(آیت 15) {قُلْاِنِّيْۤاَخَافُ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کروا کر دوسرے سب لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اگر بفرض محال ہمارے معصوم اور سب سے زیادہ نیک بندے سے بھی نافرمانی کا ارتکاب ہو جائے تو وہ بھی ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکتا، پھر دوسروں کے لیے کیسے ممکن ہے کہ انبیاء کو جھٹلانے جیسے جرائم کرنے کے باوجود ہمارے عذاب سے بے فکر ہو کر بیٹھ رہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۸۱ تا ۸۸ اور سورۂ زمر (۶۴، ۶۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 یعنی اگر میں نے بھی رب کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنا لیا تو میں بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکوں گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ نیز آپ کہئے: ”اگر میں اپنے [16] پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
[16] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اللہ کی نافرمانی ہونا ناممکنات سے ہے دراصل یہ دوسرے لوگوں کو تنبیہ و تہدید کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول بھی اللہ کی نافرمانی کرے تو قیامت کے دن اس سے بھی باز پرس ہو سکتی ہے پھر دوسرے لوگ اپنا انجام خود سوچ لیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔