ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 7

وَ لَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ کِتٰبًا فِیۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡہُ بِاَیۡدِیۡہِمۡ لَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾
اور اگر ہم آپ پر کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی چیز اتارتے، پھر وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے تو یقینا وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، یہی کہتے کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔ En
اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے
En
اور اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ آپ پر نازل فرماتے پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب بھی یہ کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ کچھ بھی نہیں مگر صریح جادو ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا …:} اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو انبیاء کے معجزات کی کوئی الٹی سیدھی تاویل کر کے انھیں جھٹلا دیتے تھے۔ (رازی) اس آیت میں کفار مکہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کے لیے پیش کردہ فرمائشوں میں سے ایک فرمائش (بنی اسرائیل: ۹۳) کا جواب ہے کہ ہم اس وقت تک تمھارے آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے جب تک تم ہم پر ایسی کتاب نازل نہیں کرتے جسے ہم خود پڑھیں۔ یہ لوگ اپنی سرکشی اور کفر کی روش میں اس قدر پختہ ہیں کہ اگر ہم ان پر آسمان سے لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے، جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر صاف معلوم کر لیتے کہ یہ کوئی خیالی اور نظر بندی جیسی چیز نہیں، بلکہ حقیقت ہے، تب بھی یہ لوگ اسے کھلا جادو قرار دیتے، پھر اگر یہ بد بخت قرآن کو جادو قرار دیتے ہیں تو کیا تعجب ہے؟ (قرطبی) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جس کی قسمت میں ہدایت نہیں اس کا شبہ نہیں مٹتا۔ (موضح) مزید دیکھیے سورۂ حجر (۱۴، ۱۵) اور طور (۴۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 یہ ان کے عناد جحود اور مکابرہ کا اظہار ہے کہ اتنے واضح نوشتہ الہٰی کے باوجود وہ اسے ماننے کے لئے تیار نہ ہونگے اور اسے ایک سحرانہ کرتب قرار دیں گے۔ جیسے قرآن مجید کے دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے۔ ولو فتحنا علیہم بابا من السماء فظلو فیہ یعرجون لقالوا انما سکرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون (الحجر) اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس پر چڑھنے بھی لگ جائیں تب بھی کہیں گے آنکھیں متوالی ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ (وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ) 52:44 اور اگر وہ آسمان سے گرتا ہوا ٹکڑا بھی دیکھ لیں تو کہیں گے کہ تہ بہ تہ بادل ہیں۔ یعنی عذاب الہی کی کو‏ئی نہ کوئی توجیہ کرلیں گے کہ جس میں مشیت الہی کا کو‏ئی دخل انھیں تسلیم کرنا نہ پڑے حالانکہ کا‏ئنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی مشیت سے ہوتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب آپ پر اتارتے پھر یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ [7] بھی لیتے تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے یہی کہتے کہ یہ تو ”صاف جادو ہے“
[7] کفار کے اعتراضات اور ان کے جواب :۔
یہ کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ ہم تو تب ہی ایمان لائیں گے جب ہمارے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہو اور ساتھ چار فرشتے بھی ہوں جو اس بات کی گواہی دیں کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ کافر اس قدر ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں کہ اگر ہم ان کا مطالبہ پورا کر بھی دیں، وہ کتاب کو چھو کر دیکھ بھی لیں کہ یہ محض نظر بندی کا چکر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے تب بھی وہ یہ کہہ دیں گے کہ یہ سب کچھ جادو ہے اور تم جادوگر ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انسانوں میں سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم احسان ٭٭
کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کر لیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں۔
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» ۱؎ [15۔الحجر:15،14]‏‏‏‏ یعنی ’ اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔
اور ایک آیت میں ہے «وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ» ۱؎ [52۔الطور:44]‏‏‏‏ غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔
یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ’ ان کی اس بے ایمانی پر اگر فرشتے آ جاتے تو پھر تو کام ہی ختم کر دیا جاتا، چنانچہ اور آیت میں ہے «مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ» ۱؎ [15۔الحجر:8]‏‏‏‏ یعنی ’ فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آ جائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے ‘ اور جگہ ہے آیت «يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا» ۱؎ [25۔الفرقان:22]‏‏‏‏ ’ جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے۔ اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمھارے لیے کوئی چارہ نہیں۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں، پھر چھو لیں اس کو اپنے ہاتھوں سے یعنی انھیں یقین آجائے ﴿لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے ﴿ اِنْ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ یہ تو کھلا جادو ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے؟ اور یہ ہے اس بارے میں ان کا انتہائی قبیح قول۔ انھوں نے ایسی محسوس چیز کا انکار کر دیا جس کا انکار کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا جس میں معمولی سی بھی عقل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إخبارٌ من الله لرسوله عن شدَّة عناد الكافرين، وأنَّه ليس تكذيبهم لقصورٍ فيما جئتهم به ولا لجهل منهم بذلك، وإنما ذلك ظلمٌ وبغيٌ لا حيلة لكم فيه، فقال: {ولو نزَّلْنا عليك كتاباً في قِرْطاس فلَمَسوه بأيديهم}: وتيقَّنوه، {لقال الذين كفروا}: ظلماً وعلواً: {إن هذا إلا سحرٌ مبينٌ}؛ فأيُّ بينةٍ أعظم من هذه البينة، وهذا قولهم الشنيع فيها، حيث كابروا المحسوس الذي لا يمكن من له أدنى مُسْكَةٍ من عقله دفعه؟!