالباً اپنی قوم کے حق میں ایسی دعا کبھی نہیں مانگی۔
[5] اپنے نبی کی شان میں گستاخیاں کرتے کرتے اور دکھ پہنچاتے پہنچاتے ان کی فطرت ہی کچھ ایسی ٹیڑھی بن چکی تھی کہ کسی حکم کو بھی وہ سچے ایمانداروں کی طرح تسلیم کر لینے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ بلکہ اس میں مین میخ نکال کر اس کا کچھ الٹا ہی مطلب نکال لیتے تھے۔ پھر جب انہوں نے کجروی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے بھی انہیں اسی راہ پر ڈال دیا۔ کیونکہ اللہ کا یہ دستور نہیں کہ وہ ٹیڑھی راہ اختیار کرنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر ڈال دے۔ اس لیے کہ ایسا کرنے سے اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میری رسالت کی سچائی جانتے ہو پھر کیوں میرے درپے آزار ہو رہے ہو؟ ‘ اس میں گویا ایک طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جاتی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب ستائے جاتے تو فرماتے: ” «رَحْمَة اللَّه عَلَى مُوسَىٰ» اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائے، وہ اس سے زیادہ ستائے گئے لیکن پھر بھی صابر رہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4335]
اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو ادب سکھایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے نبی کو ایذاء نہ پہنچائیں ایسا نہ کریں جس سے آپ کا دل دکھتا ہو، جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّـهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا» ۱؎ [33-الأحزاب:69] ’ ایمان والو تم ایسے نہ ہونا جیسے موسیٰ کو ایذاء دینے والے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ذی عزت بندے کو اس کے بہتانوں سے پاک کیا۔ ‘ پس جبکہ یہ لوگ علم کے باوجود اتباع حق سے ہٹ گئے اور ٹیڑھے چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دل ہدایت سے ہٹا دیئے شک و حیرت ان میں سما گئی۔
جیسے اور جگہ ہے «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] یعنی ’ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح یہ ہماری آیتوں پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں چھوڑ دیں گے جس میں وہ سرگرداں رہیں گے ‘
اور جگہ ہے «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:115] ’ جو رسول کی مخالفت کرے ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی دوسرے کی تابعداری کرے ہم اسے اسی طرف متوجہ کریں گے جس طرف وہ متوجہ ہوا ہے اور بالاخر اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ ‘ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فاسقوں کی رہبری نہیں کرتا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ بیان ہوتا ہے جو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں پڑھا تھا جس میں فرمایا تھا کہ ”توراۃ میں میری خوشخبری دی گئی تھی اور اب میں تمہیں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی پیش گوئی سناتا ہوں جو نبی امی، عربی مکی، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
پس عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء اور مرسلین کے خاتم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تو کوئی نبی آئے نہ رسول، نبوت و رسالت سب آپ پر من کل الوجوہ ختم ہو گئی۔
اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو ادب سکھایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے نبی کو ایذاء نہ پہنچائیں ایسا نہ کریں جس سے آپ کا دل دکھتا ہو، جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّـهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا» ۱؎ [33-الأحزاب:69] ’ ایمان والو تم ایسے نہ ہونا جیسے موسیٰ کو ایذاء دینے والے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ذی عزت بندے کو اس کے بہتانوں سے پاک کیا۔ ‘ پس جبکہ یہ لوگ علم کے باوجود اتباع حق سے ہٹ گئے اور ٹیڑھے چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دل ہدایت سے ہٹا دیئے شک و حیرت ان میں سما گئی۔
جیسے اور جگہ ہے «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] یعنی ’ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح یہ ہماری آیتوں پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں چھوڑ دیں گے جس میں وہ سرگرداں رہیں گے ‘
اور جگہ ہے «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:115] ’ جو رسول کی مخالفت کرے ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی دوسرے کی تابعداری کرے ہم اسے اسی طرف متوجہ کریں گے جس طرف وہ متوجہ ہوا ہے اور بالاخر اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ ‘ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فاسقوں کی رہبری نہیں کرتا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ بیان ہوتا ہے جو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں پڑھا تھا جس میں فرمایا تھا کہ ”توراۃ میں میری خوشخبری دی گئی تھی اور اب میں تمہیں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی پیش گوئی سناتا ہوں جو نبی امی، عربی مکی، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
پس عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء اور مرسلین کے خاتم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تو کوئی نبی آئے نہ رسول، نبوت و رسالت سب آپ پر من کل الوجوہ ختم ہو گئی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صفاتی نام ٭٭
صحیح بخاری میں ایک نہایت پاکیزہ حدیث وارد ہوئی ہے جس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ لِي أَسْمَاء أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّه بِهِ الْكُفْر وَأَنَا الْحَاشِر الَّذِي يُحْشَر النَّاس عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِب» میرے بہت سے نام ہیں محمد، احمد، ماحی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کفر کو مٹا دیا اور میں حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں“، یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:4896]
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اپنے بہت سے نام بیان فرمائے جو ہمیں محفوظ رہے ان میں سے چند یہ ہیں، فرمایا: ” «أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَالْحَاشِر وَالْمُقَفِّي وَنَبِيّ الرَّحْمَة وَالتَّوْبَة وَالْمَلْحَمَة» میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، میں مقفی ہوں، میں نبی الرحمتہ ہوں، میں نبی التوبہ ہوں، میں نبی الْمَلْحَمَة ہوں“، یہ حدیث بھی صحیح مسلم شریف میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2355]
قرآن کریم میں ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ’ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول نبی امی کی جنہیں اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں توراۃ میں بھی اور انجیل میں بھی۔ ‘
اور جگہ فرمان ہے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّه مِيثَاق النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَاب وَحِكْمَة ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُول مُصَدِّق لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلْتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنْ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [3-آلعمران:81] الخ، ’ اللہ تعالیٰ نے جب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس میرا رسول آئے جو اسے سچ کہتا ہو جو تمہارے ساتھ ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی ضرور مدد کرو گے کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد لیتے ہو؟ سب نے کہا ہمیں اقرار ہے فرمایا بس گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔‘
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اپنے بہت سے نام بیان فرمائے جو ہمیں محفوظ رہے ان میں سے چند یہ ہیں، فرمایا: ” «أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَالْحَاشِر وَالْمُقَفِّي وَنَبِيّ الرَّحْمَة وَالتَّوْبَة وَالْمَلْحَمَة» میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، میں مقفی ہوں، میں نبی الرحمتہ ہوں، میں نبی التوبہ ہوں، میں نبی الْمَلْحَمَة ہوں“، یہ حدیث بھی صحیح مسلم شریف میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2355]
قرآن کریم میں ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ’ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول نبی امی کی جنہیں اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں توراۃ میں بھی اور انجیل میں بھی۔ ‘
اور جگہ فرمان ہے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّه مِيثَاق النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَاب وَحِكْمَة ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُول مُصَدِّق لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلْتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنْ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [3-آلعمران:81] الخ، ’ اللہ تعالیٰ نے جب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس میرا رسول آئے جو اسے سچ کہتا ہو جو تمہارے ساتھ ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی ضرور مدد کرو گے کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد لیتے ہو؟ سب نے کہا ہمیں اقرار ہے فرمایا بس گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔‘
ہر نبی سے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا عہد ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کوئی نبی اللہ تعالیٰ نے ایسا مبعوث نہیں فرمایا جس سے یہ اقرار نہ لیا ہو کہ ان کی زندگی میں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے جائیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے بلکہ ہر نبی سے یہ وعدہ بھی لیا جاتا رہا کہ وہ اپنی اپنی امت سے بھی عہد لے لیں۔
ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی خبر سنایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری ہوں، میری والدہ کا جب پاؤں بھاری ہوا تو خواب میں دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے شہر بصریٰ کے محلات چمک اٹھے۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2057] اس کی سند عمدہ ہے اور دوسری سندوں سے اس کے شواہد بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے { میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم الانبیاء تھا درآنحالیکہ آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں اس کی ابتداء سناؤں۔ میں اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔ انبیاء کی والدہ اسی طرح خواب دکھائی جاتی ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح لغیرہ] مسند احمد میں اور سند سے بھی اسی کے قریب روایت مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ]
ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی خبر سنایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری ہوں، میری والدہ کا جب پاؤں بھاری ہوا تو خواب میں دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے شہر بصریٰ کے محلات چمک اٹھے۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2057] اس کی سند عمدہ ہے اور دوسری سندوں سے اس کے شواہد بھی ہیں۔
مسند احمد میں ہے { میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم الانبیاء تھا درآنحالیکہ آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں اس کی ابتداء سناؤں۔ میں اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔ انبیاء کی والدہ اسی طرح خواب دکھائی جاتی ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح لغیرہ] مسند احمد میں اور سند سے بھی اسی کے قریب روایت مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ]
نجاشی کا دربار
مسند کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی بادشاہ حبشہ کے ہاں بھیج دیا تھا ہم تقریباً اسی آدمی تھے۔ ہم میں عبداللہ بن مسعود، جعفر، عبداللہ بن رواحہ، عثمان بن مطعون، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی تھے۔ ہمارے یہاں پہنچنے پر قریش نے یہ خبر پا کر ہمارے پیچھے اپنی طرف سے بادشاہ کے پاس اپنے دو سفیر بھیجے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید ان کے ساتھ دربار شاہی کے لیے تحفے بھی بھیجے، جب یہ آئے تو انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدہ کیا پھر دائیں بائیں گھوم کر بیٹھ گئے، پھر اپنی درخواست پیش کی کہ ہمارے کنبے قبیلے کے چند لوگ ہمارے دین کو چھوڑ کر ہم سے بھاگ کر آپ کے ملک میں چلے آئے ہیں ہماری قوم نے ہمیں اس لیے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیجئیے۔“
نجاشی نے پوچھا وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا یہیں اسی شہر میں ہیں، حکم دیا کہ انہیں حاضر کرو، چنانچہ یہ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم دربار میں آئے ان کے خطیب اس وقت جعفر رضی اللہ عنہ تھے باقی لوگ ان کے ماتحت تھے، یہ جب آئے تو انہوں نے سلام تو کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے کہا تم بادشاہ کے سامنے سجدہ کیوں نہیں کرتے؟ جواب ملا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے، پوچھا گیا کیوں؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ہماری طرف بھیجا اور اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہ کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نمازیں پڑھتے رہیں زکوٰۃ ادا کرتے رہیں۔
اب عمرو بن العاص سے نہ رہا گیا کہ ایسا نہ ہو ان باتوں کا اثر بادشاہ پر پڑے درباریوں اور بادشاہ کو بھڑکانے کے لیے وہ بیچ میں بول پڑا کہ حضور ان کے اعتقاد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے بالکل مختلف ہیں، اس پر بادشاہ نے پوچھا: بتاؤ تم عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارا عقیدہ اس بارے میں وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں ہمیں تعلیم فرمایا کہ وہ کلمتہ اللہ ہیں، روح اللہ ہیں، جس روح کو اللہ تعالیٰ کنواری مریم بتول کی طرف القا کیا جو کنواری تھیں، جنہیں کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، نہ انہیں بچہ ہونے کا کوئی موقعہ تھا۔ بادشاہ نے یہ سن کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے حبشہ کے لوگو اور اے واعظو عالمو اور درویشو ان کا اور ہمارا اس کے بارے میں ایک ہی عقیدہ ہے اللہ کی قسم ان کے اور ہمارے عقیدے میں اس تنکے جتنا بھی فرق نہیں۔
نجاشی نے پوچھا وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا یہیں اسی شہر میں ہیں، حکم دیا کہ انہیں حاضر کرو، چنانچہ یہ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم دربار میں آئے ان کے خطیب اس وقت جعفر رضی اللہ عنہ تھے باقی لوگ ان کے ماتحت تھے، یہ جب آئے تو انہوں نے سلام تو کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے کہا تم بادشاہ کے سامنے سجدہ کیوں نہیں کرتے؟ جواب ملا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے، پوچھا گیا کیوں؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ہماری طرف بھیجا اور اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہ کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نمازیں پڑھتے رہیں زکوٰۃ ادا کرتے رہیں۔
اب عمرو بن العاص سے نہ رہا گیا کہ ایسا نہ ہو ان باتوں کا اثر بادشاہ پر پڑے درباریوں اور بادشاہ کو بھڑکانے کے لیے وہ بیچ میں بول پڑا کہ حضور ان کے اعتقاد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے بالکل مختلف ہیں، اس پر بادشاہ نے پوچھا: بتاؤ تم عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارا عقیدہ اس بارے میں وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں ہمیں تعلیم فرمایا کہ وہ کلمتہ اللہ ہیں، روح اللہ ہیں، جس روح کو اللہ تعالیٰ کنواری مریم بتول کی طرف القا کیا جو کنواری تھیں، جنہیں کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، نہ انہیں بچہ ہونے کا کوئی موقعہ تھا۔ بادشاہ نے یہ سن کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے حبشہ کے لوگو اور اے واعظو عالمو اور درویشو ان کا اور ہمارا اس کے بارے میں ایک ہی عقیدہ ہے اللہ کی قسم ان کے اور ہمارے عقیدے میں اس تنکے جتنا بھی فرق نہیں۔
اے جماعت مہاجرین! تمہیں مرحبا ہو اور اس رسول کو بھی مرحبا ہو جن کے پاس سے تم آئے ہو، میری گواہی ہے کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں، یہ وہی ہیں جن کی پیش گوئی ہم نے انجیل میں پڑھی ہے اور یہ وہی ہیں جن کی بشارت ہمارے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے میری طرف سے تمہیں عام اجازت ہے جہاں چاہو رہو سہو، اللہ کی قسم اگر ملک کی اس جھنجٹ سے میں آزاد ہوتا تو میں یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں اٹھاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا اور آپ کو وضو کراتا، اتنا کہہ کر حکم دیا کہ یہ دونوں قریشی جو تحفہ لے کر آئے ہیں وہ انہیں اپس کر دیا جائے۔
ان مہاجرین کرام میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو جلد ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، جنگ بدر میں بھی آپ نے شرکت کی۔ اس شاہ حبشہ کے انتقال کی خبر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے لیے بخشش کی دعا مانگی۔ ۱؎ [مسند احمد:461/1:ضعیف] یہ پورا واقعہ سیدنا جعفر اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:201/1:ضعیف]
تفسیری موضوع سے چونکہ یہ الگ چیز ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں مختصراً وارد کر دیا مزید تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ ہو۔
ہمارا مقصود یہ ہے کہ عالی جناب حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اگلے انبیاء کرام علیہم السلام برابر پشین گوئیاں کرتے رہے اور اپنی امت کو اپنی کتاب میں سے آپ کی صفتیں سناتے رہے اور آپ کی اتباع اور نصرت کا انہیں حکم کرتے رہے، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی شہرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کے بعد ہوئی جو تمام انبیاء کے باپ تھے اسی طرح مزید شہرت کا باعث عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوئی جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے سوال پر اپنے امر نبوت کی نسبت دعا خلیل اللہ اور نوید مسیح کی طرف کی ہے، اس سے یہی مراد ہے ان دونوں کے ساتھ آپ کا اپنی والدہ محترمہ کے خواب کا ذکر کرنا اس لیے تھا کہ اہل مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شروع شہرت کا باعث یہ خواب تھا، اللہ تعالیٰ آپ پر بےشمار درود و رحمت بھیجے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ باوجود اس قدر شہرت اور باوجود انبیاء کی متواتر پیش گوئیوں کے بھی جب آپ روشن دلیلیں لے کر آئے تو مخالفین نے اور کافروں نے کہہ دیا کہ یہ تو صاف صاف جاود ہے۔‘
ان مہاجرین کرام میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو جلد ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، جنگ بدر میں بھی آپ نے شرکت کی۔ اس شاہ حبشہ کے انتقال کی خبر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے لیے بخشش کی دعا مانگی۔ ۱؎ [مسند احمد:461/1:ضعیف] یہ پورا واقعہ سیدنا جعفر اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:201/1:ضعیف]
تفسیری موضوع سے چونکہ یہ الگ چیز ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں مختصراً وارد کر دیا مزید تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ ہو۔
ہمارا مقصود یہ ہے کہ عالی جناب حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اگلے انبیاء کرام علیہم السلام برابر پشین گوئیاں کرتے رہے اور اپنی امت کو اپنی کتاب میں سے آپ کی صفتیں سناتے رہے اور آپ کی اتباع اور نصرت کا انہیں حکم کرتے رہے، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی شہرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کے بعد ہوئی جو تمام انبیاء کے باپ تھے اسی طرح مزید شہرت کا باعث عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوئی جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے سوال پر اپنے امر نبوت کی نسبت دعا خلیل اللہ اور نوید مسیح کی طرف کی ہے، اس سے یہی مراد ہے ان دونوں کے ساتھ آپ کا اپنی والدہ محترمہ کے خواب کا ذکر کرنا اس لیے تھا کہ اہل مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شروع شہرت کا باعث یہ خواب تھا، اللہ تعالیٰ آپ پر بےشمار درود و رحمت بھیجے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ باوجود اس قدر شہرت اور باوجود انبیاء کی متواتر پیش گوئیوں کے بھی جب آپ روشن دلیلیں لے کر آئے تو مخالفین نے اور کافروں نے کہہ دیا کہ یہ تو صاف صاف جاود ہے۔‘