ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 137

وَ کَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیۡرٍ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ قَتۡلَ اَوۡلَادِہِمۡ شُرَکَآؤُہُمۡ لِیُرۡدُوۡہُمۡ وَ لِیَلۡبِسُوۡا عَلَیۡہِمۡ دِیۡنَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۳۷﴾
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے اپنی اولاد کو مار ڈالنا ان کے شریکوں نے خوش نما بنا دیا، تاکہ وہ انھیں ہلاک کریں اور تاکہ وہ ان پر ان کا دین خلط ملط کریں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس چھوڑ انھیں اور جو وہ جھوٹ باندھتے ہیں۔ En
اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ
En
اور اسی طرح بہت سے مشرکین کے خیال میں ان کے معبودوں نے ان کی اوﻻد کے قتل کرنے کو مستحسن بنا رکھا ہے تاکہ وه ان کو برباد کریں اور تاکہ ان کے دین کو ان پر مشتبہ کردیں اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو یہ ایسا کام نہ کرتے تو آپ ان کو اور جو کچھ یہ غلط باتیں بنا رہے ہیں یونہی رہنے دیجئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 137) ➊ {وَ كَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ……:} یہ ان کی دوسری جہالت اور گمراہی تھی، اس کا عطف {جَعَلُوْا} پر ہے، یعنی جیسے کھیتی اور جانوروں میں سے انھوں نے اپنے شرکاء کا حصہ مقرر کیا، اسی طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے شرکاء نے اپنی اولاد کو قتل کرنا بھی خوش نما بنا دیا اور عام طور پر ان کے سامنے تین چیزیں جواز کے بہانے کے طور پر رکھ دیں، ایک یہ کہ انھیں کہاں سے کھلاؤ گے، یعنی: «خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ» ‏‏‏‏ [بنی إسرائیل: ۳۱] مفلسی کے ڈر سے۔ جیسا کہ آج کل کے نام نہاد مسلمان بھی منصوبہ بندی کے نام پر یہ کام کر رہے ہیں، کفار کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ دوسرا لڑکی کا باعثِ عار ہونا، جیسا کہ فرمایا: «{يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ ‏‏‏‏ [النحل: ۵۹] وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس خوش خبری کی برائی کی وجہ سے جو اسے دی گئی۔ اور تیسرا اپنے شریکوں کو خوش کرنے کے لیے اولاد کو ان کے نام پر ذبح کر دینا جسے ہندو بھینٹ چڑھانا کہتے ہیں اور ان پروہتوں اور بت خانوں کے پجاریوں کو شریک اس لیے کہا کہ وہ انھیں اپنے نفع و نقصان میں دخیل سمجھتے تھے اور انھی کی ترغیب پر بچوں کو بھینٹ چڑھاتے تھے، جیسا کہ آج کل کئی قبروں کے پجاری یہ کام کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ اﷲ کے حکم کے مقابلے میں کسی اور کا حکم ماننا بھی اسے شریک بنانا ہے اور سب سے بڑا شریک تو شیطان ہے جس کے خوش نما بنانے پر وہ اﷲ کے ساتھ شرک اور اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔
➋ {لِيُرْدُوْهُمْ وَ لِيَلْبِسُوْا عَلَيْهِمْ دِيْنَهُمْ: لِيُرْدُوْهُمْ } باب افعال سے { اَرْدٰي يُرْدِيْ } کا معنی ہے۔ ہلاک کرنا۔{ لِيَلْبِسُوْا } اگر {لَبَسَ يَلْبِسُ} (ض) ہو تو خلط ملط کرنا اور{ لَبِسَ يَلْبَسُ } (س) ہو تو پہننا۔ اہل عرب اصل میں ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہونے کے مدعی تھے، لیکن شیطان نے آہستہ آہستہ بت پرستی، قتل اولاد اور بہت سی غلط باتیں ان کے دین میں داخل کر دی تھیں۔ فرمایا کہ ان کے شرکاء نے یہ سب کچھ انھیں برباد کرنے اور ان کے دین کو خلط ملط کرنے کے لیے کیا۔
➌ {وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ ……:} مگر یہ جبر ہوتا اور اس اختیار کے خلاف ہوتا جو اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے کر امتحان لے رہا تھا، اس لیے آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، ان کی ان تمام حرکتوں کو افترا (جھوٹ باندھنا) قرار دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

137۔ 1 یہ اشارہ ہے ان کی بچیوں کے زندہ درگور کردینے یا بتوں کی بھینٹ چڑھانے کی طرف۔ 137۔ 2 یعنی ان کے دین میں شرک کی آمیزش کردیں۔ 137۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے اختیارات اور قدرت سے ان کے ارادہ و اختیار کی آزادی کو سلب کرلیتا، تو پھر یقینا یہ وہ کام نہ کرتے جو مذکور ہوئے ہی لیکن ایسا کرنا چونکہ جبر ہوتا، جس میں انسان کی آزمائش نہیں ہوسکتی تھی، جب کہ اللہ انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر آزمانا چاہتا ہے، اس لئے اللہ نے جبر نہیں فرمایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

137۔ اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اولاد [145] کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے تاکہ انہیں ہلاک [146] کر دیں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ [147] بنا دیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ لہذا انہیں جانے دیجئے اور اس افتراء کو بھی جس میں وہ لگے ہوئے ہیں
[145] قتل اولاد کی تین وجوہ:۔
دور جاہلیت میں اولاد کو تین وجوہ سے قتل کیا جاتا تھا۔
(1) بیٹیوں کو اس عار کی وجہ سے زندہ درگور کرتے تھے کہ کوئی نہ کوئی ان کا داماد بنے گا جس کے آگے ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی اور اس لیے بھی کہ اگر وہ کسی دوسرے قبیلے میں چلی گئی یا بیاہی گئی تو کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہو جائیں گے کیونکہ ان میں رائج قبائلی نظام عصبیت کے سہارے چلتا اور جھگڑوں اور جنگوں پر ختم ہوتا تھا۔
(2) اللہ پر عدم توکل: بعض لوگ اپنی اولاد کو خواہ بیٹا ہو یا بیٹی، اس لیے مار ڈالتے تھے کہ ان کا خرچ برداشت نہ کر سکیں گے یا اپنا معیار زندگی برقرار نہ رکھ سکیں گے اور اس جرم میں آج کی دنیا کا تقریباً پورا معاشرہ شریک ہے جو خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر برتھ کنٹرول، اسقاط حمل اور عورتوں اور مردوں کو بانجھ بنانے کے طریقے دریافت کر کے اس جرم کا علانیہ ارتکاب کر رہے ہیں اور یہ کام حکومتوں کی سرپرستی میں ہوتے ہیں اور اس فعل کو بہت مستحسن قرار دیا گیا ہے۔
(3) بتوں کے نام پر منت۔ یعنی اگر میرے ہاں اتنے بیٹے پیدا ہوں تو میں ایک بیٹا فلاں بت کے حضور قربان کروں گا جیسا کہ آپ کے دادا عبد المطلب نے بھی یہ منت مانی تھی کہ اگر میرے ہاں بارہ بیٹے پیدا ہوئے تو ایک بیٹے کی قربانی دوں گا۔ پھر اس منت کا قرعہ آپ کے باپ عبد اللہ کے نام نکلتا تھا جو بالآخر سو اونٹوں کی دیت کے مقابل ٹھہرایا مثلاً یہ کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں ایک بیٹا یا بیٹی فلاں بت کے حضور قربانی دوں گا۔
مبتدعین بھی در اصل اللہ کے شریک ہوتے ہیں:۔
اس آیت میں شریکوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قتل کی مندرجہ بالا صورتوں کو ایجاد کیا تھا اور جنہیں معاشرہ نے قبول کر لیا تھا۔ چونکہ شرعی نقطہ نظر سے ہر طرح کی قانون سازی کا اختیار اللہ کو ہے لہٰذا ان رسوم کے موجد اللہ کے شریک ٹھہرے۔ ان لوگوں کا جرم صرف یہ نہ تھا کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کرتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑا جرم یہ تھا کہ وہ ایسے کاموں کو جرم سمجھنے کی بجائے انہیں اچھے اور اپنی فلاح و بہبود کے کام سمجھتے تھے۔
[146] ہلاکت سے مراد دونوں طرح کی ہلاکت ہے اخلاقی بھی اور تمدنی بھی۔ اخلاقی اس لحاظ سے کہ قتل بذات خود ایسا شدید ترین جرم ہے جو انسان میں شقاوت اور سنگدلی پیدا کرتا ہے جس سے وہ مزید قتل پر دلیر ہو جاتا ہے اور قتل اولاد تو عام قتل سے بھی بڑا جرم ہوا۔ یہ اسی کا اثر تھا کہ قبائلی عرب میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اگر جھگڑا اٹھ کھڑا ہوتا تو فوراً قتل و غارت شروع ہو جاتی۔ اس معاشرہ میں انتہا درجہ کی خون کی ارزانی واقع ہو چکی تھی اور اخلاقی انحطاط اس درجہ پیدا ہو گیا تھا کہ نہ کسی کی جان محفوظ رہی تھی نہ مال اور نہ آبرو۔ اور تمدنی ہلاکت اس لحاظ سے کہ جو قوم اس طرح اپنی اولاد کو ختم کرنا شروع کر دے وہ اس دنیا میں کب تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔ پھر ایسے کاموں کے نتیجہ میں آخرت میں ان کی ہلاکت ایسی حقیقت ہے جس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں۔
[147] مشرکین مکہ کی بعض اچھی صفات:۔
مشرکین مکہ اپنے آپ کو سیدنا ابراہیمؑ کا پیروکار قرار دیتے تھے۔ پھر ان میں کچھ اچھی باتیں بھی موجود تھیں جن سے اس بات کا شبہ ہوتا تھا۔ مثلاً عبادات میں بیت اللہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی اور حج و عمرہ کی عبادات بجا لانا اگرچہ ان میں بھی کئی غلط رسوم اور عقائد شامل ہو چکے تھے اور اخلاقیات اور معاملات میں مہمان نوازی، عہد کی پابندی اور صدق مقال جھوٹ سے اجتناب، کسی کو امان دینا تو پھر اسے پوری ذمہ داری سے نبھانا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن دور نبوی تک ان کا مذہب شرک و بدعات کے ملغوبہ میں دب کر رہ گیا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ صحف ابراہیم محفوظ نہیں رہے تھے اور یہ معلوم کرنے کا کوئی معیار نہ تھا کہ فلاں کام یا فلاں رسم کب شروع ہوئی اور اس کا کوئی شرعی جواز ہے یا نہیں۔ دوسری وجہ امتداد زمانہ ہے یعنی سیدنا ابراہیمؑ سے لے کر آپ کی بعثت تک تین ہزار سال کی مدت۔ اس دوران بے شمار شرک و بدعات کے موجد پیدا ہوتے رہے اور اپنی اختراعات اس دین میں شامل کرتے رہے اور کوئی حقیقی معیار موجود نہ ہونے کی وجہ سے قوم انہیں دین کا جزو سمجھتی اور اس پر عمل پیرا ہوتی رہی۔
مشرکین مکہ میں آخرت کے انکار کا عقیدہ کب رائج ہوا؟
ان امور کی تو کسی نہ کسی حد تک سمجھ آتی ہے مگر جس بات کا سراغ لگانا مشکل ہے وہ یہ بات ہے کہ مشرکین مکہ میں سے اکثر اللہ کے خالق و مالک ہونے کے تو قائل تھے مگر حشر و نشر، قیامت اور اخروی جزا و سزا کے منکر تھے۔ کسی نبی کے پیروکاروں میں ایمان کے ایسے لازمی جز کا مفقود ہو جانا بڑی حیرانگی کی بات ہے۔ ان مشرکین میں آخرت کے انکار کے عقیدہ کا موجد کون تھا اور یہ عقیدہ کس زمانہ میں ایجاد ہوا تھا، اس کے متعلق کچھ کہنا مشکل ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شیطان کے چیلے ٭٭
جیسے کہ شیطانوں نے انہیں راہ پر لگا دیا ہے کہ وہ اللہ کے لیے خیرات کریں تو اپنے بزرگوں کا نام کا بھی حصہ نکالیں اسی طرح انہیں شیطان نے اس راہ پر بھی لگا رکھا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بے وجہ قتل کردیں۔ کوئی اس وجہ سے کہ ہم اسے کھلائیں گے کہاں سے؟ کوئی اس وجہ سے کہ ان بیٹیوں کی بنا پر ہم کسی کے خسر بنیں گے وغیرہ۔
اس شیطانی حرکت کا نتیجہ ہلاکت اور دین کی الجھن ہے۔ یہاں تک کہ یہ بدترین طریقہ ان میں پھیل گیا تھا کہ لڑکی کے ہونے کی خبر ان کے چہرے سیاہ کر دیتی تھی ان کے منہ سے یہ نکلتا نہ تھا کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی۔ قرآن نے فرمایا کہ ’ ان بےگناہ زندہ درگور کی ہوئی بچیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ پر قتل کر دی گئیں ‘۔
پس یہ سب وسوسے شیطانی تھے لیکن یہ یاد رہے کہ رب کا ارادہ اور اختیار اس سے الگ نہ تھا اگر وہ چاہتا تو مشرک ایسا نہ کر سکتے۔ لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا اور اس کی بازپرس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
پس ’ اے نبی تو ان سے اور ان کی اس افترا پردازی سے علیحدگی اختیار کرلو اللہ خود ان سے نمٹ لے گا ‘۔