وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۚ وَ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ الۡمِیۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ۚ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ۚ وَ اِذَا قُلۡتُمۡ فَاعۡدِلُوۡا وَ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ۚ وَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ اَوۡفُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۱۵۲﴾ۙ
اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے اور ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب بات کرو تو انصاف کرو خواہ رشتہ دار ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
En
اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو
En
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 152) ➊ {وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ ……:} ”سب سے اچھے طریقے“ میں یتیم کے مال کی حفاظت کرنا، اسے بڑھانے کے متعلق سوچنا، یتیموں کی بہتری کے سوا اسے خرچ کرنے سے بچنا وغیرہ سب شامل ہیں۔ {” حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ “} میں جوانی کے ساتھ سمجھ داری بھی شامل ہے کہ اس میں معاملات کو خود نپٹانے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۶)۔
➋ { وَ اَوْفُوا الْكَيْلَ:} اس میں انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیتے وقت ماپ تول میں کمی نہ کرنا اور لیتے وقت زیادہ نہ لینا دونوں شامل ہیں۔ دیکھیے سورۂ مطففین (۱تا۳) سورۂ رحمان (۹) اور سورۂ بنی اسرائیل (۳۵)۔
➌ {لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا:} یعنی اگر پورا تولنے اور ماپنے کی کوشش کرے مگر بھول چوک کی وجہ سے غلطی کر بیٹھے تو اس سے باز پرس نہیں ہو گی۔ {” اِلَّا وُسْعَهَا “} کا یہی مطلب ہے۔
➍ {وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا ……:} جب بات کرو، خواہ فیصلہ کر رہے ہو یا حکم دے رہے ہو یا شہادت دے رہے ہو، تو ہر حال میں عدل و انصاف سے کام لو، کوئی رشتہ داری یا قرابت یا دوستی انصاف میں رکاوٹ نہ بننے پائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۵) اور سورۂ مائدہ (۸)۔
➎ { وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا:} یعنی تم نے اسلام قبول کر کے اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جو عہد کیا ہے وہ پورا کرو۔ اس سے مراد قرآن و سنت کے تمام احکام پر عمل کرنا ہے۔ لوگوں سے کیے ہوئے عہد پورا کرنے کا بھی اﷲ نے حکم دیا ہے۔
➏ { لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ:} اس آیت میں مذکور چیزیں ایسی ہیں جو معاشرے میں معروف ہیں، ان کی تاکید اس لیے کی ہے کہ تمھیں یاد آ جائے اور تمھیں نصیحت ہو جائے۔ {” ذِكْرٌ “} کا معنی ”یاد“ اور ”نصیحت “ دونوں ہیں، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِذَا نَسِيْتُ فَذَكِّرُوْنِيْ] [بخاری، الصلوۃ، باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان: ۴۰۱] ”جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دو۔“
➋ { وَ اَوْفُوا الْكَيْلَ:} اس میں انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیتے وقت ماپ تول میں کمی نہ کرنا اور لیتے وقت زیادہ نہ لینا دونوں شامل ہیں۔ دیکھیے سورۂ مطففین (۱تا۳) سورۂ رحمان (۹) اور سورۂ بنی اسرائیل (۳۵)۔
➌ {لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا:} یعنی اگر پورا تولنے اور ماپنے کی کوشش کرے مگر بھول چوک کی وجہ سے غلطی کر بیٹھے تو اس سے باز پرس نہیں ہو گی۔ {” اِلَّا وُسْعَهَا “} کا یہی مطلب ہے۔
➍ {وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا ……:} جب بات کرو، خواہ فیصلہ کر رہے ہو یا حکم دے رہے ہو یا شہادت دے رہے ہو، تو ہر حال میں عدل و انصاف سے کام لو، کوئی رشتہ داری یا قرابت یا دوستی انصاف میں رکاوٹ نہ بننے پائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۵) اور سورۂ مائدہ (۸)۔
➎ { وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا:} یعنی تم نے اسلام قبول کر کے اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جو عہد کیا ہے وہ پورا کرو۔ اس سے مراد قرآن و سنت کے تمام احکام پر عمل کرنا ہے۔ لوگوں سے کیے ہوئے عہد پورا کرنے کا بھی اﷲ نے حکم دیا ہے۔
➏ { لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ:} اس آیت میں مذکور چیزیں ایسی ہیں جو معاشرے میں معروف ہیں، ان کی تاکید اس لیے کی ہے کہ تمھیں یاد آ جائے اور تمھیں نصیحت ہو جائے۔ {” ذِكْرٌ “} کا معنی ”یاد“ اور ”نصیحت “ دونوں ہیں، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِذَا نَسِيْتُ فَذَكِّرُوْنِيْ] [بخاری، الصلوۃ، باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان: ۴۰۱] ”جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
152۔ 1 جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے اس خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ اگر اس کے مال سے وارثت میں سے اس کو حصہ ملا ہے، چاہے وہ نقدی کی صورت میں ہو یا زمین اور جائداد کی صورت میں، تاہم ابھی وہ اس کی حفاظت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس کے مال کی اس وقت تک پورے خلوص سے حفاظت کی جائے جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر، اس کی عمر شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جایئداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ 152۔ 2 ناپ تول میں کمی کرنا لیتے وقت تو پورا ناپ یا تول کرلینا، مگر دیتے وقت ایسا نہ کرنا بلکہ ڈنڈی مار کر دوسرے کو کم دینا، یہ نہایت پست اور اخلاق سے گری ہوئی بات ہے۔ قوم شعیب میں یہی اخلاقی بیماری تھی جو ان کی تباہی کے من جملہ اسباب میں تھی۔ 152۔ 3 یہاں اس بات کے بیان سے یہ مقصد ہے کہ جن باتوں کی تاکید کر رہے ہیں، یہ ایسے نہیں ہیں کہ جن پر عمل کرنا مشکل ہو، اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کا حکم ہی نہ دیتے اس لئے کہ طاقت سے بڑھ کر ہم کسی کو مکلف ہی نہیں ٹھہراتے۔ اس لئے اگر نجات اخروی اور دنیا میں عزت اور سرفرازی چاہتے ہو تو ان احکام الٰہی پر عمل کرو اور ان سے گریز مت کرو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
152۔ نیز یہ کہ یتیم کے مال کے قریب [171] بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو (اس کے حق میں) بہتر ہو۔ تا آنکہ وہ عقل کی پختگی کو پہنچ جائے، اور یہ کہ ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا پورا [172] دو، ہم کسی کو اس کے مقدور سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ اور یہ کہ جب کچھ کہو تو انصاف سے [173] کہو، خواہ وہ بات تمہارے کسی قریبی سے تعلق رکھتی ہو، اور یہ کہ اللہ کے عہد کو پورا [174] کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا [175] ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو
[171] یتیم کا مال کھانا:۔
یعنی اگر یتیم کا مال تمہاری تحویل میں ہے تو اسے صرف اس طریقے سے خرچ کرو جس میں یتیم کا بھلا اور بہتری ہو۔ اس سے کوئی اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنے کی مطلق کوشش نہ کرو نہ ہی اس قسم کی بات دل میں سوچو یتیم کا مال اس کا ولی صرف اس صورت میں کھا سکتا ہے جبکہ وہ خود تنگ دست اور محتاج ہو اور اس صورت میں بھی وہ صرف معروف طریقے سے اس میں سے لے سکتا ہے جو کسی بھی فریق کے لیے قابل اعتراض نہ ہو۔ یتیم کا مال کھانے کی ممانعت قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آئی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گناہ کو سات بڑے بڑے ہلاک کر دینے والے گناہوں میں سے پانچویں نمبر پر شمار کیا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔“ صحابہ نے پوچھا۔ ”یا رسول اللہ! وہ کون کون سے ہیں؟“ فرمایا ”اللہ سے شرک کرنا، جادو، ایسی جان کو ناحق کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے بھاگنا اور بھولی بھالی پاکباز مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔“ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب رمي المحصنات]
[172] ناپ تول میں کمی بیشی کے ذریعہ دوسروں کا مال کھانا اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے سیدنا شعیبؑ کی قوم کو تباہ و برباد کر ڈالا تھا۔ قرآن کریم میں ایک سورۃ کا نام ہی المطففین ہے یعنی وہ لوگ جو ناپ تول کرتے وقت اپنا حق تو دوسروں سے زیادہ وصول کرتے ہیں اور دیتے وقت دوسروں کو ان کے اصل حق سے کم دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے کام فریب کاری سے ہی ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ایسا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں روز آخرت اور اللہ کے حضور باز پرس کا خوف نہ ہو۔ پھر ان کا انجام یہ بتایا کہ ایسے لوگوں کے لیے تباہی ہی تباہی ہے۔
[172] ناپ تول میں کمی بیشی کے ذریعہ دوسروں کا مال کھانا اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے سیدنا شعیبؑ کی قوم کو تباہ و برباد کر ڈالا تھا۔ قرآن کریم میں ایک سورۃ کا نام ہی المطففین ہے یعنی وہ لوگ جو ناپ تول کرتے وقت اپنا حق تو دوسروں سے زیادہ وصول کرتے ہیں اور دیتے وقت دوسروں کو ان کے اصل حق سے کم دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے کام فریب کاری سے ہی ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ایسا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں روز آخرت اور اللہ کے حضور باز پرس کا خوف نہ ہو۔ پھر ان کا انجام یہ بتایا کہ ایسے لوگوں کے لیے تباہی ہی تباہی ہے۔
[173] عدل و انصاف سے بات کہنا:۔
اگرچہ عام بات چیت میں بھی کسی کے متعلق بے انصافی کی بات کرنا جرم ہے لیکن اگر شہادت کی صورت میں ہو تو جرم عظیم بن جاتی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کیا تو فرمایا: ”بڑے گناہ یہ ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا اور والدین کو ستانا۔“ پھر فرمایا ”میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ وہ ہے قول الزور (یعنی نا انصافی کی بات، یا ایسی بات جس میں ہیرا پھیری سے جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی جائے) یا ایسی ہی جھوٹی شہادت۔“ [بخاري۔ كتاب الادب۔ باب عقوق الوالدين من الكبائر]
اور آیت کا مفہوم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جب بھی تم بات کرو تو انصاف کی کرو سچے کو سچا کہو اور جھوٹے کو جھوٹا۔ خواہ اس کی زد تمہاری اپنی ذات پر پڑتی ہو یا کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار یا دوست پر۔ کوئی بات گول مول یا ہیرا پھیری سے بھی نہ کرو جس سے کسی دوسرے کی توہین کا پہلو نکلتا ہو یا اس کا کوئی حق تلف ہوتا ہو۔ یا اس سے متکلم کی ذات کو کسی قسم کا فائدہ پہنچتا ہو۔
[174] عہد کو بہرحال پورا کرنا فرض ہے خواہ یہ عہد انسان نے اللہ سے کیا ہو جیسے کوئی نذر یا منت ماننا یا اللہ کا نام لے کر دوسروں سے کیا ہو اور اس میں عقد نکاح اور بیوع بھی شامل ہیں۔ یا وہ عہد جسے عہد الست کہا جاتا ہے اور وہ انسان کی فطرت میں داخل ہے۔
[175] یعنی اے مشرکین اور یہود! کرنے کا کام تو یہ نو قسم کے احکام ہیں جن کی علمی سند ہر کتاب اللہ میں موجود ہے۔ ان کا تو تم خیال نہیں رکھتے اور خلاف ورزیاں کیے جاتے ہو اور جن شرکیہ افعال کو تم بجا لا رہے ہو۔ وہ تمہارے اپنے ہی خود ساختہ ہیں جن کی کوئی علمی سند موجود نہیں۔ لہٰذا اگر ہدایت مطلوب ہے تو اپنی سابقہ روش چھوڑ کر یہ طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ سیدنا موسیٰؑ کو کوہ طور پر لکھی لکھائی تختیاں دی گئیں۔ ان میں دس احکام مذکور تھے جنہیں احکام عشرہ کہتے ہیں۔ یہ احکام بعد میں تورات میں شامل کر دیئے گئے۔ ان دس احکام میں سے ایک حکم سبت کے دن کی تعظیم تھا۔ اگر اسے نکال دیا جائے تو باقی یہی نو احکام رہ جاتے ہیں جو ان آیات میں مذکور ہیں۔ یہود کو بالخصوص تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ تمہارے لیے جو بنیادی احکام تھے ان میں سے ایک ایک حکم کی تم نے خلاف ورزی کی اور اس کی دھجیاں اڑا دیں اور ان کے بجائے ایسے کاموں میں لگ گئے ہو جن کا تمہاری کتاب میں کہیں اشارہ تک نہیں ملتا۔
اور آیت کا مفہوم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جب بھی تم بات کرو تو انصاف کی کرو سچے کو سچا کہو اور جھوٹے کو جھوٹا۔ خواہ اس کی زد تمہاری اپنی ذات پر پڑتی ہو یا کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار یا دوست پر۔ کوئی بات گول مول یا ہیرا پھیری سے بھی نہ کرو جس سے کسی دوسرے کی توہین کا پہلو نکلتا ہو یا اس کا کوئی حق تلف ہوتا ہو۔ یا اس سے متکلم کی ذات کو کسی قسم کا فائدہ پہنچتا ہو۔
[174] عہد کو بہرحال پورا کرنا فرض ہے خواہ یہ عہد انسان نے اللہ سے کیا ہو جیسے کوئی نذر یا منت ماننا یا اللہ کا نام لے کر دوسروں سے کیا ہو اور اس میں عقد نکاح اور بیوع بھی شامل ہیں۔ یا وہ عہد جسے عہد الست کہا جاتا ہے اور وہ انسان کی فطرت میں داخل ہے۔
[175] یعنی اے مشرکین اور یہود! کرنے کا کام تو یہ نو قسم کے احکام ہیں جن کی علمی سند ہر کتاب اللہ میں موجود ہے۔ ان کا تو تم خیال نہیں رکھتے اور خلاف ورزیاں کیے جاتے ہو اور جن شرکیہ افعال کو تم بجا لا رہے ہو۔ وہ تمہارے اپنے ہی خود ساختہ ہیں جن کی کوئی علمی سند موجود نہیں۔ لہٰذا اگر ہدایت مطلوب ہے تو اپنی سابقہ روش چھوڑ کر یہ طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ سیدنا موسیٰؑ کو کوہ طور پر لکھی لکھائی تختیاں دی گئیں۔ ان میں دس احکام مذکور تھے جنہیں احکام عشرہ کہتے ہیں۔ یہ احکام بعد میں تورات میں شامل کر دیئے گئے۔ ان دس احکام میں سے ایک حکم سبت کے دن کی تعظیم تھا۔ اگر اسے نکال دیا جائے تو باقی یہی نو احکام رہ جاتے ہیں جو ان آیات میں مذکور ہیں۔ یہود کو بالخصوص تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ تمہارے لیے جو بنیادی احکام تھے ان میں سے ایک ایک حکم کی تم نے خلاف ورزی کی اور اس کی دھجیاں اڑا دیں اور ان کے بجائے ایسے کاموں میں لگ گئے ہو جن کا تمہاری کتاب میں کہیں اشارہ تک نہیں ملتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ٭٭
ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ { جب آیت «وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ» اور آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا» ۱؎ [4-النساء:10] نازل ہوئیں تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے بالکل الگ تھلگ کردیا اس میں علاوہ ان لوگوں کے نقصان اور محنت کے یتیموں کا نقصان بھی ہونے لگا اگر بچ رہا تو یا تو وہ باسی کھائیں یا سڑ کر خراب ہو جائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ہوا تو آیت «وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:220] نازل ہوئی کہ ’ ان کے لیے خیر خواہی کرو ان کا کھانا پینا ساتھ رکھنے میں کوئی حرج نہیں وہ تمہارے بھائی ہیں ‘۔ اسے پڑھ کر سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کا کھانا اپنے ساتھ ملا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2871،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ حکم ان کے سن بلوغ تک پہنچنے تک ہے گو بعض نے تیس سال بعض نے چالیس سال اور بعض نے ساٹھ سال کہے ہیں لیکن یہ سب قول یہاں مناسب نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ حکم ان کے سن بلوغ تک پہنچنے تک ہے گو بعض نے تیس سال بعض نے چالیس سال اور بعض نے ساٹھ سال کہے ہیں لیکن یہ سب قول یہاں مناسب نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر حکم فرمایا کہ ’ لین دین میں، ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو، ان کے لیے ہلاکت ہے جو لیتے وقت پورا لیں اور دیتے وقت کم دیں، ان امتوں کو اللہ نے غارت کر دیا جن میں یہ بد خصلت تھی ‘ -جامع ابو عیسیٰ ترمذی میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپنے اور تولنے والوں سے فرمایا: { تم ایک ایسی چیز کے والی بنائے گئے ہو، جس کی صحیح نگرانی نہ رکھنے والے تباہ ہو گئے } } - ۱؎ [سنن ترمذي:1217،قال الشيخ الألباني:موقوفاً صحیح]
پھر فرماتا ہے ’ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہم نہیں لادتے ‘ یعنی اگر کسی شخص نے اپنی طاقت بھر کوشش کرلی دوسرے کا حق دے دیا، اپنے حق سے زیادہ نہ لیا، پھر بھی نادانستگی میں غلطی سے کوئی بات رہ گئی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی پکڑ نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے یہ دونوں جملے تلاوت کرکے فرمایا کہ { جس نے صحیح نیت سے وزن کیا، تولا، پھر بھی واقع میں کوئی کمی زیادتی بھول چوک سے ہو گئی تو اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:105/3:مرسل] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہم نہیں لادتے ‘ یعنی اگر کسی شخص نے اپنی طاقت بھر کوشش کرلی دوسرے کا حق دے دیا، اپنے حق سے زیادہ نہ لیا، پھر بھی نادانستگی میں غلطی سے کوئی بات رہ گئی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی پکڑ نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے یہ دونوں جملے تلاوت کرکے فرمایا کہ { جس نے صحیح نیت سے وزن کیا، تولا، پھر بھی واقع میں کوئی کمی زیادتی بھول چوک سے ہو گئی تو اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:105/3:مرسل] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ بات انصاف کی کہا کرو کہ قرابت داری کے معاملے میں ہی کچھ کہنا پڑے ‘ -جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ» ۱؎ [5-المائدہ:8] اور سورۃ نساء میں بھی یہی حکم دیا کہ «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلّٰهِ» [4-النساء:135] ’ ہر شخص کو ہر حال میں سچائی اور انصاف نہ چھوڑنا چاہیئے، جھوٹی گواہی اور غلط فیصلے سے بچنا چاہیئے ‘۔
اللہ کے عہد کو پورا کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے الگ رہو، اس کی کتاب اس کے رسول کی سنت پر چلتے رہو، یہی اس کے عہد کو پورا کرنا ہے، انہی چیزوں کے بارے اللہ کا تاکیدی حکم ہے، یہی فرمان تمہارے وعظ و نصیحت کا ذریعہ ہیں تاکہ تم جو اس سے پہلے نکمے بلکہ برے کاموں میں تھے، اب ان سے الگ ہو جاؤ۔ بعض کی قرأت میں «تَذَّكَـرُوْنَ» بھی ہے۔
اللہ کے عہد کو پورا کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے الگ رہو، اس کی کتاب اس کے رسول کی سنت پر چلتے رہو، یہی اس کے عہد کو پورا کرنا ہے، انہی چیزوں کے بارے اللہ کا تاکیدی حکم ہے، یہی فرمان تمہارے وعظ و نصیحت کا ذریعہ ہیں تاکہ تم جو اس سے پہلے نکمے بلکہ برے کاموں میں تھے، اب ان سے الگ ہو جاؤ۔ بعض کی قرأت میں «تَذَّكَـرُوْنَ» بھی ہے۔