تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْاَمْرُ …:} یہ پہلا جواب ہے۔ (رازی) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور وہ اسے دکھا دیا جائے، لیکن اس کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو اسے ہلاک کر دیا جاتا ہے، اس لیے اگر فرشتے اصل صورت میں نازل ہوتے تو ان کے پاس عذاب لے کر آتے اور ان کا قصہ ہی تمام ہو جاتا۔ دیکھیے سورۂ حجر (۶ تا ۸) اور سورۂ فرقان (22،21)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور ایک آیت میں ہے «وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ» ۱؎ [52۔الطور:44] غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔
یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ’ ان کی اس بے ایمانی پر اگر فرشتے آ جاتے تو پھر تو کام ہی ختم کر دیا جاتا، چنانچہ اور آیت میں ہے «مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ» ۱؎ [15۔الحجر:8] یعنی ’ فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آ جائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے ‘ اور جگہ ہے آیت «يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا» ۱؎ [25۔الفرقان:22] ’ جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا} أيضاً تعنُّتاً مبنيًّا على الجهل وعدم العلم بالمعقول: {لولا أُنزِلَ عليه مَلَكٌ}؛ أي: هلاَّ أُنْزِل مع محمدٍ مَلَك يعاوِنُه ويساعده على ما هو عليه؛ بزعمهم أنَّه بشرٌ وأنَّ رسالة الله لا تكون إلا على أيدي الملائكة. قال الله في بيان رحمته ولطفه بعباده حيث أرسل إليهم بشراً منهم يكون الإيمان بما جاء به عن علم وبصيرةٍ وغيبٍ: {ولو أنزَلْنا مَلَكاً}: برسالتنا؛ لكان الإيمانُ لا يصدُرُ عن معرفةٍ بالحقِّ، ولكان إيماناً بالشهادة الذي لا ينفع شيئاً وحده، هذا إن آمنوا، والغالب أنهم لا يؤمنون بهذه الحالة، فإذا لم يؤمنوا؛ {لَقُضِيَ الأمرُ}: بتعجيل الهلاك عليهم وعدم إنظارِهم؛ لأنَّ هذه سنة الله فيمن طَلَبَ الآيات المقترحة فلم يؤمن بها؛ فإرسال الرسول البشريِّ إليهم بالآيات البيِّنات التي يعلمُ الله أنها أصلحُ للعباد وأرفق بهم مع إمهال الله للكافرين والمكذِّبين خيرٌ لهم وأنفعُ، فطلبُهم لإنزال المَلَكِ شرٌّ لهم لو كانوا يعلمون.