ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 100

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ وَ خَلَقَہُمۡ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪
اور انھوں نے جنوں کو اللہ کے شریک بنا دیا، حالانکہ اس نے انھیں پیدا کیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں کچھ جانے بغیر تراش لیں، وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ En
اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے
En
اور لوگوں نے شیاطین کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے رکھا ہے حاﻻنکہ ان لوگوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور ان لوگوں نے اللہ کے حق میں بیٹے اور بیٹیاں بلا سند تراش رکھی ہیں اور وه پاک اور برتر ہے ان باتوں سے جو یہ کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 100) {وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ …:} اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کے لیے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں میں سے پانچ دلائل بیان فرمائے، اب بتایا کہ بعض لوگ پھر بھی اللہ کے لیے جنوں کو شریک بناتے ہیں، حالانکہ انھیں بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے، پھر مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہرانا سرا سر جہالت نہیں تو کیا ہے؟ (رازی)
عرب میں بعض فرقے ایسے بھی تھے جو جنات اور خبیث شیطانوں کی عبادت کرتے تھے اور مصیبت کے وقت ان کے نام کی دہائی دیتے اور کائنات میں ان کا تصرف مانتے تھے۔ ان سب کی اس آیت میں تردید فرمائی کہ بے سمجھے انھوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں۔ چنانچہ عرب کے مشرکین فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ فرمایا، اللہ تعالیٰ ان گھڑی ہوئی باتوں سے پاک ہے۔ بعض سلف نے فرمایا کہ یہ آیت ان زندیقوں اور مجوسیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کو انسانوں، جانوروں اور ہر اچھی چیز کا خالق سمجھتے اور اسے یزداں کہتے تھے اور شیطان (ابلیس) کو درندوں، سانپوں اور ہر قسم کے شر کا خالق سمجھتے تھے اور اسے اہرمن کہتے تھے اور ان دونوں کو کائنات کے پیدا کرنے میں اللہ کا شریک بناتے تھے، حالانکہ ان کا اور ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے اہل علم نے مجوس کو زنادقہ (بالکل بے دین) قرار دیا ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں کہ زیر تفسیر آیت کی مذکورہ توجیہات میں سے یہ بہترین توجیہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

100۔ ان لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنا دیا [103] حالانکہ اللہ نے ہی انہیں پیدا کیا ہے۔ پھر بغیر علم کے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ ڈالے۔ جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں اللہ اس سے پاک اور بہت بلند ہے
[103] اللہ کی اولاد کا عقیدہ:۔
اللہ تعالیٰ کی ان سب نشانیوں کے باوجود اور یہ جاننے کے باوجود کہ اللہ کے بغیر کوئی ہستی ان کے پیدا کرنے میں اس کی شریک نہیں۔ ان مشرکوں نے محض اپنے وہم و گمان سے یہ طے کر لیا کہ اتنی وسیع کائنات کا پورا نظام اکیلا اللہ کیسے سنبھال سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس پورے نظام میں اور انسانوں کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں کئی دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہوں۔ کوئی بارش کا دیوتا ہے کوئی روئیدگی کا، کوئی پھلوں میں رس بھرنے کا، کوئی دولت کی دیوی ہے کوئی صحت کی اور کوئی مرض اور بیماریوں کی وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے لغو خیالات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں پائے جاتے ہیں۔ بالعموم تمام ستارہ پرست قوموں کا یہی شیوہ رہا ہے جو ان ستاروں کی ارواح اور ان کی خیالی شکلوں کے مجسمے بناتی ہیں انہیں ارواح کو قرآن نے کہیں جن اور کہیں شیاطین کے الفاظ سے ذکر کیا ہے پھر ان لوگوں نے ان دیوی دیوتاؤں کی نسل چلا کر ایک پوری دیو مالا مرتب کر دی۔ ہندی، مصری، یونانی اور بابلی تہذیبوں میں ایسی پوشیدہ ارواح کی پرستش کا عقیدہ بالعموم پایا جاتا رہا ہے انہیں دیوی اور دیوتاؤں میں سے بعض کو انہوں نے اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں قرار دے دیا۔ اہل عرب بھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ جن تو اللہ کی مخلوق ہیں اور جو مخلوق ہو وہ بندہ اور غلام تو ہو سکتا ہے شریک نہیں بن سکتا اور اللہ کی جب بیوی ہی نہیں اور وہ اس سے بے نیاز بھی ہے تو پھر اس کے بیٹے اور بیٹیاں کیسے ہو سکتے ہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شیطانی وعدے دھوکہ ہیں ٭٭
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے تھے جنات کو پوجتے تھے ان پر انکار فرما رہا ہے -ان کے کفر و شرک سے اپنی بیزاری کا اعلان فرماتا ہے اگر کوئی کہے کہ جنوں کی عبادت کیسے ہوئی وہ تو بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے تو جواب یہ ہے کہ بت پرستی کے سکھانے والے جنات ہی تھے۔ جیسے خود قرآن کریم میں ہے آیت «إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّـهِ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّـهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» [4-النساء:120-117]‏‏‏‏ یعنی ’ یہ لوگ اللہ کے سوا جنہیں پکار رہے ہیں وہ سب عورتیں ہیں اور یہ سوائے سرکش ملعون شیطان کے اور کسی کو نہیں پکارتے وہ تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کو تو میں اپنا کر ہی لوں گا انہیں بہکا کر سبز باغ دکھا کر اپنا مطیع بنا لوں گا۔ پھر تو وہ بتوں کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر چھوڑ دیں گے۔ اللہ کی پیدا کردہ ہئیت کو بگاڑنے لگیں گے۔ حقیقتاً اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی کرنے والے کے نقصان میں کیا شک ہے؟ شیطانی وعدے تو صرف دھوکے بازیاں ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے آیت «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» [18-الكهف:50]‏‏‏‏ ’ کیا تم مجھے چھوڑ کر شیطان اور اولاد شیطان کو اپنا ولی بناتے ہو؟ ‘۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا «يٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَان للرَّحْمٰنِ عَصِيًّا» ۱؎ [19۔ مریم:44]‏‏‏‏ ’ میرے باپ! شیطان کی پرستش نہ کرو وہ تو اللہ کا نافرمان ہے ‘۔
سورۃ یٰسین میں ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» ۱؎ [36-يس:60-61]‏‏‏‏ ’ کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ اے اولاد آدم تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری ہی عبادت کرنا سیدھی راہ یہی ہے ‘۔
قیامت کے دن فرشتے بھی کہیں گے آیت «قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [34۔ سبأ:41]‏‏‏‏ یعنی ’ تو پاک ہے یہ نہیں بلکہ سچا والی ہمارا تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنوں کو پوجتے تھے ان میں سے اکثر لوگوں کا ان پر ایمان تھا ‘۔
پس یہاں فرمایا ہے کہ ’ انہوں نے جنات کی پرستش شروع کر دی حالانکہ پرستش کے لیے صرف اللہ ہے وہ سب کا خالق ہے ‘۔ جب خالق وہی ہے تو معبود بھی وہی ہے۔
جیسے خلیل اللہ نے علیہ السلام فرمایا آیت «قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» [37-الصافات:96-95]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں خود گھڑ لیتے ہو حالانکہ تمہارے اور تمہارے تمام کاموں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ‘۔ یعنی معبود وہی ہے جو خالق ہے۔
پھر ان لوگوں کی حماقت و ضلالت بیان ہو رہی ہے، جو اللہ کی اولاد بیٹے بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا جبکہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ یہ سب ان کی من گھڑت اور خود تراشیدہ بات تھی اور محض غلط اور جھوٹ تھا۔ حقیقت سے بہت دور نرا بہتان باندھا تھا اور بےسمجھی سے اللہ کی شان کے خلاف ایک زبان سے اپنی جہالت سے کہہ دیا تھا بھلا اللہ کو بیٹوں اور بیٹیوں سے کیا واسطہ نہ اس کی اولاد نہ اس کی بیوی نہ اس کی کفو کا کوئی۔ وہ سب کا خالق وہ کسی کی شرکت سے پاک وہ کسی کی حصہ داری سے پاک، یہ گمراہ جو کہہ رہے ہیں سب سے وہ پاک اور برتر سب سے دور اور بالا تر ہے۔