ترجمہ و تفسیر — سورۃ الممتحنة (60) — آیت 12

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ عَلٰۤی اَنۡ لَّا یُشۡرِکۡنَ بِاللّٰہِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡرِقۡنَ وَ لَا یَزۡنِیۡنَ وَ لَا یَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ وَ لَا یَاۡتِیۡنَ بِبُہۡتَانٍ یَّفۡتَرِیۡنَہٗ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِنَّ وَ اَرۡجُلِہِنَّ وَ لَا یَعۡصِیۡنَکَ فِیۡ مَعۡرُوۡفٍ فَبَایِعۡہُنَّ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُنَّ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾
اے نبی! جب تیرے پاس مومن عورتیں آئیں، تجھ سے بیعت کرتی ہوں کہ وہ نہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ کوئی بہتان لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہی ہوں اور نہ کسی نیک کام میں تیری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کر۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اے پیغمبر! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ شرک کریں گی نہ چوری کریں گی نہ بدکاری کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے پیغمبر! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وه اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالیں گی اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ …:} عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان کیا کہ جو مومن عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آتیں آپ ان کا امتحان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ لیتے تھے: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ‏‏‏‏ تو ان مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرماتے: [قَدْ بَايَعْتُكِ] میں نے تم سے بیعت لے لی۔ صرف کلام کے ساتھ اور اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے بیعت لیتے وقت کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، آپ ان سے صرف ان الفاظ کے ساتھ بیعت لیتے تھے: [قَدْ بَايَعْتُكِ عَلٰی ذٰلِكَ] [بخاري، التفسیر، سورۃ الممتحنۃ، باب: «إذا جاء کم المؤمنات مھاجرات» : ۴۸۹۱] میں نے ان باتوں پر تم سے بیعت لے لی۔ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں چند عورتوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے بیعت کرنے کے لیے آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے قرآن کی اس آیت کے مطابق بیعت لی: «‏‏‏‏عَلٰۤى اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْـًٔا …» اور فرمایا: [فِيْمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ] جتنی تم استطاعت اور طاقت رکھو۔ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والے ہیں۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ ہم سے مصافحہ نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنِّيْ لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِيْ لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ كَقَوْلِيْ لِمِائَةِ امْرَأَةٍ] [مسند أحمد: 357/6، ح: ۲۷۰۰۹۔ ترمذي، السیر، باب ما جاء في بیعۃ النساء: ۱۵۹۷، وصححہ الترمذي والألباني] میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میری بات ایک عورت سے اسی طرح ہے جیسے ایک سو عورتوں سے ہو۔
➋ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت جیسے اہم موقع پر کسی عورت سے مصافحہ نہیں کیا تو کسی اور کے لیے غیر محرم عورت سے مصافحہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ کفار کی تقلید میں غیر محرم عورتوں سے مصافحے کا رواج اور تقدس کے پردے میں پیروں کا اجنبی عورتوں سے مصافحہ دونوں حرام ہیں، کیونکہ نیت کے خلل کے ساتھ وہ زنا کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں اور سد ذرائع (گناہ کے ذریعوں سے روکنا) شریعت کا مسلّم اصول ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الْاِسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوٰی وَيَتَمَنّٰی وَيُصَدِّقُ ذٰلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ] [مسلم، القدر، باب قدر علی ابن آدم حظہ من الزنی وغیرہ: ۲۱ /۲۶۵۷] پس آنکھیں، ان کا زنا دیکھنا ہے اور کان، ان کا زنا توجہ سے سننا ہے اور زبان، اس کا زنا کلام ہے اور ہاتھ، اس کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں، اس کا زنا چلنا ہے اور دل خواہش کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اس کی تکذیب کر دیتی ہے۔
➌ جاہلی معاشرے میں اللہ کے ساتھ شرک، چوری، زنا، قتل اولاد اور بہتان کا رواج عام تھا، اس لیے ان کا خاص طور پر ذکر کر کے ان سے منع فرمایا، جیسا کہ وفد عبدالقیس کو خاص طور پر ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا جن میں شراب بنائی جاتی تھی، کیونکہ وہ مسلمان ہو چکے تھے مگر ابھی تک ان میں شراب نوشی کا رواج باقی تھا۔ رہی دوسری منع کردہ چیزیں یا وہ چیزیں جن پر عمل کا حکم دیا ہے، تو وہ سب { وَ لَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ } میں آگئی ہیں۔ یہاں چونکہ عورتوں کی آمد کا ذکر ہے اس لیے ان کا نام لیا، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں سے بھی انھی باتوں پر بیعت لیتے تھے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر جب آپ کے گرد آپ کے اصحاب کی ایک جماعت موجود تھی فرمایا: [بَايِعُوْنِيْ عَلٰی أَنْ لاَ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوْا، وَلاَ تَزْنُوْا، وَلاَ تَقْتُلُوْا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُوْا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُوْا فِيْ مَعْرُوْفٍ، فَمَنْ وَفٰی مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَی اللّٰهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا فَعُوْقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللّٰهُ فَهُوَ إِلَی اللّٰهِ، إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَ إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ، فَبَايَعْنَاهُ عَلٰی ذٰلِكَ] [بخاري، الإیمان، باب علامۃ الإیمان حب الأنصار: ۱۸] مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور زنا نہیں کرو گے اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور کوئی بہتان نہیں لاؤ گے جسے تم اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ کر لا رہے ہو گے اور کسی نیک کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ پھر تم میں سے جس نے اس عہد کو پورا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کر لیا، پھر اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے گناہ دور کرنے کا باعث ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کیا، پھر اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ کے سپرد ہے، اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے سزا دے۔ تو ہم نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔
حدیبیہ اور فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے ان باتوں پر بیعت لی ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقع پر مردوں کو خطبہ دینے کے بعد عورتوں کی طرف آئے اور فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ …» پھر جب آپ آیت کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا: [آنْتُنَّ عَلٰی ذٰلِكَ؟] کیا تم اس پر قائم ہو؟ ان میں سے ایک عورت نے کہا، جس کے سوا کسی نے جواب نہیں دیا: [نَعَمْ] جی ہاں! [بخاري، العیدین، باب موعظۃ الإمام النساء یوم العید: ۹۷۹]
➍ { وَ لَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ:} اس میں حمل گرانا بھی شامل ہے، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔
➎ { وَ لَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ: بُهْتَانٌ} کسی کے ذمے گھڑ کر لگایا ہوا جھوٹ جسے سن کر وہ مبہوت اور ششدر رہ جائے۔ اکثر مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کا بچہ لا کر خاوند اور دوسرے لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرے کہ اس کی ولادت اس کے شکم سے ہوئی ہے، خواہ وہ کوئی گرا ہوا بچہ اٹھا کر لے آئی ہو یا کسی اور طرح سے لے آئی ہو۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب خاوند مدت تک غائب رہا ہو، یا خاوند کے بجائے کسی اور سے بچے کو جنم دے کر اسے خاوند کا بچہ ظاہر کرے۔ { بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ } (ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان) کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ولادت عورت کے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان ہوتی ہے۔ مگر بہتان کو انھی صورتوں کے ساتھ خاص کرنا مشکل ہے، کیونکہ ایک تو بہتان کا لفظ عام ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے بیعت لی تو ان کے لیے بھی یہ الفاظ استعمال فرمائے: [وَلاَ تَأْتُوْا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ] [بخاري: ۱۸] اور نہ تم کوئی بہتان لاؤ گے جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہے ہوں۔ جیسا کہ پچھلے فائدے میں یہ حدیث گزری ہے۔ ظاہر ہے بہتان کی یہ صورتیں مردوں سے متعلق تصور نہیں کی جا سکتیں۔ عربی زبان میں {بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ} کا معنی سامنے ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۵۵] وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے۔ { وَأَرْجُلِهِمْ} کا لفظ اس کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے اس کا سادہ مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس بات کا وجود ہی نہیں اسے گھڑ کر پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے سامنے لا کر پیش نہ کر دیا کریں۔ اور یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ اس بات کی پروا نہ کرتے ہوئے کہ قیامت کے دن ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف شہادت دیں گے، وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے کسی پر بہتان نہ لگا دیا کریں، بلکہ انھیں چاہیے کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ چار گواہوں کی موجودگی میں بہتان لگا رہی ہیں۔ اس مطلب کی تائید دوسری جگہ بہتان باندھنے والوں کے ملعون ہونے کے سلسلے میں ہاتھوں اور پاؤں کی شہادت کے ذکر سے ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (23) يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (24) يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ وَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ» ‏‏‏‏ [النور: ۲۳ تا ۲۵] بے شک وہ لوگ جو پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اس دن اللہ انھیں ان کا صحیح بدلا پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے، جو ظاہر کرنے والا ہے۔ الغرض آیت میں بہتان کی ایک صورت نہیں بلکہ ہر قسم کے بہتان سے اجتناب کا عہد لیا گیا ہے۔
➏ { وَ لَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ:} اس جملے میں پوری شریعت پر عمل کا اقرار آگیا۔ اس اقرار میں { فِيْ مَعْرُوْفٍ } کی شرط لگانے کی کئی توجیہیں ہیں، ایک یہ کہ اس سے اس بات کی صراحت مقصود ہے کہ رسول حکم ہی معروف کا دیتا ہے، پھر اس کی معصیت کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔ دوسری یہ کہ اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم معروف کے سوا ہو ہی نہیں سکتا، مگر اس کے ساتھ { مَعْرُوْفٍ } (نیک) ہونے کی قید اس لیے لگائی تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ مخلوق کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام میں جائز نہیں، یہاں تک کہ رسول کی اطاعت بھی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ تیسری یہ کہ یہاں معاملہ عورتوں کا ہے، ان کو مطلق اطاعت کے حکم سے کہ وہ آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کریں گی، شیطان کسی کے دل میں گمراہی کا وسوسہ پیدا کر سکتا تھا، اس کا راستہ روکنے کے لیے یہ قید لگا دی۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کئی صورتیں مروی ہیں، جن میں سے ایک اسلام کی بیعت ہے، ایک جہاد کی، ایک بعض باتوں کی پابندی کی، مثلاً یہ کہ وہ کسی سے سوال نہیں کریں گے اور ایک کبائر سے توبہ اور اطاعت کے عہد کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام سے یہ تو ثابت ہے کہ انھوں نے لوگوں سے اسلام لانے کی بیعت لی اور امراء سے اطاعت کی بیعت کی، مگر خلیفہ یا امیر کے علاوہ کسی اور شخص کا لوگوں سے اپنا مرید بنانے کی بیعت لینا، جیسا کہ صوفیہ کا طریقہ ہے، صحابہ کرام کے دور بلکہ پورے خیر القرون میں ثابت نہیں، کیونکہ اس سے مسلمانوں میں فرقے اور گروہ پیدا ہوتے ہیں۔ پھر یہ معاملہ نقشبندی، سہروردی، چشتی اور قادری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہر ایک اپنی الگ گدی اور الگ حلقہ قائم کر لیتا ہے جو صرف اس کے حکم کا پابند ہوتا ہے اور ہر پیر و مرشد کا تقاضا ہوتا ہے کہ مرید کا علم چونکہ ناقص ہے اس لیے اگر اس کا مرشد اسے شریعت کے صریح خلاف حکم دے تو وہ بھی اس کے لیے ماننا ضروری ہے، کیونکہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان حضرات نے { فِيْ مَعْرُوْفٍ } کی قید بھی اڑا دی، چنانچہ ان کے لسان الغیب حافظ شیرازی کہہ گئے ہیں:
بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود زراہ و رسم منزلہا
اگر پیر مغاں تمھیں حکم دیتا ہے تو مصلے کو شراب سے رنگ لو، کیونکہ سالک منزلوں کے راہ و رسم سے بے خبر نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیری مریدی کا یہ سلسلہ امت کے کتاب و سنت سے دوری اور اس کے باہمی افتراق کا خوف ناک باعث ہے۔ آپ لاکھ قرآن و سنت سنائیں، پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا یہی کہے گا کہ کیا ہمارے پیر کو یہ معلوم نہیں۔ رہی یہ بات کہ ہم بطور استاذ اور ہادی پیر کی بیعت کرتے ہیں، تو ایک تو اس کے لیے بیعت کی ضرورت نہیں، پھر اپنے آپ کو ایک ہی استاذ اور ہادی کے حکم کا پابند بنانا کہاں سے ثابت ہوا؟ آپ متعدد اساتذہ اور رہنماؤں سے تعلیم اور رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں اور کرنی چاہیے۔ ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہر صورت ہی درست تھی، کیونکہ وہ نبی تھے، ان کے ہوتے کسی اور کی بیعت نہ تھی اور نہ ہی اس سے افتراق یا انتشار پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ پھر خلیفہ اور امیر کی بیعت درست ہے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے اور ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی بیعت جائز نہیں۔
➑ { فَبَايِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں تو آپ ان کی بیعت قبول کر لیں اور اس سے پہلے ان سے جو لغزشیں ہوئیں یا آئندہ بشری کمزوری کی بنا پر ہوں گی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 یہ بیعت اس وقت لیتے جب عورتیں ہجرت کرکے آتیں جیسا کہ صحیح بخاری تفسیر سورة ممتحنہ میں ہے علاوہ ازیں فتح مکہ والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی عورتوں سے بیعت لی بیعت لیتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے عہد لیتے کسی عورت کے ہاتھ کو آپ نہیں چھوتے تھے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں اللہ کی قسم بیعت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا بیعت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ فرماتے کہ میں نے ان باتوں پر تجھ سے بیعت لے لی۔ صحیح بخاری۔ بیعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ عہد بھی عورتوں سے لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی گریبان چاک نہیں کریں گی سر کے بال نہیں نوچیں گی اور جاہلیت کی طرح بین نہیں کریں گی۔ صحیح بخاری۔ اس بیعت میں نماز روزہ حج اور زکوٰۃ وغیرہ کا ذکر نہیں ہے اس لیے کہ یہ ارکان دین اور شعائراسلام ہونے کے اعتبار سے محتاج وضاحت نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص ان چیزوں کی بیعت لی جن کا عام ارتکاب عورتوں سے ہوتا تھا تاکہ وہ ارکان دین کی پابندی کے ساتھ ان چیزوں سے بھی اجتناب کریں اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ علماودعاۃ اور واعظین حضرات اپنا زور خطابت ارکان دین کے بیان کرنے میں ہی صرف نہ کریں جو پہلے ہی واضح ہیں بلکہ ان خرابیوں اور رسموں کی بھی پر زور انداز میں تردید کیا کریں جو معاشرے میں عام ہیں اور نماز روزے کے پابند حضرات بھی ان سے اجتناب نہیں کرتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ان امور پر بیعت [25] کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گی، نہ چوری کریں گی، نہ زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل [26] کریں گی، اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آگے [27] کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی نیک امر میں آپ کی نافرمانی [28] نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت کر لیجئے [29] اور ان کے لئے اللہ سے معافی مانگئے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً بخشنے والا ہے رحم کرنے والا ہے
[25] عورتوں کی بیعت کن باتوں پر :۔
یعنی امتحان کے بعد ان مہاجر عورتوں کو نیز عام مسلمان عورتوں کو بیعت کا حکم ہوا۔ اور یہ بیعت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیں گے۔ کیونکہ اس آیت کے مخاطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اور جن گناہوں سے اجتناب پر بیعت لی جائے گی وہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔ ان میں سب سے بڑا گناہ تو شرک ہے جو بالخصوص اللہ کے حق سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے سب گناہ حدی جرائم ہیں۔ اور حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پانچ گناہوں میں سے شرک کے علاوہ باقی چار گناہ ایسے ہیں جن پر حد لگتی ہے۔ یہ تو وہ گناہ ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کئی ایسے گناہ کے کاموں سے اجتناب پر بیعت لیتے تھے جن کا ذکر احادیث میں مذکور ہے۔ اور یہ سب ایسے جرائم ہیں جن کا عرب میں عام رواج تھا۔
[26] جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا کہ رسمی ننگ و عار کی وجہ سے لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ یا فقر و فاقہ کے خوف کی وجہ سے لڑکیوں کے علاوہ لڑکوں کو بھی مار ڈالتے تھے۔ نیز اس میں اسقاط حمل بھی شامل ہے۔ خواہ یہ جائز حمل کا اسقاط ہو یا ناجائز حمل کا۔
[27] بہتان کی قسمیں :۔
اس بہتان کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ ایک تو معروف و مشہور ہے یعنی کوئی عورت دوسری عورت پر کسی غیر مرد سے آشنائی کا الزام لگا دے جسے عموماً تہمت کہا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ خود زانیہ ہو، بچہ تو کسی دوسرے کا جنے اور شوہر کو یہ یقین دلائے کہ یہ تیرا ہی ہے۔ تیسری یہ کہ کسی دوسری عورت کی اولاد لے کر مکر و فریب سے اپنی طرف منسوب کر لے۔
[28] بیعت کا سلسلہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ امت کا امیر اور دوسرے بزرگ حضرات بھی بیعت لے سکتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اطاعت کے ساتھ معروف کی شرط بھی لگا دی۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ناممکن تھا کہ آپ کسی غیر معروف یا معصیت کے کام پر بیعت لیں اس سلسلہ میں آپ نے ایک واضح قانون ان الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ:
﴿لا طاعة فى معصية انما الطاعة فى المعروف﴾ [متفق عليه]
یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کام ہو تو کسی کی بھی اطاعت ضروری نہیں۔
اطاعت صرف بھلائی کے کاموں میں ہوتی ہے۔ اس آیت سے دوسری بات جو مستنبط ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی ہر بات واجب الاتباع ہے خواہ اس کا ذکر قرآن میں موجود ہو یا نہ ہو۔
[29] عورتوں سے بیعت کا طریقہ :۔
آپ جب مردوں سے بیعت لیتے تو بیعت کرنے والا ہاتھ میں ہاتھ دے کر عہد کرتا تھا۔ لیکن عورتوں کے لیے یہ طریقہ نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے عہد لے کر کہہ دیتے کہ بس تمہاری بیعت ہو گئی۔ اور کبھی ایک چادر کا ایک سرا آپ پکڑے دوسرا بیعت کرنے والی عورت پکڑ کر عہد کرتی اور کبھی آپ پانی کے کسی پیالہ وغیرہ میں ہاتھ ڈالتے۔ پھر بیعت کرنے والی عورت دوسرے سرے سے ڈال دیتی اور جن باتوں پر آپ عورتوں سے یا مردوں سے بیعت لیتے رہے اس کی تفصیل کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
بیعت سے متعلق چند احادیث :۔
1۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ جو عورتیں ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے مطابق ان کا امتحان لیتے۔ پھر جو عورت ان شرطوں کو قبول کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبان سے ہی فرما دیتے کہ میں نے تجھ سے بیعت کی۔ اللہ کی قسم! بیعت لیتے وقت آپ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
میت پر نوحہ کی مخالفت :۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت سنائی۔ پھر ہم کو مردے پر نوحہ کرنے سے منع فرمایا تو ایک عورت (یہ خود ام عطیہ ہی تھی) نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور کہنے لگی: فلاں عورت نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی میں اس کا بدلہ اتار لوں۔ یہ سن کر آپ خاموش رہے۔ وہ چلی گئی۔ پھر (نوحہ کر کے) واپس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی۔ [حواله ايضاً]
3۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ میں نے عید کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ سب کے ساتھ پڑھی۔ آپ خطبہ سے پہلے نماز پڑھاتے پھر اس کے بعد خطبہ سناتے تھے۔ خطبہ کے بعد آپ منبر سے اترے گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔ پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے عورتوں کے پاس آئے۔ بلالؓ آپ کے ساتھ تھے۔ اور ان کے سامنے یہ (بیعت والی) پوری آیت پڑھی۔ اس سے فراغت کے بعد عورتوں سے پوچھا: ”کیا ان شرطوں پر قائم ہوتی ہو؟“ ایک عورت کے سوا کسی نے کوئی جواب نہ دیا (شرما گئیں) اس عورت (اسما بنت یزید) نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ وہ صدقہ کریں۔ بلالؓ نے اپنا کپڑا بچھا دیا۔ اور وہ چھلے اور انگوٹھیاں بلالؓ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [حواله ايضاً]
4۔ سیدنا عبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لیلۃ العقبہ) میں ہم سے فرمایا: تم مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرتے ہو۔ ﴿أنْ لاَ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ شَيْئًا وَلاَ تَزْنُوْا وَلاََ تَسْرِقُوْا پھر جو ان شرطوں کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ پر ہے اور جو کوئی کام کر بیٹھے پھر اس پر حد لگ جائے تو وہ اس کے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا اور اگر کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کا گناہ چھپا دے تو پھر قیامت کے دن اللہ اگر چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ [حواله ايضاً]
بیعت کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا کہ آپ ان بیعت کرنے والیوں کے حق میں دعائے مغفرت بھی کیا کریں۔ کہ ان امور میں ان سے جو کوتاہیاں پہلے ہو چکی ہیں۔ یا آئندہ اس عہد کی تعمیل میں کچھ تقصیر رہ جائے تو اللہ انہیں معاف فرما دے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

خواتین کا طریقہ بیعت ٭٭
صحیح بخاری میں ہے { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو مسلمان عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتی تھیں ان کا امتحان اسی آیت سے ہوتا تھا، جو عورت ان تمام باتوں کا اقرار کر لیتی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زبانی فرما دیتے کہ میں نے تم سے بیعت کی یہ نہیں کہ آپ ان کے ہاتھ سے ہاتھ ملاتے ہوں اللہ کی قسم آپ نے کبھی بیعت کرتے ہوئے کسی عورت کے ہاتھ کو ہاتھ نہیں لگایا صرف زبانی فرما دیتے کہ ان باتوں پر میں نے تیری بیعت لی }۔ [صحیح بخاری:4891]‏‏‏‏
ترمذی، نسائی ابن ماجہ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کئی ایک عورتوں کے ساتھ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوئی تو قرآن کی اس آیت کے مطابق آپ نے ہم سے عہد و پیمان لیا اور ہم بھلی باتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں گی کے اقرار کے وقت فرمایا یہ بھی کہہ لو کہ جہاں تک تمہاری طاقت ہے، ہم نے کہا: اللہ کو اور اس کے رسول کو ہمارا خیال ہم سے بہت زیادہ ہے اور ان کی مہربانی بھی ہم پر خود ہماری مہربانی سے بڑھ چڑھ کر ہے، پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہم سے مصافحہ نہیں کرتے؟ فرمایا: نہیں، میں غیر عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتا میرا ایک عورت سے کہہ دینا سو عورتوں کی بیعت کے لیے کافی ہے، بس بیعت ہو چکی، امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن صحیح کہتے ہیں، مسند احمد میں اتنی زیادتی اور بھی ہے کہ ہم میں سے کسی عورت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصافحہ نہیں کیا، [سنن ترمذي:1598،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
یہ سیدہ امیمہ، خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خالہ ہیں، مسند احمد میں سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ تھیں اور دونوں قبلوں کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی تھی، جو بنو عدی بن نجار کے قبیلہ میں سے تھیں، فرماتی ہیں: انصار کی عورتوں کے ساتھ خدمت نبوی میں بیعت کرنے کے لیے میں بھی آئی تھی اور اس آیت میں جن باتوں کا ذکر ہے ان کا ہم نے اقرار کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کا بھی اقرار کرو کہ اپنے خاوندوں کی خیانت اور ان کے ساتھ دھوکہ نہ کرو گی، ہم نے اس کا بھی اقرار کیا بیعت کی اور جانے لگیں پھر مجھے خیال آیا اور ایک عورت کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ دریافت کر لیں کہ خیانت و دھوکہ نہ کرنے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ اس کا مال چپکے سے کسی اور کو نہ دو۔‏‏‏‏ [مسند احمد:6/379ضعیف]‏‏‏‏
مسند کی حدیث میں ہے { سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنی والدہ رایطہ بنت سفیان نزاعیہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں پر بیعت لے رہے تھے اور عورتیں ان کا اقرار کرتی تھیں میری والدہ کے فرمان سے میں نے بھی اقرار کیا اور بیعت والیوں میں شامل ہوئی }، [صحیح بخاری:4892]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں { سیدہ ام عطیہ سے منقول ہے کہ ہم نے ان باتوں پر اور اس امر پر کہ ہم کسی مرے پر نوحہ نہ کریں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، اسی اثناء میں ایک عورت نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور کہا میں نوحہ کرنے سے باز رہنے پر بیعت نہیں کرتی اس لیے کہ فلاں عورت نے میرے فلاں مرے پر نوحہ کرنے میں میری مدد کی ہے تو میں اس کا بدلہ ضرور اتاروں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر خاموش ہو رہے اور کچھ نہ فرمایا وہ چلی گئیں لیکن پھر تھوڑی ہی دیر میں واپس آئیں اور بیعت کر لی۔
مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے اور اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس شرط کو صرف اس عورت نے اور سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے ہی پورا کیا، [صحیح بخاری:4892]‏‏‏‏
بخاری کی اور روایت میں ہے کہ { پانچ عورتوں نے اس عہد کو پورا کیا، ام سلیم، ام علام، ابوسبرہ کی بیٹی جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور دو عورتیں اور یا ابوسبرہ کی بیٹی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ایک عورت اور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید والے دن بھی عورتوں سے اس بیعت کا معاہدہ لیا کرتے تھے }، [صحیح بخاری:1306]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رمضان کی عید کی نماز میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑھی ہے سب کے سب خطبے سے پہلے نماز پڑھتے تھے، پھر نماز کے بعد خطبہ کہتے تھے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبے سے اترے گویا وہ نقشہ میری نگاہ کے سامنے ہے کہ لوگوں کو بٹھایا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے تشریف لا رہے تھے، یہاں تک کہ عورتوں کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے یہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [الممتحنہ:12]‏‏‏‏ کی تلاوت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم اپنے اس اقرار پر ثابت قدم ہو ایک عورت نے کھڑے ہو کر جواب دیا کہ ہاں، اے اللہ کے رسول! اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں کسی اور نے جواب نہیں دیا، راوی حدیث حسن رحمہ اللہ کو یہ معلوم نہیں کہ یہ جواب دینے والی کون سی عورت تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خیرات کرو اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا چنانچہ عورتوں نے اس پر بےنگینہ کی اور نگینہ دار انگوٹھیاں راہ اللہ ڈال دیں }۔ [صحیح بخاری:4895]‏‏‏‏
مسند احمد کی روایت میں { سیدہ امیمہ رضی اللہ عنہا کی بیعت کے ذکر میں آیت کے علاوہ اتنا اور بھی ہے کہ نوحہ کرنا اور جاہلیت کے زمانہ کی طرح اپنا بناؤ سنگھار غیر مردوں کو نہ دکھانا }،[مسند احمد:196/2:صحیح]‏‏‏‏
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے بھی ایک مجلس میں فرمایا کہ مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرو جو اس آیت میں ہیں، جو شخص اس بیعت کو نبھا دے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو اس کے خلاف کر گزرے اور وہ مسلم حکومت سے پوشیدہ رہے اس کا حساب اللہ کے پاس ہے اگر چاہے بخش دے اور اگر چاہے عذاب کرے }۔ [صحیح بخاری:18]‏‏‏‏
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عقبہ اولیٰ میں ہم بارہ شخصوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور انہی باتوں پر جو اس آیت میں مذکور ہیں آپ نے ہم سے بیعت لی اور فرمایا: اگر تم اس پر پورے اترے تو یقیناً تمہارے لیے جنت ہے، یہ واقعہ جہاد کی فرضیت سے پہلے کا ہے۔
ابن جریر کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عورتوں سے کہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے اس بات پر بیعت لیتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، ان کی بیعت کے لیے آنے والیوں میں سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا تھیں، عقبہ بن ربیعہ کی بیٹی اور سفیان کی بیوی یہی تھیں جنہوں نے اپنے کفر کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چیر دیا تھا اس وجہ سے یہ ان عورتوں میں ایسی حالت سے آئی تھیں کہ کوئی انہیں پہچان نہ سکے اس نے جب فرمان سنا تو کہنے لگی میں کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن اگر بولوں گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہچان لیں گے اور اگر پہچان لیں گے تو میرے قتل کا حکم دے دیں گے، میں اسی وجہ سے اس طرح آئی ہوں کہ نہ پہچانی جاؤں، مگر اور عورتیں سب خاموش رہیں اور ان کی بات اپنی زبان سے کہنے سے انکار کر دیا، آخر ان ہی کو کہنا پڑا کہ یہ ٹھیک ہے جب شرک کی ممانعت مردوں کو ہے تو عورتوں کو کیوں نہ ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ان سے کہہ دو کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہ چوری نہ کریں، اس پر ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں ابوسفیان کی معمولی سی چیز کبھی کبھی لے لیا کرتی ہوں کیا یہ بھی چوری میں دخل ہے یا نہیں؟ اور میرے لیے یہ حلال بھی ہے یا نہیں؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بھی اسی مجلس میں موجود تھے، یہ سنتے ہی کہنے لگے، میرے گھر میں جو کچھ بھی تو نے لیا ہو خواہ وہ خرچ میں آ گیا ہو یا اب بھی باقی ہو وہ سب میں تیرے لیے حلال کرتا ہوں، اب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف پہچان لیا کہ یہ میرے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قاتلہ اور اس کے کلیجے کو چیرنے والی پھر اسے چبانے والی عورت ہندہ رضی اللہ عنہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہچان کر اور ان کی یہ گفتگو دیکھ کر مسکرا دیئے اور انہیں اپنے پاس بلایا انہوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام کر معافی مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہی ہندہ ہو؟ انہوں نے کہا: گزشتہ گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے اور بیعت کے سلسلہ میں پھر لگ گئے اور فرمایا: تیسری بات یہ ہے کہ ان عورتوں میں سے کوئی بدکاری نہ کرے، اس پر سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا کوئی آزاد عورت بھی بدکاری کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اللہ کی قسم آزاد عورتیں اس برے کام سے ہرگز آلود نہیں ہوتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: چوتھی بات یہ ہے کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں ہندہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے انہیں بدر کے دن قتل کیا ہے، آپ جانیں اور وہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچویں بات یہ ہے کہ خود اپنی ہی طرف سے جوڑ کر بےسر پیر کا کوئی خاص بہتان نہ تراش لیں اور چھٹی بات یہ ہے کہ میری شرعی باتوں میں میری نافرمانی نہ کریں اور ساتواں عہد آپ نے ان سے یہ بھی لیا کہ وہ نوحہ نہ کریں اہل جاہلیت اپنے کسی کے مر جانے پر کپڑے پھاڑ ڈالتے تھے منہ نوچ لیتے تھے بال کٹوا دیتے تھے اور ہائے وائے کیا کرتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34013:ضعیف]‏‏‏‏ یہ اثر غریب ہے اور اس کے بعض حصے میں نکارت بھی ہے اس لیے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا کے اسلام کے وقت انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی اندیشہ نہ تھا بلکہ اس سے بھی آپ نے صفائی اور محبت کا اظہار کر دیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ایک اور روایت میں ہے کہ فتح مکہ والے دن بیعت والی یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پر مردوں سے بیعت لی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں سے بیعت لی اس میں اتنا اور بھی ہے کہ اولاد کے قتل کی ممانعت سن کر ہندہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے تو انہیں چھٹپنے پال پوس کر بڑا کیا لیکن ان بڑوں کو تم نے قتل کیا، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مارے ہنسی کے لوٹ لوٹ گئے۔
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ جب سیدہ ہندہ رضی اللہ عنہا بیعت کرنے آئیں تو ان کے ہاتھ مردوں کی طرح سفید تھے، آپ نے فرمایا: جاؤ ان کا رنگ بدل لو چنانچہ وہ مہندی لگا کر حاضر ہوئیں، ان کے ہاتھ میں دو سونے کے کڑے تھے انہوں نے پوچھا کہ ان کی نسبت کیا حکم ہے؟ فرمایا: جہنم کی آگ کے دو انگارے ہیں، [مسند ابویعلیٰ194/8:ضعیف]‏‏‏‏ (‏‏‏‏یہ حکم اس وقت ہے جب ان کی زکوٰۃ نہ ادا کی جائے)
اس بیعت کے لینے کے وقت آپ کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا، جب اولادوں کے قتل کی ممانعت پر ان سے عہد لیا گیا تو ایک عورت نے کہا، ان کے باپ دادوں کو تو قتل کیا اور ان کی اولاد کی وصیت ہمیں ہو رہی ہے، یہ شروع شروع میں صورت بیعت کی تھی لیکن پھر اس کے بعد آپ نے یہ دستور کر رکھا تھا کہ جب بیعت کرنے کے لیے عورتیں جمع ہو جاتیں تو آپ یہ سب باتیں ان پر پیش فرماتے، وہ ان کا اقرار کرتیں اور واپس لوٹ جاتیں۔
پس فرمان اللہ ہے کہ جو عورت ان امور پر بیعت کرنے کے لیے آئے تو اس سے بیعت لے لو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، غیر لوگوں کے مال نہ چرانا، ہاں اس عورت کو جس کا خاوند اپنی طاقت کے مطابق کھانے پینے پہننے اوڑھنے کو نہ دیتا ہو جائز ہے کہ اپنے خاند کے مال سے مطابق دستور اور بقدر اپنی حاجت کے لے گو خاوند کو اس کا علم نہ ہو اس کی دلیل ہندہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے خاوند ابوسفیان بخیل آدمی ہیں وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولادوں کو کافی ہو سکے تو کیا میں اگر ان کی بےخبری میں اور ان کے مال میں لے لوں تو مجھے جائز ہے؟ آپ نے فرمایا بطریق معروف اس کے مال سے اتنا لے لے جو تجھے اور تیرے بال بچوں کو کفایت کرے۔ [صحیح بخاری:2211]‏‏‏‏
اور زناکاری نہ کریں، جیسے اور جگہ ہے «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا» [17-الاسراء:32]‏‏‏‏ کے قریب نہ جاؤ وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے، سیدہ سمرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں زنا کی سزا اور درد ناک عذاب جہنم بیان کیا گیا ہے، [صحیح بخاری:7047]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت عقبہ رضی اللہ عنہا جب بیعت کے لیے آئیں اور اس آیت کی تلاوت ان کے سامنے کی گئی تو انہوں نے شرم سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا آپ کو ان کی یہ حیاء اچھی معلوم ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا انہی شرطوں پر ہم سب نے بیعت کی ہے یہ سن کر انہوں نے بھی بیعت کر لی، [مسند احمد:151/6:صحیح]‏‏‏‏
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے طریقے اوپر بیان ہو چکے ہیں، اولاد کو قتل نہ کرنے کا حکم عام ہے، پیدا شدہ اولاد کو مار ڈالنا بھی اسی ممانعت میں ہے جیسے کہ جاہلیت کے زمانے والے اس خوف سے کرتے تھے کہ انہیں کہاں سے کھلائیں گے پلائیں گے، اور حمل کا گرا دینا بھی اسی ممانعت میں ہے خواہ اس طرح ہو کہ ایسے علاج کئے جائیں جس سے حمل ٹھہرے ہی نہیں یا ٹھہرے ہوئے حمل کو کسی طرح گرا دیا جائے۔
بری غرض وغیرہ سے، بہتان نہ باندھنے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بیان فرمایا ہے کہ دوسرے کی اولاد کو اپنے خاوند کے سر چپکا دینا۔
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ «ملاعنہ» کی آیت کے نازل ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت کسی قوم میں اسے داخل کرے جو اس قوم کا نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی گنتی شمار میں نہیں اور جو شخص اپنی اولاد سے انکار کر جائے حالانکہ وہ اس کے سامنے موجود ہو اللہ تعالیٰ اس سے آڑ کر لے گا اور تمام اگلوں پچھلوں کے سامنے اسے رسوا و ذلیل کرے گا، [سنن ابوداود:2263،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں یعنی آپ کے احکام بجا لائیں اور آپ کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک جایا کریں، یہ شرط یعنی معروف ہونے کی عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے لگا دی ہے، میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اطاعت بھی فقط معروف میں رکھی ہے اور معروف ہی طاعت ہے۔
سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دیکھ لو کہ بہترین خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کا حکم بھی معروف میں ہی ہے، اس بیعت والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کا اقرار بھی لیا تھا جیسے سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں پہلے گزر چکا، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس بیعت میں یہ بھی تھا کہ عورتیں غیر محرموں سے بات چیت نہ کریں، اس پر سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم گھر پر موجود نہیں ہوتے اور مہمان آ جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: میری مراد ان سے بات چیت کرنے کی ممانعت سے نہیں، میں ان سے کام کی بات کرنے سے نہیں روکتا [تفسیر ابن جریر الطبری:34014:مرسل]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیعت کے موقعہ پر عورتوں کو نامحرم مردوں سے باتیں کرنے سے منع فرمایا [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف]‏‏‏‏ اور فرمایا بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں کہ پرائی عورتوں سے باتیں کرنے میں ہی مزہ لیا کرتے ہیں یہاں تک کہ مذی نکل جاتی ہے۔
اوپر حدیث بیان ہو چکی ہے کہ نوحہ نہ کرنے کی شرط پر ایک عورت نے کہا فلاں قبیلے کی عورتوں نے میرا ساتھ دیا ہے تو ان کے نوحے میں میں بھی ان کا ساتھ دے کر بدلہ ضرور اتاروں گی چنانچہ وہ گئیں بدلہ اتارا پھر آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جن کا نام ان عورتوں میں ہے جنہوں نے نوحہ نہ کرنے کی بیعت کو پورا کیا یہ ملحان کی بیٹی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ [صحیح بخاری:4892]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ جس عورت نے بدلے کے نوحے کی اجازت مانگی تھی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی تھی یہی وہ معروف ہے جس میں نافرمانی منع ہے، بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک کا بیان ہے کہ معروف میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں اس سے مطلب یہ ہے کہ مصیبت کے وقت منہ نہ نوچیں، بال نہ منڈوائیں، کپڑے نہ پھاڑیں، ہائے وائے نہ کریں۔
ابن جریر میں سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مدینہ میں تشریف لائے تو ایک دن آپ نے حکم دیا کہ سب انصاریہ عورتیں فلاں گھر میں جمع ہوں، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجا آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کیا ہم نے آپ کے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ہم نے کہا: رسول اللہ کو بھی مرحبا ہو اور آپ کے قاصد کو بھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں حکم کروں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ کرنے پر، چوری اور زناکاری سے بچنے پر بیعت کرو، ہم نے کہا ہم سب حاضر ہیں اور اقرار کرتی ہیں، چنانچہ آپ نے وہیں باہر کھڑے کھڑے اپنا ہاتھ اندر کی طرف بڑھا دیا اور ہم نے اپنے ہاتھ اندر سے اندر ہی اندر بڑھائے، پھر آپ نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہے۔
پھر حکم ہوا کہ دونوں عیدوں میں ہم اپنی خانضہ عورتوں اور جوان کنواری لڑکیوں کو لے جایا کریں، ہم پر جمعہ فرض نہیں، ہمیں جنازوں کے ساتھ نہ جانا چاہیئے۔ اسماعیل راوی حدیث فرماتے ہیں میں نے اپنی دادی صاحبہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ عورتیں معروف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کریں اس سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا یہ کہ نوحہ نہ کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34029:ضعیف]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے کہ { جو کوئی مصیبت کے وقت اپنے گالوں پر تھپڑ مارے، دامن چاک کرے اور جاہلیت کے وقت کی ہائی دہائی مچائے، وہ ہم میں سے نہیں } [صحیح بخاری:1294]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں، جو گلا پھاڑ پھاڑ کر ہائے وائے کرے، بال نوچے یا منڈوائے اور کپڑے پھاڑے یا دامن چیرے }۔ [صحیح مسلم:104]‏‏‏‏
ابویعلی میں ہے کہ { میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جنہیں وہ نہ چھوڑیں گے، حسب نسب پر فخر کرنا، انسان کو اس کے نسب کا طعنہ دینا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا اور فرمایا: نوحہ کرنے والی عورت اگر بغیر توبہ کئے مر جائے تو اسے قیامت کے دن گندھک کا پیراہن پہنایا جائے گا اور کھجلی کی چادر اڑھائی جائے گی[صحیح مسلم:934]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والیوں پر اور نوحے کو کان لگا کر سننے والیوں پر لعنت فرمائی }، [سنن ابوداود:3128،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { معروف میں نافرمانی نہ کرنے سے مراد نوحہ کو کان لگا کر سننے والیوں پر لعنت فرمائی }، ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { معروف میں نافرمانی نہ کرنے سے مراد نوحہ نہ کرنا ہے، یہ حدیث ترمذی کی کتاب التفسیر میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں }۔ [سنن ابن ماجہ:1579،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏