تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَيْبَ:} اور نہ میں غیب جانتا ہوں کہ آئندہ کی جو بات مجھ سے پوچھتے جاؤ میں تمھیں بتلاتا جاؤں۔ غیب کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مجھے جو اور جتنا علم ہے اس کی اسی نے اطلاع دی ہے، وہ چاہتا تو مجھے اتنا علم بھی نہ دیتا اور چاہتا تو اس سے بھی زیادہ دے دیتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ انبیاء علیہم السلام کو علم غیب ہوتا ہے تو وہ مشرک ہے۔ جب سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہ ہوا تو دوسروں کا ذکر کیا ہے اور جب رسول غیب دان نہ ٹھہرے تو پھر کوئی پیر، شہید، ولی یا عالم و عابد کیسے غیب دان ہو سکتا ہے؟ اور کاہن، نجومی اور رمل والے کس شمار و قطار میں ہیں؟ دیکھیے سورۂ نمل (۶۵) اور سورۂ لقمان (۳۴)۔
➌ {وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّيْ مَلَكٌ:} اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، بلکہ تمھاری طرح کا ایک بشر ہوں، تو پھر تم مجھ سے آسمان پر چڑھنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۸) اور سورۂ ہود(۳۱)۔
➍ {اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ:} یعنی میں تمھی جیسا انسان ہوں، فرشتہ نہیں، البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور تمھارے پاس نہیں آتی (دیکھیے کہف: ۱۱۰) اور میں کسی معاملے میں اپنی خواہش کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق عمل کرتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں تک جتنے احکام پہنچائے، چاہے قرآن کی شکل میں یا احادیث کی صورت میں، وہ سب اللہ کی طرف سے تھے، لہٰذا قرآن کی طرح سنت کی پیروی بھی ضروری ہے، بلکہ سنت کے بغیر قرآن کی پیروی ممکن ہی نہیں ہے۔ جو لوگ سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن کی پیروی پر زور دیتے ہیں وہ دراصل اپنی من مانی تاویلات کرنا چاہتے ہیں، جن کی راہ میں حدیث حائل ہے۔
➎ {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ:} یہ بظاہر سوال ہے مگر حقیقت میں اس بات کا انکار ہے کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر ہو سکتے ہیں۔ اسے استفہام انکاری کہتے ہیں، اندھے اور دیکھنے والے سے مراد باطل پرست اور حق پرست، یا کافر اور مسلمان، یا جاہل اور عالم ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ پیغمبر آدمی کے سوا کچھ اور نہیں ہو جاتے کہ ان سے محال باتیں طلب کی جائیں۔ ایک اندھے اور ایک دیکھتے کا یہی فرق ہے۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے کہ «أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ» ۱؎ [13-الرعد: 19] ’ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو نابینا ہے؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ‘۔
’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکا رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہو گا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لیے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اورثواب کے مستحق بن جائیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم - المقترِحين عليه الآياتِ، أو القائلينَ له إنَّما تدعونا لنتَّخِذَك إلهاً مع الله: {لا أقولُ لكم عندي خزائنُ الله}؛ أي: مفاتيح رزقِهِ ورحمتِهِ، {ولا أعلم الغيبَ}: وإنَّما ذلك كلُّه عند الله؛ فهو الذي ما يفتحُ للناس من رحمةٍ فلا ممسك لها وما يمسكُ فلا مرسلَ له من بعدِهِ، وهو وحده عالمُ الغيب والشهادة فلا يُظْهِرُ على غيبِهِ أحداً إلا من ارتضى من رسول. {ولا أقولُ لكم إني مَلَكٌ}: فأكون نافذَ التصرُّف قويًّا، فلست أدَّعي فوق منزلتي التي أنزلني الله بها، {إن أتَّبِعُ إلَّا ما يُوحى إليَّ}؛ أي: هذا غايتي ومنتهى أمري وأعلاه، إنْ أتَّبِع إلاَّ ما يوحى إليَّ، فأعمل به في نفسي، وأدعو الخلق كلَّهم إلى ذلك؛ فإذا عُرِفت منزلتي؛ فلأي شيء يبحثُ الباحث معي أو يطلب مني أمراً لست أدَّعيه؟! وهل يُلْزَمُ الإنسان بغير ما هو بصددِهِ؟! ولأي شيء إذا دعوتكم بما يوحى إليَّ أن تلزموني أني أدَّعي لنفسي غير مرتبتي؟! وهل هذا إلا ظلمٌ منكم وعنادٌ وتمرُّدٌ؟! قل لهم في بيان الفرق بينَ مَنْ قَبِلَ دعوتي وانقاد لما أوحي إليَّ وبين من لم يكن كذلك: {قُلْ هل يَسْتوي الأعمى والبصيرُ أفلا تتفكَّرونَ}: فتنزِلون الأشياءَ منازلَها وتختارون ما هو أولى بالاختيار والإيثار.