(آیت 36) {اِنَّمَايَسْتَجِيْبُالَّذِيْنَ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو مردوں کے مشابہ قرار دیا ہے جن کو جتنا بھی پکارا جائے وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے، یعنی ان کفار کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اور ان مردوں کو اگر عقل آئے گی تو اسی وقت جب اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور ان کا محاسبہ کرے گا۔ سورۂ نمل کی آیات(۸۰، ۸۱) اس کی ہم معنی ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 اور ان کافروں کی حیثیت تو ایسی ہے جیسے مردوں کی ہوتی ہے۔ جس طرح وہ سننے اور سمجھنے کی قدرت سے محروم ہیں یہ بھی چونکہ اپنی عقل فہم سے حق کو سمجھنے کا کام نہیں لیتے اس لئے یہ بھی مردہ ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ بات تو وہی لوگ مانتے ہیں جو (دل کے) کانوں سے سنیں۔ رہے [41] مردے تو اللہ انہیں (روز قیامت) زندہ کرے گا پھر وہ اسی کے حضور واپس لائے جائیں گے
[41] جن لوگوں کو ہدایت مطلوب ہوتی ہے وہ تمہاری باتوں کو غور سے سنتے ہیں پھر وہ ہدایت قبول بھی کرتے ہیں مگر جن لوگوں کے دل اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مر چکے ہیں وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے یہ لوگ جیتے جی اپنے اختیار سے تو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے نہیں۔ البتہ جب مر جائیں گے اور اللہ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا تب انہیں اضطراری طور پر اللہ کے حضور پیش ہونا ہی پڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔