ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 8

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَکٌ ؕ وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸﴾
اور انھوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا؟ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو ضرور کام تمام کر دیا جاتا، پھر انھیں مہلت نہ دی جاتی۔ En
اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی
En
اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اور اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہوجاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8) ➊ { وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ:} یہ نبوت کے منکرین کا ایک اور اعتراض ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی طرف رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ انسان کے بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا، یا فرشتہ اس کے ساتھ ساتھ پھرتا اور کہتا کہ یہ اللہ کا رسول ہے، اس پر ایمان لے آؤ، ورنہ تمھیں سزا دی جائے گی۔
➋ { وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْاَمْرُ …:} یہ پہلا جواب ہے۔ (رازی) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور وہ اسے دکھا دیا جائے، لیکن اس کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو اسے ہلاک کر دیا جاتا ہے، اس لیے اگر فرشتے اصل صورت میں نازل ہوتے تو ان کے پاس عذاب لے کر آتے اور ان کا قصہ ہی تمام ہو جاتا۔ دیکھیے سورۂ حجر (۶ تا ۸) اور سورۂ فرقان (22،21)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے بھی انبیاء و رسل بھیجے وہ انسانوں میں سے ہی تھے اور ہر قوم میں اسی کے ایک فرد کو وحی و رسالت سے نواز دیا جاتا تھا۔ یہ اس لئے کہ اس کے بغیر کوئی رسول فریضہ تبلیغ و دعوت ادا ہی نہیں کرسکتا تھا، مثلاً اگر فرشتوں کو اللہ تعالیٰ رسول بنا کر بھیجتا تو ایک تو وہ انسانی زبان میں گفتگو ہی نہ کر پاتے اور دوسرے وہ انسانی جذبات سے عاری ہونے کی وجہ سے انسان کے مختلف حالات میں مختلف کیفیات و جذبات کے سمجھنے سے بھی قاصر رہتے۔ ایسی صورت میں ہدایت اور رہنمائی کا فریضہ کس طرح انجام دے سکتے تھے۔؟ اس لئے اللہ تعالیٰ کا انسانوں پر ایک بڑا احسان ہے کہ اس نے انسانوں کو ہی نبی اور رسول بنایا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسے بطور احسان ہی قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے (لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ) 3:164 اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب کہ انہی کی جانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا لیکن پیغمبروں کی بشریت کافروں کے لیے حیرت واستعجاب کا باعث رہی وہ سمجھتے تھے کہ رسول انسانوں میں سے نہیں فرشتوں میں سے ہونا چاہیے گویا ان کے نزدیک بشریت رسالت کے شایان شان نہیں تھی جیسا کہ آج کل کے اہل بدعت بھی یہی سمجھتے ہیں۔ تشابھت قلوبھم اہل کفر و شرک رسولوں کی بشریت کا تو انکار کر نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ ان کے خاندان حسب نسب ہر چیز سے واقف ہوتے تھے لیکن رسالت کا وہ انکار کرتے رہے جبکہ آج کل کے اہل بدعت رسالت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن بشریت کو رسالت کے منافی سمجھنے کی وجہ سے رسولوں کی بشریت کا انکار کرتے ہیں بہرحال اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرما رہا ہے کہ اگر ہم کافروں کے مطالبے پر کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے یا اس رسول کی تصدیق کے لئے ہم کوئی فرشتہ نازل کردیتے جیسا کہ یہاں یہی بات بیان کی گئی ہے اور پھر وہ اس پر ایمان نہ لاتے تو انھیں مہلت دیئے بغیر ہلاک کردیا جاتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر فرشتہ (اپنی اصل شکل میں) کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو سارا قصہ ہی پاک [8] ہو جاتا پھر انہیں کچھ مہلت بھی نہ ملتی
[8] یہ کفار کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں کیوں نازل نہیں ہوتا۔ جسے ہم دیکھ سکیں اور ہمیں یقین آ جائے۔ اور پیغمبر جو یہ کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتہ نازل ہوتا ہے وہ سچ کہتا ہے؟ اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں آتا تو یہ دہشت کے مارے فوراً مر جاتے انہیں ایمان لانے یا انکار کرنے کی مہلت ہی کہاں ملتی۔ فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں دیکھنے کے متحمل انبیاء ہی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ”اس کے چھ سو پر تھے اور اس کی جسامت سے تمام افق بھر گیا تھا۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ باب قول الله: ﴿فاوحيٰ اليٰ عبده ما اوحيٰ] کسی دوسرے نبی کا جبریل فرشتہ کو اپنی اصلی شکل میں دیکھنا احادیث سے ثابت نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انسانوں میں سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم احسان ٭٭
کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کر لیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں۔
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» ۱؎ [15۔الحجر:15،14]‏‏‏‏ یعنی ’ اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔
اور ایک آیت میں ہے «وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ» ۱؎ [52۔الطور:44]‏‏‏‏ غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔
یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ’ ان کی اس بے ایمانی پر اگر فرشتے آ جاتے تو پھر تو کام ہی ختم کر دیا جاتا، چنانچہ اور آیت میں ہے «مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ» ۱؎ [15۔الحجر:8]‏‏‏‏ یعنی ’ فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آ جائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے ‘ اور جگہ ہے آیت «يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا» ۱؎ [25۔الفرقان:22]‏‏‏‏ ’ جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالُوْا یعنی وہ تلبیس کے طور پر کہتے ہیں جو معقول سے لاعلمی اور جہالت پر مبنی ہے ﴿لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ ان پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ اترا جو اس کی مدد کرتا اور اس کام میں اس کی معاونت کرتا۔ کیونکہ وہ اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بشر ہیں اور رسالت تو فرشتوں میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اس کی رحمت اور اپنے بندوں کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ ہے کہ اس نے انھی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ جو کچھ وہ لے کر مبعوث ہوتا ہے، اس پر ایمان علم اور بصیرت کی بنا پر اور بالغیب ہو۔ ﴿ وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا اگر ہم فرشتہ نازل کرتے۔ اگر ہم نے اپنی رسالت کے ساتھ کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا تو یہ ایمان معرفت حق کی بنا پر نہ ہوتا بلکہ ایک ایسا ایمان ہوتا جو مشاہدہ سے صادر ہوتا ہے اور ایسا ایمان اکیلا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں مگر غالب یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر وہ ایمان نہ لائے ﴿ لَّ٘قُ٘ضِیَ الْاَمْرُ تو طے ہو جائے قصہ تو ان کی فوری ہلاکت اور عدم مہلت کا فیصلہ ہو جائے گا یہ اس شخص کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو حسب خواہش معجزات کا مطالبہ کرتا ہے اور ان پر ایمان نہیں لاتا۔ اس لیے ان کی طرف رسول بشری کو آیات بینات کے ساتھ مبعوث کرنا، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ یہ بندوں کے لیے بہتر اور نرم ہیں۔ نیز کفار اور جھٹلانے والوں کو مہلت دینا، ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ پس ان کا فرشتے اتارنے کا مطالبہ اگر وہ جانیں تو ان کے لیے بہت برا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقالوا} أيضاً تعنُّتاً مبنيًّا على الجهل وعدم العلم بالمعقول: {لولا أُنزِلَ عليه مَلَكٌ}؛ أي: هلاَّ أُنْزِل مع محمدٍ مَلَك يعاوِنُه ويساعده على ما هو عليه؛ بزعمهم أنَّه بشرٌ وأنَّ رسالة الله لا تكون إلا على أيدي الملائكة. قال الله في بيان رحمته ولطفه بعباده حيث أرسل إليهم بشراً منهم يكون الإيمان بما جاء به عن علم وبصيرةٍ وغيبٍ: {ولو أنزَلْنا مَلَكاً}: برسالتنا؛ لكان الإيمانُ لا يصدُرُ عن معرفةٍ بالحقِّ، ولكان إيماناً بالشهادة الذي لا ينفع شيئاً وحده، هذا إن آمنوا، والغالب أنهم لا يؤمنون بهذه الحالة، فإذا لم يؤمنوا؛ {لَقُضِيَ الأمرُ}: بتعجيل الهلاك عليهم وعدم إنظارِهم؛ لأنَّ هذه سنة الله فيمن طَلَبَ الآيات المقترحة فلم يؤمن بها؛ فإرسال الرسول البشريِّ إليهم بالآيات البيِّنات التي يعلمُ الله أنها أصلحُ للعباد وأرفق بهم مع إمهال الله للكافرين والمكذِّبين خيرٌ لهم وأنفعُ، فطلبُهم لإنزال المَلَكِ شرٌّ لهم لو كانوا يعلمون.