ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصف (61) — آیت 14

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ کَفَرَتۡ طَّآئِفَۃٌ ۚ فَاَیَّدۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰی عَدُوِّہِمۡ فَاَصۡبَحُوۡا ظٰہِرِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کے مدد گار بن جاؤ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا اللہ کی طرف میرے مدد گار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے کفر کیا، پھر ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے تھے، ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب ہوگئے ۔ En
مومنو! خدا کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ بھلا کون ہیں جو خدا کی طرف (بلانے میں) میرے مددگار ہوں۔ حواریوں نے کہا کہ ہم خدا کے مددگار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ آخر الامر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد دی اور وہ غالب ہوگئے
En
اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ۔ جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راه میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راه میں مددگار ہیں، پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان ﻻئی اور ایک جماعت نے کفر کیا تو ہم نے مومنوں کی انکے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وه غالب آ گئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ …:اَلْحَوَارِيُّ حَارَ يَحُوْرُ حَوْرًا (ن) اَلثَّوْبَ} کپڑے کو دھونا اور خوب سفید کرنا۔ دھوبی کو اسی لیے حواری کہتے ہیں کہ وہ کپڑے کو دھو کر سفید کر دیتا ہے۔ { حُوَّارٰي} صاف سفید میدے کو کہتے ہیں جس سے چھان نکال دیا گیا ہو۔ خالص دوست اور بے غرض مددگار کو اسی لیے حواری کہتے ہیں کہ اس کا دل ہر قسم کے کھوٹ سے پاک صاف اور خیر خواہی اور محبت میں خالص ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَ إِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ] [بخاري، فضائل الصحابۃ، باب مناقب الزبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: ۳۷۱۹] ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر بن عوام(رضی اللہ عنہ) ہے۔
➋ {كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ۠ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ: اِلَى اللّٰهِ } کی ترکیب دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ {مَنْ أَنْصَارِيْ فِي الدَّعْوَةِ إِلَي اللّٰهِ} اللہ کی طرف دعوت میں میرے مددگار کون ہیں؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [یوسف: ۱۰۸] کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اور دوسری ترکیب یہ ہے: {مَنْ أَنْصَارِيْ ذَاهِبًا إِلَي اللّٰهِ } اللہ کی طرف جاتے ہوئے میرے مددگار کون ہیں؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ قَالَ اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ» ‏‏‏‏ [الصافات: ۹۹] اور اس نے کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۵۲) کی تفسیر۔
➌ {قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ …:} جہاد فی سبیل اللہ کے دوران کئی مرحلے آتے ہیں جن میں سب سے آخری مرحلہ اللہ کے دشمنوں سے قتال اور جنگ کا ہوتا ہے، جس کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان سورت کے شروع سے آ رہا ہے۔ اس سے بھی مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حق کی طرف دعوت دینے والا اکیلا ہوتا ہے یا اس کے ساتھ چند آدمی ہوتے ہیں۔ دوسرے تمام لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں جو گالی گلوچ، استہزا، مار پیٹ، غرض ہر طرح کی تکلیف دے کر اسے دعوت حق سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات اس کے ساتھیوں کو یا ان کے ساتھ اسے بھی قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں حق کی طرف دعوت دینے والے کے ساتھ کھڑا ہونا، اپنی جان و مال کی پروا نہ کرتے ہوئے تمام تکلیفیں برداشت کرنا اور حق پر ثابت قدم رہنا بڑے عزم و ہمت والے لوگوں کا کام ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَتُبْلَوُنَّ فِيْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِيْرًا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۸۶] یقینا تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقینا تم ان لوگوں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔ پھر یہ سب کچھ سہتے ہوئے کئی لوگ قید کر دیے جاتے ہیں، کئی معذور ہو جاتے ہیں، کئی شہید ہو جاتے ہیں اور آخر میں وہ مرحلہ آتا ہے جب اللہ کے دشمنوں سے جنگ ہوتی ہے اور اس وقت جو لوگ دشمنوں کے مقابلے میں قلیل اور ضعیف ہونے کے باوجود میدان میں ڈٹ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی خاص مدد فرماتا ہے اور انھیں فتح و نصرت سے ہم کنار کر کے دشمن پر غلبہ عطا فرما دیتا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں کا نمونہ پیش کر کے انھیں حکم دیا ہے کہ وہ بھی ان کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت «مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ» پر لبیک کہیں اور ہر تکلیف پر صبر کرتے ہوئے جان و مال کی قربانی کے ذریعے سے ان کا ساتھ دیں۔
یہ بات معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں سے قتال کا مرحلہ پیش نہیں آیا، اس وقت کے یہود نے انھیں پہچان لینے کے باوجود اتنا ستایا اور تنگ کیا کہ ان کے لیے دعوت دینا بھی مشکل ہوگیا۔ اس وقت انھوں نے یہ کہا کہ اللہ کی طرف دعوت دینے میں اور اس کے راستے پر چلنے میں میرے مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا، ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ اس وقت بنی اسرائیل کے دو گروہ ہوگئے، ایک وہ جو ان پر ایمان لے آئے اور ان کے فرمان { مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ } پر { نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ } کہہ کر لبیک کہا، پھر جان و مال کے ساتھ ہر طرح سے ان کی مدد کی اور اس راستے میں دشمنوں کی طرف سے دی جانے والی تکلیفوں پر صبر کیا۔ دوسرے وہ جنھوں نے انھیں رسول ماننے سے انکار کر دیا، انھیں جھوٹا کہا اور ان کی ماں پر تہمتیں لگائیں، حکومتِ وقت سے مل کر انھیں گرفتار کروایا اور اپنے گمان کے مطابق انھیں سولی پر چڑھا کر دم لیا، اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کی تردید فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۵۲ تا ۵۵) اور سورۂ نساء (58،57)۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سب سے پہلے یہی مرحلہ پیش آیا۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آپ نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو کفار مکہ کی طرف سے شدید مزاحمت کی گئی اور آپ کو اور آپ کے ساتھ مسلمان ہونے والے مردوں اور عورتوں کو سخت تکلیفیں دی گئیں، جس کی وجہ سے بہت تھوڑے لوگ ایمان لانے کی جرأت کر سکے۔ پھر کئی حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے اور کئی مکہ ہی میں ظلم و ستم سہتے رہے۔ آزمائشوں اور تکلیفوں کا یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا، حتیٰ کہ کفار قریش نے آپ کو دعوت سے مطلق روک دیا۔ آپ ہر سال حج کے لیے آنے والے قبائل کے پاس جا کر ایک ایک قبیلہ کو کہتے کہ کون ہے جو مجھے اپنے ساتھ لے جا کر اللہ کا پیغام پہنچانے میں میری مدد کرے۔ کئی سال کے بعد وہ موقع آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے کچھ لوگوں کو آپ کی دعوت پر انصار اللہ بننے کی توفیق عطا فرمائی۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَی النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ فَيَقُوْلُ هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِيْ إِلٰی قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُوْنِيْ أَنْ أُبَلِّغَ كَلاَمَ رَبِّيْ عَزَّوَجَلَّ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِّنْ هَمْدَانَ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ، قَالَ فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ؟ قَالَ نَعَمْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَخْفِرَهُ قَوْمُهُ، فَأَتٰي رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ آتِيْهِمْ، فَأُخْبِرُهُمْ، ثُمَّ آتِيْكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ، قَالَ نَعَمْ، فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِيْ رَجَبٍ] [مسند أحمد: 390/3، ح: ۱۵۱۹۲، قال المحقق إسنادہ صحیح علی شرط البخاري] نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو حج کے موقع پر موقف میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور کہتے تھے: کیا کوئی آدمی ہے جو مجھے اپنے ساتھ اپنی قوم کے پاس لے جائے؟ کیونکہ قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے منع کر دیا ہے۔ تو ہمدان کا ایک آدمی آپ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: تم کن لوگوں سے ہو؟ اس آدمی نے کہا: ہمدان سے۔ آپ نے فرمایا: تو کیا تیری قوم کے پاس کچھ حفاظت اور دفاع مل سکتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں! پھر وہ آدمی ڈر گیا کہ کہیں اس کی قوم اس کا کیا ہوا عہد پورا نہ کرے، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ان کے پاس جاؤں گا اور انھیں بتاؤں گا، پھر آئندہ سال آپ کے پاس آؤں گا۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ وہ چلا گیا اور انصار کا وفد رجب میں آگیا۔
➍ {فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ:} یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انھیں رسول ماننے سے انکار کر دیا۔ انکار کرنے والے یہودی تھے اور ایمان لانے والے نصرانی۔ ایمان لانے والے قلیل تھے اور کفر کرنے والے بہت زیادہ تھے۔ ان یہودیوں نے مسیح علیہ السلام کو اللہ کا پیغام پہنچانے سے روکنے کی ہر کوشش کی اور مسیح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر بدترین مظالم کیے، مگر نہ عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی طرف دعوت کو ترک کیا اور نہ ہی ان کے ساتھیوں نے ان کا ساتھ دینے سے کوئی کوتاہی کی، حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا تو اس وقت بھی ایمان والوں کی استقامت میں کمی نہیں آئی، وہ بدستور ڈٹے رہے اور اسلام کی طرف دعوت دیتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کفار کے ساتھ قتال کی توفیق عطا فرمائی۔ پھر جب وہ قلت تعداد کے باوجود میدان میں ڈٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں قوت بخشی اور ان کی مدد فرمائی، تو وہ اپنے دشمن پر غالب آگئے اور ان کے دشمن یہودی مغلوب ہوگئے جو آج تک مغلوب چلے آ رہے ہیں۔ پھر جب عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا شرک میں مبتلا ہوگئے اور انھیں رب تعالیٰ یا رب کا بیٹا کہنے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو، جو عیسیٰ علیہ السلام پر صحیح ایمان لانے والی تھی، ان پر غالب کر دیا۔
➎ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی بھی کفار کے ظلم و ستم سہتے رہے اور سہ رہے تھے، اس میں ان کے لیے بشارت ہے کہ اگر تم عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے انصار ہوگے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بھی تمھارے دشمنوں پر غالب کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کفار پر غلبہ عطا فرما دیا، اس فرق کے ساتھ کہ مسیح علیہ السلام اپنے ساتھیوں کا غلبہ دیکھنے سے پہلے اٹھا لیے گئے، جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ نظارا آنکھوں سے دکھا دیا جس کا ذکر سورۂ نصر میں ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ (1) وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا» [النصر: 2،1] جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ ہاں، عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ بنفس نفیس اس فتح اور غلبے میں شریک ہوں گے جو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھی مسلمانوں کو ان کے دشمنوں اور دجال پر عطا فرمائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 تمام حالتوں میں، اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے بھی اور جان ومال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارے تم فورا ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ ؑ کی پکار پر لبیک کہا۔ 14۔ 2 یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دین کی دعوت و تبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشرو اشاعت کا حکم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام حج میں فرماتے ' کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لئے کہ قریش مجھے فریضہ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے ' حتٰی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کا وعدہ کیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو وعدے کے مطابق انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے تمام ساتھیوں کی مدد کی حتی کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کا نام ہی انصار رکھ دیا اور اب یہ ان کا علم بن گیا۔ ؓ وارضاھم۔ 14۔ 3 یہ یہود تھے جنہوں نے نبوت عیسیٰ ؑ ہی کا انکار بلکہ ان پر اور ان کی ماں پر بہتان تراشی کی بعض کہتے ہیں کہ یہ اختلاف و تفرق اس وقت ہوا جب حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ایک نے کہا عیسیٰ ؑ کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہی زمین پر ظہور فرمایا تھا، اب وہ پھر آسمان پر چلا گیا، یہ فرقہ یعقوبیہ کہلاتا ہے نسطوریہ فرقے نے کہا وہ اب اللہ کے بیٹے تھے، باپ نے بیٹے کو آسمان پر بلا لیا ہے، تیسرے فرقے نے کہا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، یہی فرقہ صحیح تھا۔ 14۔ 4 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ہم نے اسی آخری جماعت کی دوسرے باطل گروہوں کے مقابلے میں مدد کی چناچہ یہ صحیح عقیدے کی حامل جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی اور یوں ہم نے ان کو دلائل کے لحاظ سے بھی سب کافروں پر غلبہ عطا فرمایا اور قوت و سلطنت کے اعتبار سے بھی۔ اس غلبے کا آخری ظہور اس وقت پھر ہوگا۔ جب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ؑ کا دوبارہ نزول ہوگا جیسا کہ اس نزول اور غلبے کی صراحت احادیث صحیحہ میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ اے ایمان والو! اللہ (کے دین) کے مددگار [16] بن جاؤ۔ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ: ”اللہ کی طرف (بلانے میں) کون میرا مددگار ہے؟“ تو حواریوں نے جواب دیا۔ ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں۔ پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور دوسرے گروہ نے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی کہ تو وہی [17] غالب رہے۔
[16] بعض مفسرین کے نزدیک یہ دھوبی تھے۔ گو تعداد میں کم تھے مگر انتہائی مخلص ایماندار تھے۔ انجیل کی تعلیم کی اشاعت میں ان لوگوں نے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔ (مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 52 اور سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 111، 112 کے حواشی)
[17] سیدنا عیسیٰ کا انکار کرنے والے تو یہود ہیں۔ اور ان پر ایمان لانے والے عیسائی ہیں جو سیدنا عیسیٰ کے بعد آپس میں دست و گریبان رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس بحث و مناظرہ اور خانہ جنگیوں میں ایمان لانے والوں کو یہودیوں پر غالب کیا پھر ان نصاریٰ میں شرک کی عام گمراہی پھیل گئی۔ ان میں سے جو بچے کھچے افراد توحید پر قائم رہ گئے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کے ذریعہ غلبہ عنایت فرمایا۔ حجت و برہان کے لحاظ سے بھی وہی غالب رہے اور سیاسی طور پر بھی انہیں ہی غلبہ حاصل ہوا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عیسیٰ علیہ السلام کے ۱۲ حواریوں کی روداد ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر آن اور ہر لحظہ جان مال، عزت آبرو، قول فعل، نقل و حرکت سے دل اور زبان سے اللہ کی اور اس کے رسول کی تمام تر باتوں کی تعمیل میں رہیں۔
پھر مثال دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کو دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی آواز پر فوراً لبیک پکار اٹھے اور ان کے اس کہنے پر کہ کوئی ہے جو اللہ کی باتوں میں میری امداد کرے انہوں نے بلا غور علی الفور کہہ دیا کہ ہم سب آپ کے ساتھی ہیں اور دین اللہ کی امداد میں آپ کے تابع ہیں۔
چنانچہ روح اللہ علیہ صلوالت اللہ نے اسرائیلیوں اور یونانیوں میں انہیں مبلغ بنا کر شام کے شہروں میں بھیجا، حج کے دنوں میں سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرمایا کرتے تھے کہ { کوئی ہے جو مجھے جگہ دے تاکہ میں اللہ کی رسالت کو پہنچا دوں قریش تو مجھے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4734،قال الشيخ الألباني:۔صحیح]‏‏‏‏۔
چنانچہ اہل مدینہ کے قبیلے اوس و خزرج کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ابدی بخشی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں قبول کیں اور مضبوط عہد و پیمان کئے کہ اگر آپ ہمارے ہاں آ جائیں تو پھر کسی سرخ و سیاہ کی طاقت نہیں جو آپ کو دکھ پہنچائے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جانیں لڑا دیں گے اور آپ پر کوئی آنچ نہ آنے دیں گے۔
پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر ہجرت کر کے ان کے ہاں گئے تو فی الواقع انہوں نے اپنے کہے کو پورا کر دکھایا اور اپنی زبان کی پاسداری کی اسی لیے انصار کے معزز لقب سے ممتاز ہوئے اور یہ لقب گویا ان کا امتیازی نام بن گیا، اللہ ان سے خوش ہو اور انہیں بھی راضی کرے آمین!
جبکہ حواریوں کو لے کر آپ علیہ السلام دین اللہ کی تبلیغ کے لیے کھڑے ہوئے تو بنی اسرائیل کے کچھ لوگ تو راہ راست پر آ گئے اور کچھ لوگ نہ آئے بلکہ آپ علیہ السلام کو اور آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ طاہرہ کو بدترین برائی کی طرف منسوب کیا ان یہودیوں پر اللہ کی پھٹکار پڑی اور ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ بن گئے۔
پھر ماننے والوں میں سے بھی ایک جماعت ماننے میں ہی حد سے گزر گئی اور انہیں ان کے درجہ سے بہت بڑھا دیا، پھر اس گروہ میں بھی کئی گروہ ہو گئے، بعض تو کہنے لگے کہ سیدنا عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں بعض نے کہا تین میں کے تیسرے ہیں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس اور بعض نے تو آپ علیہ السلام کو اللہ ہی مان لیا، ان سب کا ذکر سورۃ نساء میں مفصل ملاحظہ ہو۔
سچے عیسائی ٭٭
سچے ایمان والوں کی جناب باری نے اپنے آخر الزماں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تائید کی ان کے دشمن نصرانیوں پر انہیں غالب کر دیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب اللہ کا ارادہ ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لے، آپ علیہ السلام نہا دھو کر اپنے اصحاب کے پاس آئے، سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، یہ بارہ صحابہ تھے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے آتے ہی فرمایا تم میں وہ بھی ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ کفر کریں گے اور ایک دو دفعہ نہیں بلکہ بارہ بارہ مرتبہ۔
پھر فرمایا تم میں سے کون اس بات پر آمادہ ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈالی جائے اور وہ میرے بدلے قتل کیا جائے اور جنت میں میرے درجے میں میرا ساتھی بنے۔ ایک نوجوان جو ان سب میں کم عمر تھا، اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو پیش کیا، آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ، پھر وہی بات کہی اب کی مرتبہ بھی کم عمر نوجوان صحابی کھڑے ہوئے، عیسیٰ علیہ السلام نے اب کی مرتبہ بھی انہیں بٹھا دیا، پھر تیسری مرتبہ یہی سوال کیا، اب کی مرتبہ بھی یہی نوجوان کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا بہت بہتر، اسی وقت ان کی شکل و صورت بالکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہو گئی اور خود عیسیٰ علیہ السلام اس گھر کے ایک روزن سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے۔
اب یہودیوں کی فوج آئی اور انہوں نے اس نوجوان کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کر لیا اور قتل کر دیا اور سولی پر چڑھا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کے مطابق ان باقی کے گیارہ لوگوں میں سے بعض نے بارہ بارہ مرتبہ کفر کیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ایماندار تھے۔
سچے عیسائی ٭٭
پھر بنی اسرائیل کے ماننے والے گروہ کے تین فرقے ہو گئے، ایک فرقے نے تو کہا کہ خود اللہ ہمارے درمیان بصورت مسیح تھا، جب تک چاہا رہا، پھر آسمان پر چڑھ گیا، انہیں یعقوبیہ کہا جاتا ہے۔
ایک فرقے نے کہا: ہم میں اللہ کا بیٹا تھا، جب تک اللہ نے چاہا اسے ہم میں رکھا اور جب چاہا اپنی طرف چڑھا لیا، انہیں سطوریہ کہا جاتا ہے۔
تیسری جماعت حق پر قائم رہی ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول عیسیٰ علیہ السلام ہم میں تھے، جب تک اللہ کا ارادہ رہا آپ ہم میں موجود رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا، یہ جماعت مسلمانوں کی ہے۔
پھر ان دونوں کافر جماعتوں کی طاقت بڑھ گئی اور انہوں نے ان مسلمانوں کو مار پیٹ کر قتل و غارت کرنا شروع کیا اور یہ دبے بھی ہوئے اور مغلوب ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، پس بنی اسرائیل کی وہ مسلمان جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائی اور ان کافر جماعتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کفر کیا، ان ایمان والوں کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور انہیں ان کے دشمنوں پر غالب کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب آ جانا اور دین اسلام کا تمام ادیان کو مغلوب کر دینا ہی ان کا غالب آنا اور اپنے دشمنوں پر فتح پانا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن جریر اور سنن نسائی۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:489/6]‏‏‏‏
پس یہ امت حق پر قائم رہ کر ہمیشہ تک غالب رہے گی یہاں تک کہ امر اللہ یعنی قیامت آ جائے اور یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہو کر مسیح دجال سے لڑائی کریں گے جیسے کہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ صف کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»