یہ اس لیے کہ بے شک تیرا رب کبھی بستیوں کو (ان کے) کسی ظلم کی وجہ سے ہلاک کرنے والا نہیں، جب کہ اس کے رہنے والے بے خبر ہوں۔
En
(اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو
(آیت 131){ ذٰلِكَاَنْلَّمْيَكُنْرَّبُّكَ:} یعنی ان کے پاس کوئی پیغمبر یا اس کا نائب نہ پہنچا ہو اور اس نے انھیں حقیقت حال سے آگاہ نہ کر دیا ہو۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
131۔ 1 یعنی رسولوں کے ذریعے سے جب تک اپنی حجت قائم نہیں کردیتا، ہلاک نہیں کرتا جیسا کہ یہی بات سورة فاطر آیت، 42۔ سورة نحل 62، سورة بنی اسرائیل 15 اور سورة ملک 8، 9 وغیرہ میں بیان کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
131۔ یہ شہادت اس لیے ہو گی کہ آپ کے پروردگار کا یہ دستور نہیں کہ وہ بستیوں کو ظلم سے تباہ کر ڈالے جبکہ وہ حقیقت حال [139] سے ناواقف ہوں
[139] اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ لوگوں کو ان کے گناہوں کے انجام سے خبردار کیے بغیر انہیں اس دنیا میں تباہ کر ڈالے یا آخرت میں عذاب دے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بے شمار انبیاء لوگوں کی ہدایت اور انہیں ڈرانے کے لیے بھیجے اور قرآن میں ایک جگہ فرمایا: ﴿وَاِنْمِّنْاُمَّةٍاِلَّاخَلَافِيْهَانَذِيْرٌ﴾ یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو۔ اور یہ ڈرانے والے جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے ہوتے تھے۔ پھر جس جس نے ان انبیاء کی دعوت پر لبیک کہا اور اعمال صالحہ بجا لایا۔ تو ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجات عطا ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حجت تمام ٭٭
جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کر دیئے اس لیے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے - فرماتا ہے آیت «وَاِنْمِّنْاُمَّةٍاِلَّاخَلَافِيْهَانَذِيْرٌ»۱؎[35-فاطر:24] یعنی ’ کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْبَعَثْنَافِيكُلِّأُمَّةٍرَّسُولًاأَنِاعْبُدُوااللَّـهَوَاجْتَنِبُواالطَّاغُوتَ»۱؎[16-النحل:36] ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو! اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَاكُنَّامُعَذِّبِينَحَتَّىٰنَبْعَثَرَسُولًا»۱؎[17-الإسراء:15] ’ ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے ‘۔ سورۃ تبارک میں ہے «تَكَادُتَمَيَّزُمِنَالْغَيْظِكُلَّمَاأُلْقِيَفِيهَافَوْجٌسَأَلَهُمْخَزَنَتُهَاأَلَمْيَأْتِكُمْنَذِيرٌقَالُوابَلَىٰقَدْجَاءَنَانَذِيرٌفَكَذَّبْنَاوَقُلْنَامَانَزَّلَاللَّـهُمِنشَيْءٍإِنْأَنتُمْإِلَّافِيضَلَالٍكَبِيرٍ»۱؎[67-الملك:8-9] ’ جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے آئے تھے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ ”کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا، خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔“ بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں