تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا:} یہ دوسری صورت ہے کہ وہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور ان سے سواری یا بوجھ اٹھوانے کا کام نہ لیتے، جیسے بحیرہ، سائبہ وغیرہ۔ دیکھیے سورۂ مائدہ(۱۰۳)۔
➌ { وَ اَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا ……: } یہ تیسری صورت ہے کہ وہ کچھ جانوروں کو بت خانوں کے مجاوروں کے لیے خاص کرتے ہوئے انھیں ذبح کرتے وقت یا سوار ہوتے وقت صرف اپنے بت کا نام لیتے، اﷲ کا نام نہ لیتے، بلکہ ان پر حج کے لیے بھی نہ جاتے، تاکہ ان مجاوروں کے سوا کوئی انھیں استعمال نہ کر سکے۔ بہرحال یہ ساری صورتیں گھڑی ہوئی تو ان کی اپنی تھیں مگر وہ اﷲ پر جھوٹ باندھتے اور باور کرواتے کہ یہ اﷲ کا حکم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) ان مشرکوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ جس کھیتی یا مویشی کے متعلق وہ یہ منت مان لیتے کہ وہ فلاں بت یا فلاں دربار یا فلاں سیدہ کے لیے مخصوص ہے تو ایسی نیاز کو ہر ایک نہیں کھا سکتا تھا بلکہ اس کے متعلق بھی انہوں نے ایک فہرست بنا رکھی تھی۔ کہ فلاں قسم کی نذر ہو تو اسے فلاں فلاں لوگ کھا سکتے ہیں اور فلاں قسم کی ہو تو فلاں فلاں۔
(2) جن مویشیوں کو بتوں یا درباروں کی نذر کیا جاتا ان پر عام لوگوں اور اصل مالک کا بھی سواری کرنا حرام تھا حتیٰ کہ حج کے سفر میں بھی اس پر سوار ہونا ممنوع تھا۔ کیونکہ اس وقت انہیں «لبيك اللهم لبيك» کہنا پڑتا تھا۔
(3) ان نذر کردہ جانوروں سے صرف دربار کے مجاور اور بتوں کے پروہت ہی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ مگر اب ان پر اللہ کا نام لینا ممنوع تھا کیونکہ وہ معبودان باطل کے لیے وقف ہو چکے تھے۔ دودھ دوہتے وقت، سواری کرتے وقت، ذبح کرتے وقت اور کھاتے وقت غرض کسی وقت بھی ان پر اب اللہ کا نام لینا ممنوع تھا۔ تاکہ اس معبود کی نذر و نیاز میں اللہ کی شراکت نہ ہونے پائے۔
(4) جو مویشی بتوں یا آستانوں کے نام وقف ہو چکے مثلاً بحیرہ، سائبہ وغیرہ وغیرہ ان میں ماداؤں کو ذبح کرنے کے بعد اگر ان کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلے تو اس کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں عورتیں نہیں کھا سکتیں۔ ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہو یا پیدا ہوتے ہی مر جائے تو اس میں عورتیں بھی شریک ہو سکتی ہیں اور ایسی یا اس سے ملتی جلتی رسوم ہمارے ہاں بھی رائج ہیں مثلاً بی بی صاحبہ کی صحنک جسے صرف سہاگن عورتیں ہی کھا سکتی ہیں۔ مرد اور بیوہ عورتیں نہیں کھا سکتیں۔ یہ سب کفر و شرک کی باتیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا» [10-یونس:59] یعنی ’ بتلاؤ تو یہ اللہ کے دیئے رزق میں سے تم جو اپنے طور پر حلال حرام مقرر کر لیتے ہو اس کا حکم تمہیں اللہ نے دیا ہے یا تم نے خود ہی خود پر تراش لیا ہے؟ ‘
دوسری آیت میں صاف فرمایا «مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:103] یعنی ’ یہ کافروں کی نادانی، افتراء اور جھوٹ ہے۔ بحیرہ سائبہ اور حام نام رکھ کر ان جانوروں کو اپنے معبودان باطل کے نام پر داغ دیتے تھے پھر ان سے سواری نہیں لیتے تھے، جب ان کے بچے ہوتے تھے تو انہیں ذبح کرتے تھے حج کے لیے بھی ان جانوروں پر سواری کرنا حرام جانتے تھے ‘۔
نہ کسی کام میں ان کو لگاتے تھے نہ ان کا دودھ نکالتے تھے پھر ان کاموں کو شرعی کام قرار دیتے تھے اور اللہ کا فرمان جانتے تھے اللہ انہیں ان کے اس کرتوت کا اور بہتان بازی کا بدلہ دے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن أنواع سفاهتهم أن الأنعام التي أحلَّها الله لهم عموماً وجعلها رزقاً ورحمة يتمتَّعون بها وينتفعون قد اخترعوا فيها بدعاً وأقوالاً من تلقاء أنفسهم؛ فعندهم اصطلاح في بعض الأنعام والحرث أنهم يقولون فيها: {هذه أنعامٌ وحَرْثٌ حِجْرٌ}؛ أي: محرم. لا يطعمه {إلا من نشاء}؛ أي: لا يجوز أن يَطْعَمُه أحدٌ إلاَّ مَن أردنا أن يُطعمه أو وصفناه بوصفٍ من عندنا، وكلُّ هذا بزعمهم لا مستندَ لهم ولا حجة إلا أهويتهم وآراؤهم الفاسدة.
وأنعام ليست محرمةً من كل وجه، بل يحرِّمون ظهورها؛ أي: بالركوب والحمل عليها، ويحمون ظهرها، ويسمونها الحام.
وأنعام لا يذكرون اسم الله عليها، بل يذكرون اسم أصنامهم وما كانوا يعبدون من دون الله عليها، وينسبون تلك الأفعال إلى الله، وهم كَذَبَةٌ فُجَّارٌ في ذلك. {سيجزيهم بما كانوا يفترونَ}: على الله من إحلال الشرك وتحريم الحلال من الأكل والمنافع.