لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۸﴾
اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
En
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔ خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
En
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) {لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ …:} اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک محارب جو مسلمانوں سے ضد اور عناد رکھتے تھے، انھیں ایذا دینے، ان کے گھروں سے نکالنے اور ان سے لڑنے میں سرگرم تھے، یا ایسے لوگوں کی پشت پناہی اور مدد کرتے تھے۔ دوسرے مُسالم جو کافر تو تھے مگر روادار تھے، غیر جانبدار بن کر رہے، مسلمانوں کو نہ کوئی دکھ پہنچایا اور نہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ ان میں مکہ کے اردگرد رہنے والے کئی قبائل تھے، جیسے بنو خزاعہ اور بنو حارث وغیرہ جو مسلمانوں کے حلیف تھے یا کفار قریش کے مقابلے میں مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ اہلِ مکہ میں بھی اس طرح کے کئی لوگ تھے، خصوصاً بنو ہاشم اور بنو مطلب کے اکثر لوگوں کی ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ تھیں۔ مہاجرین کی بہت سی رشتہ دار عورتیں اور بچے جو مکہ میں تھے اور ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر ان سے انس اور تعلق رکھتے تھے۔ مسلمانوں کی دلی خواہش ایسے لوگوں سے تعلق رکھنے کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں ایسے لوگوں سے نیک سلوک اور ان کے حق میں انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا۔
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما بیان کرتی ہیں کہ میری ماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (معاہدۂ صلح کے دوران حسنِ سلوک کی) امید رکھتے ہوئے میرے پاس آئی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا میں اس سے حسن سلوک کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ ابن عیینہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: «لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ» ”اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی۔“ [بخاري، الأدب، باب صلۃ الوالد المشرک: ۵۹۷۸] اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی حلہ عطا فرمایا، انھوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [بخاري، الأدب، باب صلۃ الأخ المشرک: ۵۹۸۱]
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما بیان کرتی ہیں کہ میری ماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (معاہدۂ صلح کے دوران حسنِ سلوک کی) امید رکھتے ہوئے میرے پاس آئی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا میں اس سے حسن سلوک کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ ابن عیینہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: «لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ» ”اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی۔“ [بخاري، الأدب، باب صلۃ الوالد المشرک: ۵۹۷۸] اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی حلہ عطا فرمایا، انھوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [بخاري، الأدب، باب صلۃ الأخ المشرک: ۵۹۸۱]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 یہ ان کافروں کے بارے میں ہدایت دی جا رہی ہے جو مسلمانوں سے محض دین السلام کی وجہ سے بغض و عداوت نہیں رکھتے اور اس بنیاد پر مسلمانوں سے نہیں لڑتے، یہ پہلی شرط ہے۔ 8۔ 2 یعنی تمہارے ساتھ ایسا رویہ بھی اختیار نہیں کیا کہ تم ہجرت پر مجبور ہوجاؤ، یہ دوسری شرط ہے۔ ایک تیسری شرط یہ ہے جو اگلی آیت سے واضح ہوتی ہے، کہ وہ مسلمانوں کے خلاف دوسرے کافروں کو کسی قسم کی مدد بھی نہ پہنچائیں مشورے اور رائے سے اور نہ ہتھیار وغیرہ کے ذریعے سے۔ 8۔ 3 یعنی ایسے کافروں سے احسان اور انصاف کا معاملہ کرنا ممنوع نہیں ہے جیسے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مشرکہ ماں کی بابت صلہ رحمی یعنی حسن سلوک کرنے کا پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلی امک۔ صحیح مسلم۔ اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ 8۔ 4 اس میں انصاف کرنے کی ترغیب ہے حتی کہ کافروں کے ساتھ بھی حدیث میں انصاف کرنے والوں کی فضیلت یوں بیان ہوئی ہے۔ ان المقسطین عند اللہ علی منبر من نور عن یمین الرحمن عز وجل وکلتا یدیہ یمین الذین یعدلون فی حکمھم واھلیھم وماولوا۔ صحیح مسلم کتاب الامارہ۔ انصاف کرنے والے نور کے منبروں پر ہوں گے جو رحمن کے دائیں جانب ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں جو اپنے فیصلوں میں اپنے اہل میں اور اپنی رعایا میں انصاف کا اہتمام کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو نہ تم سے دین کے بارے میں لڑے [18] اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو۔ اللہ تو یقیناً انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
[18] لڑنے کا حکم صرف ان کافروں سے ہے جو دکھ پہنچاتے اور معاندانہ سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ عام کافروں سے نہیں، محض کفر لڑائی کا سبب نہیں بن سکتا: اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک وہ جو معاند تھے۔ مسلمانوں کو ایذائیں پہنچاتے، اسلام کی راہ روکتے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے میں سرگرم تھے۔ دوسرے مسالم جو کافر تو تھے مگر روا دار تھے۔ غیر جانبدار بن کر رہے۔ مسلمانوں کو نہ کوئی دکھ پہنچایا نہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ اور یہ دونوں قسم کے لوگ مکہ میں بھی رہتے تھے اور ارد گرد بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لیے الگ الگ احکام بیان فرمائے۔ پہلی قسم کے لوگوں سے سلوک کا بیان ابتدائے سورۃ سے چلا آرہا ہے۔ رہے دوسری قسم کے بے ضرر قسم کے کافر تو ان کے ساتھ روا داری کا حکم فرمایا۔ یعنی ان سے تم کو بھی عداوت نہ رکھنی چاہئے۔ اور رشتہ داری کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور ان سے بہتر سلوک کرنا چاہئے۔ کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے کہ ان دونوں سے سلوک میں فرق رکھا جائے۔ اس سے دو اہم باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ مسلمانوں کی عداوت کی بنیاد محض کفر نہیں بلکہ اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام نے دوران جنگ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، عبادت گزار اور درویش قسم کے لوگوں اور جنگ میں شریک نہ ہونے والے کافروں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ اور دوسری یہ کہ اسلام ایک حق پسند، انصاف پسند اور امن پسند دین ہے۔ جو صرف ان لوگوں سے تعرض کرتا ہے۔ جو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں یا اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کفار سے محبت کی ممانعت کی دوبارہ تاکید ٭٭
کافروں سے محبت رکھنے کی ممانعت اور ان کی بغض و عداوت کے بیان کے بعد اب ارشاد ہوتا ہے کہ بسا اوقات ممکن ہے کہ ابھی ابھی اللہ تم میں اور ان میں میل ملاپ کرا دے، بغض، نفرت اور فرقت کے بعد محبت موّدت اور الفت پیدا کر دے، کون سی چیز ہے جس پر اللہ قادر نہ ہو؟ وہ متبائن اور مختلف چیزوں کو جمع کر سکتا ہے، عداوت و قساوت کے بعد دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دینا اس کے ہاتھ ہے۔
جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا» [3-آل عمران:103] الخ ’ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہو گئے جیسے ماں جائے بھائی ہوں تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ ‘
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم متفرق تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کر دیا۔“ } [صحیح بخاری:4330]
جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا» [3-آل عمران:103] الخ ’ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہو گئے جیسے ماں جائے بھائی ہوں تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ ‘
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم متفرق تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کر دیا۔“ } [صحیح بخاری:4330]
قرآن کریم میں ہے «هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [8-الأنفال:63] ’ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد سے مومنوں کو ساتھ کر کے، اے نبی! تیری مدد کی اور ایمان داروں میں آپس میں وہ محبت اور یکجہتی پیدا کر دی کہ اگر روئے زمین کی دولت خرچ کرتے اور یگانگت پیدا کرنا چاہتے تو وہ نہ کر سکتے یہ الفت منجانب اللہ تھی جو عزیز و حکیم ہے ‘۔
{ ایک حدیث میں ہے دوستوں کی دوستی کے وقت بھی اس بات کو پیش نظر رکھو کہ کیا عجب اس سے کسی وقت دشمنی ہو جائے اور دشمنوں کی دشمنی میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو کیا خبر کب دوستی ہو جائے۔ } [سنن ترمذي:1997،قال الشيخ الألباني:صحیح]
عرب شاعر کہتا ہے «وَقَدْ يَجْمَع اللَّه الشَّتِيتَيْنِ بَعْد مَا» «يَظُنَّانِ كُلّ الظَّنّ أَنْ لَا تَلَاقِيَا» یعنی ایسے دو دشمنوں میں بھی جو ایک سے ایک جدا ہوں اور اس طرح کہ دل میں گرہ دے لی ہو کہ ابد الآباد تک اب کبھی نہ ملیں گے اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کر دیتا ہے اور اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ گویا کبھی دو نہ تھے، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، کافر جب توبہ کریں تو اللہ قبول فرما لے گا جب وہ اس کی طرف جھکیں وہ انہیں اپنے سائے میں لے لے گا، کوئی سا گناہ ہو اور کوئی سا گنہگار ہو مالک کی طرف جھکا ادھر اس کی رحمت کی آغوش کھلی۔
{ ایک حدیث میں ہے دوستوں کی دوستی کے وقت بھی اس بات کو پیش نظر رکھو کہ کیا عجب اس سے کسی وقت دشمنی ہو جائے اور دشمنوں کی دشمنی میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو کیا خبر کب دوستی ہو جائے۔ } [سنن ترمذي:1997،قال الشيخ الألباني:صحیح]
عرب شاعر کہتا ہے «وَقَدْ يَجْمَع اللَّه الشَّتِيتَيْنِ بَعْد مَا» «يَظُنَّانِ كُلّ الظَّنّ أَنْ لَا تَلَاقِيَا» یعنی ایسے دو دشمنوں میں بھی جو ایک سے ایک جدا ہوں اور اس طرح کہ دل میں گرہ دے لی ہو کہ ابد الآباد تک اب کبھی نہ ملیں گے اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کر دیتا ہے اور اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ گویا کبھی دو نہ تھے، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، کافر جب توبہ کریں تو اللہ قبول فرما لے گا جب وہ اس کی طرف جھکیں وہ انہیں اپنے سائے میں لے لے گا، کوئی سا گناہ ہو اور کوئی سا گنہگار ہو مالک کی طرف جھکا ادھر اس کی رحمت کی آغوش کھلی۔
مقاتل بن حیان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کی صاحبزادی صاحبہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا تھا اور یہی مناکحت حجت کا سبب بن گئی، لیکن یہ قول کچھ جی کو نہیں لگتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نکاح فتح مکہ سے بہت پہلے ہوا تھا اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا اسلام بالاتفاق فتح مکہ کی رات کا ہے، بلکہ اس سے بہت اچھی توجیہ تو وہ ہے جو ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کو کسی باغ کے پھلوں کا عامل بنا رکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد یہ آ رہے تھے کہ راستے میں ذوالحمار مرتد مل گیا، آپ نے اس سے جنگ کی اور باقاعدہ لڑے، پس مرتدین سے پہلے پہل لڑائی لڑنے والے مجاہد فی الدین آپ رضی اللہ عنہ ہیں، ابن شہاب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انہی کے بارے میں یہ آیت «عَسَى اللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً وَاللَّهُ قَدِيرٌ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [الممتحنہ:7]، اتری ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میری تین درخواستیں ہیں اگر اجازت ہو تو عرض کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو“ اس نے کہا، اول تو یہ کہ مجھے اجازت دیجئیے کہ جس طرح میں کفر کے زمانے میں مسلمانوں سے مسلسل جنگ کرتا رہا اب اسلام کے زمانہ میں کافروں سے برابر لڑائی جاری رکھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منظور فرمایا، پھر کہا: میرے لڑکے معاویہ کو اپنا منشی بنا لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی منظور فرمایا [اس پر جو کلام ہے وہ پہلے گزر چکا ہے] اور میری بہترین عرب بچی ام حبیبہ کو آپ اپنی زوجیت میں قبول فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی منظور فرما لیا۔ } [صحیح مسلم:2501] [اس پر بھی کلام پہلے گزر چکا ہے]۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جن کفار نے تم سے مذہبی لڑائی نہیں کی، نہ تمہیں جلا وطن کیا جیسے عورتیں اور کمزور لوگ وغیرہ ان کے ساتھ سلوک و احسان اور عدل و انصاف کرنے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ایسے باانصاف لوگوں سے محبت رکھتا ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مشرک ماں آئیں یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح نامہ ہو چکا تھا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھتی ہیں کہ میری ماں آئی ہوئی ہیں اور اب تک وہ اس دین سے الگ ہیں کیا مجھے جائز ہے کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں،جاؤ ان سے صلہ رحمی کرو۔“ [صحیح بخاری:2620]
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جن کفار نے تم سے مذہبی لڑائی نہیں کی، نہ تمہیں جلا وطن کیا جیسے عورتیں اور کمزور لوگ وغیرہ ان کے ساتھ سلوک و احسان اور عدل و انصاف کرنے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ایسے باانصاف لوگوں سے محبت رکھتا ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مشرک ماں آئیں یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح نامہ ہو چکا تھا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھتی ہیں کہ میری ماں آئی ہوئی ہیں اور اب تک وہ اس دین سے الگ ہیں کیا مجھے جائز ہے کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں،جاؤ ان سے صلہ رحمی کرو۔“ [صحیح بخاری:2620]
مسند کی اس روایت میں ہے کہ ان کا نام قتیلہ تھا، یہ مکہ سے گوہ، پنیر اور گھی بطور تحفہ لے کر آئی تھیں، لیکن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنی مشرکہ ماں کو نہ تو اپنے گھر میں آنے دیا، نہ یہ تحفہ ہدیہ قبول کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت پر ہدیہ بھی لیا اور اپنے ہاں ٹھہرایا بھی، بزار کی حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ام رومان تھا اور وہ اسلام لا چکی تھیں اور ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائی تھیں، ہاں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی والدہ ام رومان نہ تھیں، چنانچہ ان کا نام قتیلہ اوپر کی حدیث میں مذکور ہے۔ [مسندبزار2/365ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«مُقْسِطِينَ» کی تفسیر سورۃ الحجرات میں گزر چکی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، حدیث میں ہے «مُقْسِطِينَ» وہ لوگ ہیں جو عدل کے ساتھ حکم کرتے ہیں گو اہل و عیال کا معاملہ ہو یا زیر دستوں کا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ [صحیح مسلم:1827]
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ممانعت تو ان لوگوں کی دوستی سے ہے جو تمہاری عداوت سے تمہارے مقابل نکل کھڑے ہوئے، تم سے صرف تمہارے مذہب کی وجہ سے لڑے جھگڑے، تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا، تمہارے دشمنوں کی مدد کی۔ پھر مشرکین سے اتحاد و اتفاق، دوستی، یکجہتی رکھنے والے کو دھمکاتا ہے اور اس کا گناہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے والے ظالم گناہ گار ہیں اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [5-المائدہ:51] یہودیوں نصرانیوں سے دوستی کرنے والا ہمارے نزدیک انہی جیسا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ممانعت تو ان لوگوں کی دوستی سے ہے جو تمہاری عداوت سے تمہارے مقابل نکل کھڑے ہوئے، تم سے صرف تمہارے مذہب کی وجہ سے لڑے جھگڑے، تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا، تمہارے دشمنوں کی مدد کی۔ پھر مشرکین سے اتحاد و اتفاق، دوستی، یکجہتی رکھنے والے کو دھمکاتا ہے اور اس کا گناہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے والے ظالم گناہ گار ہیں اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [5-المائدہ:51] یہودیوں نصرانیوں سے دوستی کرنے والا ہمارے نزدیک انہی جیسا ہے۔