تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[144] تیسرا ظلم وہ مشرک یہ کرتے تھے کہ اگر معبودوں کے حصہ میں کسی طرح کمی واقع ہو جاتی، فصل کم پیدا ہوتی یا طوفان سے تباہ ہو جاتی تو یہ کمی اللہ کے حصہ سے پوری کر دیا کرتے تھے اور اگر اللہ کے حصہ میں کمی واقع ہوتی تو اسے معبودوں کے حصہ سے پورا نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اللہ کا حصہ کتنا مقرر کر رکھا تھا اور اپنے معبودوں کا کتنا؟ یہ تفصیل کہیں نہیں ملتی۔ یہ بس ان کی اپنی ہی قیاس آرائیوں کے مطابق طے کیا گیا تھا۔ اللہ کا حصہ تو وہ فقیروں یتیموں وغیرہ میں تقسیم کر دیتے اور معبودوں کا حصہ مندروں کے پجاریوں یا سرپرستوں کو۔ اور بتوں کے سامنے جو نذر و نیاز رکھی جاتی وہ بھی بالواسطہ ان پجاریوں کو ہی پہنچ جاتی تھی۔ ان مہنتوں اور پجاریوں نے ہی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مشرکین کو یہ پٹی پڑھائی تھی کہ اگر اللہ کے حصہ میں کمی واقع ہو جائے تو کوئی پروا نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے وہ اپنے خزانوں سے یہ کمی پوری کر سکتا ہے، مگر ان دیوی دیوتاؤں کے حصہ میں کسی طرح کمی واقع نہ ہونی چاہیے گویا اس مشرکانہ رسم میں وہ لوگ تین طرح کے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے۔
(1) مالی عبادت میں اللہ کے ساتھ اپنے معبودوں کو شریک بنانا۔
(2) اللہ کا الگ اور معبودوں کا الگ حصہ مقرر کرنا۔ اس بات میں پروہتوں کا یہ شرک تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو شارع کی حیثیت دے رکھی تھی اور عام لوگوں کا شرک یہ تھا کہ وہ ان کی اس بات کو مذہبی طور پر تسلیم کرتے تھے۔
(3) اس تقسیم میں بھی اللہ کے حق میں نا انصافی کرتے تھے اور اس جرم میں پروہت اور عام مشرک سب شریک تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اولاً تو یہ تقسیم ہی جہالت کی علامت ہے کہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی اسی کی ملکیت پھر ان میں سے دوسرے کے نام کی کسی چیز کو نذر کرنے والے یہ کون؟ جو اللہ لا شریک ہے انہیں اس کے شریک ٹھہرانے کا کیا مقصد؟ پھر اس ظلم کو دیکھو اللہ کے حصے میں سے تو بتوں کو پہنچ جائے اور بتوں کا حصہ ہرگز اللہ کو نہ پہنچ سکے یہ کیسے بدترین اصول ہیں۔ ایسی ہی غلطی یہ بھی تھی کہ «وَيَجْعَلُونَ لِلَّـهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [16-النحل:57] ’ اللہ کے لیے لڑکیاں اور اپنے لیے لڑکے ‘، اور جیسے کہ آیت میں ہے «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:21،22] ’ (مشرکو!) کیا تمہارے لیے تو بیٹے اور خدا کے لیے بیٹیاں جن لڑکیوں سے تم بیزار وہ اللہ کی ہوں، کیسی بری تقسیم ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عما عليه المشركون المكذِّبون للنبي - صلى الله عليه وسلم - من سفاهة العقل وخفة الأحلام والجهل البليغ، وعدَّد تبارك وتعالى شيئاً من خرافاتهم؛ لينبِّه بذلك على ضلالهم والحذر منهم، وأن معارضة أمثال هؤلاء السفهاء للحقِّ الذي جاء به الرسول لا تقدح فيه أصلاً؛ فإنَّهم لا أهليَّة لهم في مقابلة الحق، فذكر من ذلك أنهم: {جعلوا للهِ} نصيباً {مما ذَرَأ من الحَرْثِ والأنعام}: ولشركائهم من ذلك نصيباً، والحال أنَّ الله تعالى هو الذي ذرأه للعباد وأوجده رزقاً، فجمعوا بين محذورين محظورين، بل ثلاثة محاذير:
منَّتهم على الله في جعلهم له نصيباً مع اعتقادهم أنَّ ذلك منهم تبرُّع.
وإشراك الشركاء الذين لم يرزُقوهم ولم يوجدوا لهم شيئاً في ذلك.
وحكمهم الجائر في أنَّ ما كان للهِ لم يبالوا به ولم يهتمُّوا، ولو كان واصلاً إلى الشركاء وما كان لشركائهم؛ اعتنوا به واحتفظوا به ولم يصلْ إلى الله منه شيءٌ، وذلك أنهم إذا حصل لهم من زروعهم وثمارهم وأنعامهم التي أوجدها الله لهم شيء؛ جعلوه قسمينِ: قسماً قالوا: هذا لله بقولهم وزعمهم، وإلاَّ؛ فالله لا يقبلُ إلا ما كان خالصاً لوجهه ولا يقبلُ عمل مَن أشرك به، وقسماً جعلوه حصة شركائِهِم من الأوثان والأنداد؛ فإن وصل شيء مما جعلوه لله واختلط بما جعلوه لغيره؛ لم يبالوا بذلك، وقالوا: الله غنيٌّ عنه فلا يردُّونه، وإن وصل شيءٌ مما جعلوه لآلهتهم إلى ما جعلوه لله؛ ردُّوه إلى محلِّه، وقالوا: إنها فقراء، لا بدَّ من ردِّ نصيبها؛ فهل أسوأ من هذا الحكم وأظلم حيث جعلوا ما للمخلوق يجتهد فيه وينصح ويحفظ أكثر مما يفعل بحقِّ الله.
ويحتمل أن تأويل الآية الكريمة ما ثبت في «الصحيح» عن النبي - صلى الله عليه وسلم -: أنَّه قال عن الله تعالى: أنّه قال: «أنا أغنى الشُّركاءِ عن الشرك، مَنْ أشرك معي شيئاً؛ تركتُه وشِرْكَه» ، وأنَّ معنى الآية أنَّ ما جعلوه وتقربوا به لأوثانهم فهو تقرُّبٌ خالصٌ لغير الله، ليس لله منه شيءٌ، وما جعلوه لله على زعمهم؛ فإنه لا يصل إليه؛ لكونِهِ شركاً، بل يكون حظَّ الشركاء والأنداد؛ لأن الله غنيٌّ عنه، لا يقبل العمل الذي أشرك به معه أحدٌ من الخلق.