مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی فَلِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الۡاَغۡنِیَآءِ مِنۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ۘ﴿۷﴾
جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا تو وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے، تاکہ وہ تم میں سے مال داروں کے درمیان ہی گردش کرنے والا نہ ہو اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔
En
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے
En
بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وه اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ ره جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7) ➊ {مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى: ” الْقُرٰى “} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”ان بستیوں“ کیا گیا ہے۔
➋ { فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِي الْقُرْبٰى …:} اس آیت میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو اموال بھی جنگی کار روائیوں کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ بیت المال کی ملکیت تصور ہوں گے، ان میں سے مجاہدین کو کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ یہ ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی قوت کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اس کی امت اور اس کے قائم کردہ نظام کو عطا فرمائی ہے۔ لہٰذا یہ اموال اموالِ غنیمت سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں، انھیں اموال فے کہا جاتا ہے اور ان کا اطلاق منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم کے اموال پر ہوگا۔ اموال فے میں جزیہ و خراج کی آمدنی بھی شامل ہے جو ایک اسلامی ریاست کو غیر مسلموں سے حاصل ہوتی ہے۔ ان کی تقسیم کا مکمل اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا اور آپ کے بعد یہ اختیار مسلمانوں کے امیر کو حاصل ہوتا ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ مدّات میں خرچ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اموال فے کی وہ مدّات بھی بیان فرما دیں جہاں انھیں خرچ کیا جائے گا۔ یہ وہی مدّات ہیں جن میں اموالِ غنیمت کا خمس خرچ کیا جاتا ہے، اموالِ فے کا خمس نہیں بلکہ وہ پورے کے پورے انھی میں خرچ کیے جائیں گے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۴۱)کی تفسیر۔
➌ {كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ: ” دُوْلَةً “ ”دَالَ يَدُوْلُ دَوْلَةً “ (ن)”اَلزَّمَانُ“} زمانے کا ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنا، جیسا کہ فرمایا: «وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ» [آل عمران: ۱۴۰] ”اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔“ {” دُوْلَةً “} وہ چیز جو ایک دوسرے سے لی جائے، کبھی اس کے پاس ہو کبھی اس کے پاس۔
”تاکہ مال فے تم میں سے مال داروں کے درمیان ہی گردش کرنے والا نہ ہو“ ربطِ مضمون کے لحاظ سے تو اس کا مطلب اتنا ہی ہے کہ اموال فے کو مجاہدین پر تقسیم نہ کیا جائے، جن کے اکثر پہلے ہی غنی ہو چکے ہیں، محتاج اور مسکین نہیں رہے، بلکہ انھیں نادار لوگوں تک پہنچایا جائے، تاہم اس میں اسلام کے معاشی نظام کی بنیاد بھی بیان کر دی گئی ہے کہ مسلمانوں میں دولت کا بہاؤ فقراء سے اغنیاء کی طرف نہیں ہوتا کہ دولت مند زیادہ سے زیادہ دولت مند اور غریب زیادہ سے زیادہ غریب ہوتے چلے جائیں، بلکہ دولت کا بہاؤ اغنیاء سے فقراء کی طرف ہوتا ہے اور اس سے پورے معاشرے کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ سود ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا۔ دولت کی تقسیم کے لیے زکوٰۃ فرض کی گئی، اموال غنیمت میں سے خمس نکالنے کا حکم دیا گیا، مال فے سارا ہی پانچ مدّات میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا،نفلی صدقات کی بار بار تلقین کی گئی،بہت سی فروگزاشتوں پر کفارے رکھے گئے اور میراث کا ایسا قانون بنا دیا کہ ہر مرنے والے کی دولت یکجا رہنے کے بجائے پھیل جائے۔ بخل کی شدید مذمت کی گئی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بار بار تاکید کی گئی اور اس کی فضیلت بیان کی گئی۔ ان احکام پر عمل کیا جائے تو دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو ہی نہیں سکتی۔
➍ {وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا:} سلسلۂ کلام کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اموالِ فے میں سے رسول تمھیں جو کچھ دے وہ لے لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔ آپ کے فیصلے کو کسی چون و چرا اور ملال کے بغیر تسلیم کر لو۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ بنو نضیر کے اموال مہاجرین ہی میں تقسیم کر دیے جائیں، تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں، تو گویا انصار سے کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول کسی موقع پر تمھیں نہ دے تو مطالبہ نہ کرو، یہ رسول کی صواب دید پر ہے کہ وہ تمام مستحقین کو دے یا بعض کو زیادہ مستحق سمجھ کر دے اور دوسروں کو نہ دے۔ سیاق کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے یہ صرف اموال کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس میں حکم دیا گیا ہے کہ ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ اس کی وضاحت اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: {” مَا أَتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا مَنَعَكُمْ فَلَا تَأْخُذُوْهُ“} کہ رسول تمھیں جو دے وہ لے لو اور جو نہ دے وہ نہ لو، بلکہ فرمایا جس سے روک دے اس سے رک جاؤ، جس سے منع کر دے اس سے باز آ جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد آپ کے حکم کی اطاعت ہے۔ چنانچہ اس آیت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مستقل قانون کی حیثیت دے دی ہے اور یہ شرط نہیں رکھی کہ وہی حکم مانو جو قرآن مجید میں ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حکم بھی صحیح حدیث سے ثابت ہو واجب العمل ہے۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [دَعُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلٰی أَنْبِيَاهمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ، وَ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ] [بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۸] ”مجھے اس وقت تک رہنے دو جب تک میں تمھیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے سوال اور ان سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ تو جب میں تمھیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے دور رہو اور جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا کر سکتے ہو کرو۔“ اور جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی اس آیت سے یہی بات سمجھی ہے۔ چنانچہ ان کے شاگرد علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انھوں نے فرمایا: [لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ] ”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو جلد میں سوئی کے ساتھ نیل بھر کر نقش و نگار بنانے والی ہیں اور جو بنوانے والی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھاڑنے والی ہیں اور جو خوب صورتی کے لیے سامنے کے دانتوں میں فاصلہ بنانے والی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ شکل کو بدلنے والی ہیں۔“ بنو اسد کی ایک عورت ام یعقوب کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی: ”مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے فلاں فلاں کام کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے؟“ اس عورت نے کہا: ”میں نے دو تختیوں کے درمیان جتنا قرآن ہے سارا پڑھا ہے، مگر مجھے اس میں یہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم اسے پڑھتی تو تمھیں ضرور مل جاتی، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: «وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا» [الحشر: ۷] ” اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں؟“ فرمایا: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔“ اس نے کہا: ”میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ کے گھر والے یہ کام کرتے ہیں۔“ فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو۔“ وہ گئی، دیکھا مگر اسے اپنے مطلب کی کوئی چیز دکھائی نہ دی، تو (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ”اگر وہ (میری بیوی) ایسی ہوتی تو ہمارے ساتھ نہ رہتی۔“ [بخاري، التفسیر، باب: «وما آتاکم الرسول فخذوہ» : ۴۸۸۶]
➎ {وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ:} یعنی اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو! اگر تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل نہ کی یا آپ کے منع کردہ سے باز نہ آئے تو اللہ کی سزا بہت سخت ہے۔
➋ { فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِي الْقُرْبٰى …:} اس آیت میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو اموال بھی جنگی کار روائیوں کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ بیت المال کی ملکیت تصور ہوں گے، ان میں سے مجاہدین کو کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ یہ ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی قوت کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اس کی امت اور اس کے قائم کردہ نظام کو عطا فرمائی ہے۔ لہٰذا یہ اموال اموالِ غنیمت سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں، انھیں اموال فے کہا جاتا ہے اور ان کا اطلاق منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم کے اموال پر ہوگا۔ اموال فے میں جزیہ و خراج کی آمدنی بھی شامل ہے جو ایک اسلامی ریاست کو غیر مسلموں سے حاصل ہوتی ہے۔ ان کی تقسیم کا مکمل اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا اور آپ کے بعد یہ اختیار مسلمانوں کے امیر کو حاصل ہوتا ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ مدّات میں خرچ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اموال فے کی وہ مدّات بھی بیان فرما دیں جہاں انھیں خرچ کیا جائے گا۔ یہ وہی مدّات ہیں جن میں اموالِ غنیمت کا خمس خرچ کیا جاتا ہے، اموالِ فے کا خمس نہیں بلکہ وہ پورے کے پورے انھی میں خرچ کیے جائیں گے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۴۱)کی تفسیر۔
➌ {كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ: ” دُوْلَةً “ ”دَالَ يَدُوْلُ دَوْلَةً “ (ن)”اَلزَّمَانُ“} زمانے کا ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنا، جیسا کہ فرمایا: «وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ» [آل عمران: ۱۴۰] ”اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔“ {” دُوْلَةً “} وہ چیز جو ایک دوسرے سے لی جائے، کبھی اس کے پاس ہو کبھی اس کے پاس۔
”تاکہ مال فے تم میں سے مال داروں کے درمیان ہی گردش کرنے والا نہ ہو“ ربطِ مضمون کے لحاظ سے تو اس کا مطلب اتنا ہی ہے کہ اموال فے کو مجاہدین پر تقسیم نہ کیا جائے، جن کے اکثر پہلے ہی غنی ہو چکے ہیں، محتاج اور مسکین نہیں رہے، بلکہ انھیں نادار لوگوں تک پہنچایا جائے، تاہم اس میں اسلام کے معاشی نظام کی بنیاد بھی بیان کر دی گئی ہے کہ مسلمانوں میں دولت کا بہاؤ فقراء سے اغنیاء کی طرف نہیں ہوتا کہ دولت مند زیادہ سے زیادہ دولت مند اور غریب زیادہ سے زیادہ غریب ہوتے چلے جائیں، بلکہ دولت کا بہاؤ اغنیاء سے فقراء کی طرف ہوتا ہے اور اس سے پورے معاشرے کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ سود ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا۔ دولت کی تقسیم کے لیے زکوٰۃ فرض کی گئی، اموال غنیمت میں سے خمس نکالنے کا حکم دیا گیا، مال فے سارا ہی پانچ مدّات میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا،نفلی صدقات کی بار بار تلقین کی گئی،بہت سی فروگزاشتوں پر کفارے رکھے گئے اور میراث کا ایسا قانون بنا دیا کہ ہر مرنے والے کی دولت یکجا رہنے کے بجائے پھیل جائے۔ بخل کی شدید مذمت کی گئی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بار بار تاکید کی گئی اور اس کی فضیلت بیان کی گئی۔ ان احکام پر عمل کیا جائے تو دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو ہی نہیں سکتی۔
➍ {وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا:} سلسلۂ کلام کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اموالِ فے میں سے رسول تمھیں جو کچھ دے وہ لے لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔ آپ کے فیصلے کو کسی چون و چرا اور ملال کے بغیر تسلیم کر لو۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ بنو نضیر کے اموال مہاجرین ہی میں تقسیم کر دیے جائیں، تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں، تو گویا انصار سے کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول کسی موقع پر تمھیں نہ دے تو مطالبہ نہ کرو، یہ رسول کی صواب دید پر ہے کہ وہ تمام مستحقین کو دے یا بعض کو زیادہ مستحق سمجھ کر دے اور دوسروں کو نہ دے۔ سیاق کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے یہ صرف اموال کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس میں حکم دیا گیا ہے کہ ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ اس کی وضاحت اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: {” مَا أَتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا مَنَعَكُمْ فَلَا تَأْخُذُوْهُ“} کہ رسول تمھیں جو دے وہ لے لو اور جو نہ دے وہ نہ لو، بلکہ فرمایا جس سے روک دے اس سے رک جاؤ، جس سے منع کر دے اس سے باز آ جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد آپ کے حکم کی اطاعت ہے۔ چنانچہ اس آیت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مستقل قانون کی حیثیت دے دی ہے اور یہ شرط نہیں رکھی کہ وہی حکم مانو جو قرآن مجید میں ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حکم بھی صحیح حدیث سے ثابت ہو واجب العمل ہے۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [دَعُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلٰی أَنْبِيَاهمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ، وَ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ] [بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۸] ”مجھے اس وقت تک رہنے دو جب تک میں تمھیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے سوال اور ان سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ تو جب میں تمھیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے دور رہو اور جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا کر سکتے ہو کرو۔“ اور جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی اس آیت سے یہی بات سمجھی ہے۔ چنانچہ ان کے شاگرد علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انھوں نے فرمایا: [لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ] ”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو جلد میں سوئی کے ساتھ نیل بھر کر نقش و نگار بنانے والی ہیں اور جو بنوانے والی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھاڑنے والی ہیں اور جو خوب صورتی کے لیے سامنے کے دانتوں میں فاصلہ بنانے والی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ شکل کو بدلنے والی ہیں۔“ بنو اسد کی ایک عورت ام یعقوب کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی: ”مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے فلاں فلاں کام کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے؟“ اس عورت نے کہا: ”میں نے دو تختیوں کے درمیان جتنا قرآن ہے سارا پڑھا ہے، مگر مجھے اس میں یہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم اسے پڑھتی تو تمھیں ضرور مل جاتی، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: «وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا» [الحشر: ۷] ” اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں؟“ فرمایا: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔“ اس نے کہا: ”میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ کے گھر والے یہ کام کرتے ہیں۔“ فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو۔“ وہ گئی، دیکھا مگر اسے اپنے مطلب کی کوئی چیز دکھائی نہ دی، تو (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ”اگر وہ (میری بیوی) ایسی ہوتی تو ہمارے ساتھ نہ رہتی۔“ [بخاري، التفسیر، باب: «وما آتاکم الرسول فخذوہ» : ۴۸۸۶]
➎ {وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ:} یعنی اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو! اگر تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل نہ کی یا آپ کے منع کردہ سے باز نہ آئے تو اللہ کی سزا بہت سخت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اللہ ان دیہات والوں سے جو (مال) بھی اپنے رسول کو مفت [7] میں دلا دے وہ مال اللہ، رسول، قرابت والوں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ (مال) تمہارے دولت مندوں ہی کے درمیان [8] گردش نہ کرتا رہے۔ اور جو کچھ تمہیں رسول دے وہ لے لو اور جس سے روکے [9] اس سے رک جاؤ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً سخت سزا دینے والا ہے
[7] اموال فے بیت المال کی ملکیت ہوتے ہیں :۔
سابقہ آیت میں حکم صرف بنو نضیر کی متروکہ جائیداد سے متعلق تھا۔ اس آیت میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو اموال بھی جنگی کارروائیوں کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ بیت المال کی ملکیت متصور ہوں گے۔ اس میں مجاہدین کو کچھ نہیں ملے گا۔ کیونکہ یہ ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی قوت کا نتیجہ ہے جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی امت اور اس کے قائم کردہ نظام کو عطا فرمائی ہے۔ لہٰذا یہ اموال، اموال غنیمت سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ان اموال پر مسلمانوں کے امیر کا تصرف حاکمانہ ہوتا ہے۔ اور اموال فے کا اطلاق منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم کے اموال پر ہو گا۔ اموال فے میں وہ جزیہ و خراج کی آمدنی بھی شامل ہے۔ جو ایک اسلامی ریاست کو غیر مسلموں سے حاصل ہوتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اموال فے کے مصارف کی مدات بھی بیان فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد آپ کے قرابتداروں پر خرچ کرنے کی مد باقی ہے یا ختم ہو گئی؟ اس میں اختلاف ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ چونکہ بنو ہاشم اور بنو مطلب پر اموال زکوٰۃ حرام ہیں اس لیے ایسے اموال سے ان کے محتاجوں کی خدمت کی جائے گی۔
[8] اسلام کے معاشی نظام کے چند سنہری اصول :۔
اس مختصر سے جملہ میں اسلام کے معاشی نظام کو یوں بیان کیا گیا ہے جیسے سمندر کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہو۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا مطلب اتنا ہی ہے کہ اموال فے کو مجاہدین پر تقسیم نہ کیا جائے۔ جن میں سے اکثر پہلے ہی غنی ہو چکے ہیں محتاج اور مسکین نہیں رہے۔ اور دولت انہی میں تقسیم نہ کر دی جائے بلکہ نادار لوگوں تک پہنچائی جائے تاہم اس میں ایک عام اصول بیان کر دیا گیا ہے کہ ایک اسلامی مملکت میں دولت کا بہاؤ امیروں سے غریبوں کی طرف ہونا چاہئے نہ کہ غریبوں سے امیروں کی طرف۔ غریبوں سے امیروں کی طرف دولت کے بہاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ سود ہے۔ جس کی تمام تر شکلوں کو مکمل طور پر حرام کر دیا گیا ہے۔ اور زکوٰۃ یعنی فرضی صدقہ، واجبی صدقات اور نفلی صدقات جن کا قرآن میں جگہ جگہ حکم اور ان کی ترغیب دی گئی ہے ان سب کا مقصد یہ ہے کہ دولت کا بہاؤ امیر سے غریب کی طرف ہو۔ سرمایہ داری اور ارتکاز دولت پر اسلام کا قانون میراث کاری ضرب لگاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کے پاس کروڑوں اور اربوں کی مالیت بھی ہو تو وہ چند ہی نسلوں میں منتشر ہو کر سینکڑوں افراد میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یہاں چند امور کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ دولت اگر چند سرمایہ داروں کے پاس جمع ہو جائے تو اس سے طبقاتی تقسیم بڑھتی جاتی ہے امیر دن بدن امیر تر اور غریب دن بدن غریب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آپس میں ان طبقوں میں منافرت اور دشمنی پیدا ہو جاتی ہے جو اور بڑے بڑے فتنوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ دولت جس قدر تیزی سے گردش کرے گی اسی قدر قومی معیشت میں خوشحالی واقع ہو گی۔ تیسرے یہ کہ دولت کی گردش کی رفتار صرف اس وقت تیز ہوتی ہے جبکہ غریبوں کی امداد کر کے ان میں قوت خرید پیدا کی جائے اور اگر دولت امیروں کے پاس جمع ہوتی رہے تو گردش کی رفتار حیرت انگیز حد تک کم ہو جاتی ہے۔ ان امور کی تشریح ان حواشی میں بہت مشکل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے میرا مضمون اسلامی معیشت اور سود مطبوعہ سہ ماہی مجلہ، منہاج اسلامی معیشت نمبر، جنوری، اپریل 1992ء
[9] رسول اللہﷺ کا فرمان یقینی شرعی حجت اور واجب الاتباع ہے :۔
یہ جملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو قابل حجت تسلیم کرنے پر قطعی دلیل مہیا کرتا ہے۔ لیکن مشہور منکر حدیث حافظ اسلم صاحب جیراجپوری نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ جملہ تو اموال فے کی تقسیم کے بارے میں ہے۔ حدیث کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہاں آتیٰ کا لفظ جو نہی کے بالمقابل استعمال ہوا ہے لوگوں نے غلط فہمی سے اسے امر یا قال کے معنی میں سمجھ لیا۔ حالانکہ یہ لفظ قرآن میں سینکڑوں جگہ آیا ہے اور کہیں ان معنوں میں مستعمل نہیں ہوا ہے۔ بلکہ ہر جگہ اس کے معنی ﴿اعطاء﴾ یعنی دینے کے ہی ہیں۔ لہٰذا یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ [مقام حديث ص 126]
اب دیکھیے کہ اتیٰ بمعنی ﴿اِعْطَاء﴾ کی ضد منع ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ اور نھیٰ کی ضد امر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نھیٰ کے مقابلہ میں امر کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ گویا حافظ صاحب صرف اپنے نظریہ کی تائید کے لیے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض فرما رہے ہیں کہ نھیٰ کے معنی ”نہ دینا“ کبھی نہیں ہوتا۔ پھر اگر قرآن کریم میں فی الواقع ﴿اتٰكُمْ﴾ کے مقابلہ ﴿نَهٰكُمْ﴾ کا لفظ ہی استعمال ہوتا تو بھی اسے اس خاص واقعہ یعنی مال فے کی تقسیم سے متعلق ہی قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ کیونکہ یہ ایک عام اصول ہے کہ کسی خاص واقعہ میں کوئی حکم آ جائے تو یہ حکم عام ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ نے ﴿اٰتٰكُم﴾ کے مقابلہ میں ﴿نَهٰكُمْ﴾ کا لفظ استعمال کر کے اس شائبہ کو بالکل ہی ختم کر دیا ہے کہ اس حکم کا تعلق اس خاص واقعہ یا اسی جیسے بعد میں آنے والے دوسرے واقعات سے ہو سکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ﴿اٰتٰكُمْ﴾ کے مقابلہ میں ﴿نَهَاكُمْ﴾ کا لفظ لا کر ایک طرف تو اس پیش آمدہ مسئلہ کا حل پیش کر دیا اور دوسری طرف اس حکم میں ایسی عمومیت پیدا کر دی جس سے صرف وہی لوگ لذت آشنا ہو سکتے ہیں جو عربی زبان کا کچھ ذوق رکھتے ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ اصل میں غلط فہمی کا شکار کون ہے تو اس کے لیے پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے۔
اب دیکھیے کہ اتیٰ بمعنی ﴿اِعْطَاء﴾ کی ضد منع ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ اور نھیٰ کی ضد امر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نھیٰ کے مقابلہ میں امر کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ گویا حافظ صاحب صرف اپنے نظریہ کی تائید کے لیے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض فرما رہے ہیں کہ نھیٰ کے معنی ”نہ دینا“ کبھی نہیں ہوتا۔ پھر اگر قرآن کریم میں فی الواقع ﴿اتٰكُمْ﴾ کے مقابلہ ﴿نَهٰكُمْ﴾ کا لفظ ہی استعمال ہوتا تو بھی اسے اس خاص واقعہ یعنی مال فے کی تقسیم سے متعلق ہی قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ کیونکہ یہ ایک عام اصول ہے کہ کسی خاص واقعہ میں کوئی حکم آ جائے تو یہ حکم عام ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ نے ﴿اٰتٰكُم﴾ کے مقابلہ میں ﴿نَهٰكُمْ﴾ کا لفظ استعمال کر کے اس شائبہ کو بالکل ہی ختم کر دیا ہے کہ اس حکم کا تعلق اس خاص واقعہ یا اسی جیسے بعد میں آنے والے دوسرے واقعات سے ہو سکتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ﴿اٰتٰكُمْ﴾ کے مقابلہ میں ﴿نَهَاكُمْ﴾ کا لفظ لا کر ایک طرف تو اس پیش آمدہ مسئلہ کا حل پیش کر دیا اور دوسری طرف اس حکم میں ایسی عمومیت پیدا کر دی جس سے صرف وہی لوگ لذت آشنا ہو سکتے ہیں جو عربی زبان کا کچھ ذوق رکھتے ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ اصل میں غلط فہمی کا شکار کون ہے تو اس کے لیے پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے۔
منکرین حدیث کا ایک اعتراض اور اس کا جواب، عبد اللہ بن مسعودؓ کی وضاحت :۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی، گدوانے والی، خوبصورتی کے لیے چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور دانتوں کو جدا کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے جو اللہ کی خلقت کو بدلتی ہیں۔ یہ حدیث بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جس کی کنیت ام یعقوب تھی۔ وہ عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس آ کر کہنے لگی:”مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے“ انہوں نے کہا:”میں تو اس پر ضرور لعنت کروں گا جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور اللہ کی کتاب میں اس پر لعنت آئی ہے“ اس عورت نے کہا: ”میں نے تو سارا قرآن، جو دو تختیوں کے درمیان ہے، پڑھ ڈالا ہے، اس میں تو کہیں ان عورتوں پر لعنت نہیں آئی“ آپ نے کہا:”اگر تو نے (اچھی طرح) قرآن پڑھا ہوتا تو ضرور یہ مسئلہ پا لیتی۔ کیا تو نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا کہ پیغمبر جس بات کا تمہیں حکم دے اس پر عمل کرو اور جس بات سے منع کرے اس سے باز رہو؟“ اس عورت نے کہا:”ہاں! یہ آیت تو قرآن میں موجود ہے“ سیدنا عبد اللہؓ کہنے لگے۔ ”بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں سے منع کیا ہے“ وہ کہنے لگی: ”تمہاری بیوی بھی تو یہ کام کرتی ہے“ انہوں نے کہا: ”جا کر دیکھو تو“ جب وہ گئی تو وہاں کوئی بات نہ پائی۔ سیدنا عبد اللہؓ کہنے لگے: اگر میری بیوی ایسے کام کرتی تو بھلا وہ میرے ساتھ رہ سکتی تھی؟ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم تھے یا قبلہ حافظ صاحب؟ پھر ام یعقوب نے جو اگر صحابیہ نہیں تو تابعیہ تو ضرور ہو گی۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ استدلال سن کر یہ نہیں کہا کہ یہ حکم تو مال فے کی تقسیم سے متعلق ہے اور ﴿اٰتٰي﴾ کے معنی ﴿اعطاء﴾ ہوتا ہے بلکہ اس نے ”میں سمجھ گئی“ کا اقرار کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سمجھے ہوئے مفہوم کی تائید کر دی۔ صحابہ میں یہ فہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منتقل ہوا۔ پھر صحابہ سے تابعین میں، ان سے تبع تابعین میں پھر محدثین میں، آخر وہ کون سا دور ہے جس میں اس مفہوم کو درست نہ سمجھا گیا ہو۔ جسے حافظ صاحب لوگوں کی غلط فہمی قرار دے رہے ہیں۔ اور وہ مفہوم یہ ہے کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریعت کا حصہ ہے نیز یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے احکام کو کتاب اللہ میں ہی شمار کرتے تھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: عنقریب تم میں ایک پیٹ بھرا شخص اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے میری حدیثیں سن کر یہ کہے گا کہ ہمارے تمہارے درمیان قرآن (کافی) ہے اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال اور حرام کیے ہوئے کو حرام سمجھو۔ یاد رکھو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل اور بھی۔ [ترمذي۔ ابو داؤد۔ ابن ماجه۔ مسند احمد۔ بيهقي دارمي بحواله مشكٰوة]
واضح رہے آپ کی سنت پر عمل پیرا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر قرآن کے احکام بھی کسی صورت بجا نہیں لائے جا سکتے۔ لہٰذا جو شخص سنت یا حدیث کی حجیت کا قائل نہ ہو وہ حقیقتاً قرآن کا بھی منکر ہوتا ہے۔ بلکہ اسے بننا پڑتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم تھے یا قبلہ حافظ صاحب؟ پھر ام یعقوب نے جو اگر صحابیہ نہیں تو تابعیہ تو ضرور ہو گی۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ استدلال سن کر یہ نہیں کہا کہ یہ حکم تو مال فے کی تقسیم سے متعلق ہے اور ﴿اٰتٰي﴾ کے معنی ﴿اعطاء﴾ ہوتا ہے بلکہ اس نے ”میں سمجھ گئی“ کا اقرار کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سمجھے ہوئے مفہوم کی تائید کر دی۔ صحابہ میں یہ فہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منتقل ہوا۔ پھر صحابہ سے تابعین میں، ان سے تبع تابعین میں پھر محدثین میں، آخر وہ کون سا دور ہے جس میں اس مفہوم کو درست نہ سمجھا گیا ہو۔ جسے حافظ صاحب لوگوں کی غلط فہمی قرار دے رہے ہیں۔ اور وہ مفہوم یہ ہے کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریعت کا حصہ ہے نیز یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے احکام کو کتاب اللہ میں ہی شمار کرتے تھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: عنقریب تم میں ایک پیٹ بھرا شخص اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے میری حدیثیں سن کر یہ کہے گا کہ ہمارے تمہارے درمیان قرآن (کافی) ہے اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال اور حرام کیے ہوئے کو حرام سمجھو۔ یاد رکھو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل اور بھی۔ [ترمذي۔ ابو داؤد۔ ابن ماجه۔ مسند احمد۔ بيهقي دارمي بحواله مشكٰوة]
واضح رہے آپ کی سنت پر عمل پیرا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر قرآن کے احکام بھی کسی صورت بجا نہیں لائے جا سکتے۔ لہٰذا جو شخص سنت یا حدیث کی حجیت کا قائل نہ ہو وہ حقیقتاً قرآن کا بھی منکر ہوتا ہے۔ بلکہ اسے بننا پڑتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے ٭٭
«فے» کس مال کو کہتے ہیں؟، اس کی صفت کیا ہے؟، اس کا حکم کیا ہے؟، یہ سب یہاں بیان ہو رہا ہے۔ «فے» اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آ جائے، جیسے بنو نضیر کا یہ مال تھا جس کا ذکر اوپر گزر چکا کہ مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ اس پر نہیں دوڑائے تھے یعنی ان کفار سے آمنے سامنے کوئی مقابلہ اور لڑائی نہیں ہوئی بلکہ ان کے دل اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت سے بھر دیئے اور وہ اپنے قلعہ خالی کر کے قبضہ میں آ گئے، اسے «فے» کہتے ہیں اور یہ مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی اور اصلاح کے کاموں میں اسے خرچ کیا جس کا بیان اس کے بعد والی اور دوسری آیت میں ہے۔
پس فرماتا ہے کہ بنو نضیر کا جو مال بطور «فے» کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا جس پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ دوڑائے نہ تھے، بلکہ صرف اللہ نے اپنے فضل سے اپنے رسول کو اس پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ پر یہ کیا مشکل ہے؟ وہ تو ہر اک چیز پر قدرت رکھتا ہے نہ اس پر کسی کا غلبہ نہ اسے کوئی روکنے والا بلکہ سب پر غالب وہی، سب اس کے تابع فرمان۔
پھر فرمایا کہ جو شہر اس طرح فتح کئے جائیں ان کے مال کا یہی حکم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے قبضہ میں کریں گے پھر انہیں دیں گے، جن کا بیان اس آیت میں ہے اور اس کے بعد والی آیت میں ہے، یہ ہے «فے» کے مال کا مصرف اور اس کے خرچ کا حکم۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { بنو نضیر کے مال بطور «فے» کے خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو گئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کو سال بھر تک کا خرچ دیتے تھے اور جو بچ رہتا اسے آلات جنگ اور سامان حرب میں خرچ کرتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2904]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی اور اصلاح کے کاموں میں اسے خرچ کیا جس کا بیان اس کے بعد والی اور دوسری آیت میں ہے۔
پس فرماتا ہے کہ بنو نضیر کا جو مال بطور «فے» کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا جس پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ دوڑائے نہ تھے، بلکہ صرف اللہ نے اپنے فضل سے اپنے رسول کو اس پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ پر یہ کیا مشکل ہے؟ وہ تو ہر اک چیز پر قدرت رکھتا ہے نہ اس پر کسی کا غلبہ نہ اسے کوئی روکنے والا بلکہ سب پر غالب وہی، سب اس کے تابع فرمان۔
پھر فرمایا کہ جو شہر اس طرح فتح کئے جائیں ان کے مال کا یہی حکم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے قبضہ میں کریں گے پھر انہیں دیں گے، جن کا بیان اس آیت میں ہے اور اس کے بعد والی آیت میں ہے، یہ ہے «فے» کے مال کا مصرف اور اس کے خرچ کا حکم۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { بنو نضیر کے مال بطور «فے» کے خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو گئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کو سال بھر تک کا خرچ دیتے تھے اور جو بچ رہتا اسے آلات جنگ اور سامان حرب میں خرچ کرتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2904]
ابوداؤد میں مالک بن اوس رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے دن چڑھے بلایا میں گھر گیا تو دیکھا کہ آپ ایک چوکی پر جس پر کوئی کپڑا وغیرہ نہ تھا بیٹھے ہوئے ہیں، مجھے دیکھ کر فرمایا ”تمہاری قوم کے چند لوگ آئے ہیں، میں نے انہیں کچھ دیا ہے تم اسے لے کر ان میں تقسیم کر دو۔ میں نے کہا اچھا ہوتا اگر جناب کسی اور کو یہ کام سونپتے آپ نے فرمایا: نہیں تم ہی کرو میں نے کہا بہت بہتر۔
اتنے میں آپ کا داروغہ یرفا آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف، سیدنا زبیر بن عوام اور سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہم تشریف لائے ہیں، کیا انہیں اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں انہیں آنے دو“، چنانچہ یہ حضرات تشریف لائے، یرفا پھر آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اجازت طلب کررہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اجازت ہے۔“ یہ دونوں حضرات بھی تشریف لائے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیرالمؤمنین! میرا اور ان کا فیصلہ کیجئے یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا“، تو پہلے جو چاروں بزرگ آئے تھے ان میں سے بھی بعض نے کہا: ”ہاں امیر المؤمنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے اور انہیں راحت پہنچایئے۔“
مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ان چارں بزرگوں کو ان دونوں حضرات نے ہی اپنے سے پہلے یہاں بھیجا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھہرو، پھر ان چاروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تمہیں اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ ان چاروں نے اس کا اقرار کیا، پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی طرح قسم دے کر ان سے بھی یہی سوال کیا اور انہوں نے بھی اقرار کیا۔
پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خاصہ کیا تھا جو اور کسی کے لیے نہ تھا پھر آپ نے یہی آیت «وَمَا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [59-الحشر:6]، پڑھی اور فرمایا: بنو نضیر کے مال اللہ تعالیٰ نے بطور «فے» کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے تھے اللہ کی قسم نہ تو میں نے تم پر اس میں کسی کو ترجیح دی اور نہ ہی خود ہی اس میں سے کچھ لے لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اور اپنے اہل کا سال بھر کا خرچ اس میں سے لے لیتے تھے اور باقی مثل بیت المال کے کر دیتے تھے پھر ان چاروں بزرگوں کو اسی طرح قسم دے کر پوچھا کہ کیا تمہیں یہ معلوم ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ان دونوں سے قسم دے کر پوچھا اور انہوں نے ہاں کہی۔
اتنے میں آپ کا داروغہ یرفا آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف، سیدنا زبیر بن عوام اور سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہم تشریف لائے ہیں، کیا انہیں اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں انہیں آنے دو“، چنانچہ یہ حضرات تشریف لائے، یرفا پھر آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اجازت طلب کررہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اجازت ہے۔“ یہ دونوں حضرات بھی تشریف لائے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیرالمؤمنین! میرا اور ان کا فیصلہ کیجئے یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا“، تو پہلے جو چاروں بزرگ آئے تھے ان میں سے بھی بعض نے کہا: ”ہاں امیر المؤمنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے اور انہیں راحت پہنچایئے۔“
مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ان چارں بزرگوں کو ان دونوں حضرات نے ہی اپنے سے پہلے یہاں بھیجا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھہرو، پھر ان چاروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تمہیں اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ ان چاروں نے اس کا اقرار کیا، پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی طرح قسم دے کر ان سے بھی یہی سوال کیا اور انہوں نے بھی اقرار کیا۔
پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خاصہ کیا تھا جو اور کسی کے لیے نہ تھا پھر آپ نے یہی آیت «وَمَا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [59-الحشر:6]، پڑھی اور فرمایا: بنو نضیر کے مال اللہ تعالیٰ نے بطور «فے» کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے تھے اللہ کی قسم نہ تو میں نے تم پر اس میں کسی کو ترجیح دی اور نہ ہی خود ہی اس میں سے کچھ لے لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اور اپنے اہل کا سال بھر کا خرچ اس میں سے لے لیتے تھے اور باقی مثل بیت المال کے کر دیتے تھے پھر ان چاروں بزرگوں کو اسی طرح قسم دے کر پوچھا کہ کیا تمہیں یہ معلوم ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ان دونوں سے قسم دے کر پوچھا اور انہوں نے ہاں کہی۔
پھر فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ والی بنے اور تم دونوں خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اے عباس! تم تو اپنی قرابت داری جتا کر اپنے چچا زاد بھائی کے مال میں سے اپنا ورثہ طلب کرتے تھے اور یہی یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنا حق جتا کر اپنی بیوی یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ان کے والد کے مال سے ورثہ طلب کرتے تھے جس کے جواب میں تم دونوں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، ”ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“
”اللہ خوب جانتا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یقیناً راست گو، نیک کار، رشد و ہدایت والے اور تابع حق تھے، چنانچہ اس مال کی ولایت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہو جانے کے بعد آپ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ میں بنا اور وہ مال میری ولایت میں رہا، پھر آپ دونوں ایک صلاح سے میرے پاس آئے اور مجھ سے اسے مانگا، جس کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر تم اس شرط سے اس مال کو اپنے قبضہ میں کرو کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرچ کرتے تھے تم بھی کرتے رہو گے تو میں تمہیں سونپ دیتا ہوں، تم نے اس بات کو قبول کیا اور اللہ کو بیچ میں دے کر تم نے اس مال کی ولایت لی، پھر تم جو اب آئے ہو تو کیا اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ قسم اللہ کی قیامت تک اس کے سوا اس کا کوئی فیصلہ میں نہیں کر سکتا، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تم اپنے وعدے کے مطابق اس مال کی نگرانی اور اس کا صرف نہیں کر سکتے تو تم اسے پھر لوٹا دو تاکہ میں خود اسے اسی طرح خرچ کروں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور جس طرح خلافت صدیقی میں اور آج تک ہوتا رہا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3094]
”اللہ خوب جانتا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یقیناً راست گو، نیک کار، رشد و ہدایت والے اور تابع حق تھے، چنانچہ اس مال کی ولایت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہو جانے کے بعد آپ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ میں بنا اور وہ مال میری ولایت میں رہا، پھر آپ دونوں ایک صلاح سے میرے پاس آئے اور مجھ سے اسے مانگا، جس کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر تم اس شرط سے اس مال کو اپنے قبضہ میں کرو کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرچ کرتے تھے تم بھی کرتے رہو گے تو میں تمہیں سونپ دیتا ہوں، تم نے اس بات کو قبول کیا اور اللہ کو بیچ میں دے کر تم نے اس مال کی ولایت لی، پھر تم جو اب آئے ہو تو کیا اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ قسم اللہ کی قیامت تک اس کے سوا اس کا کوئی فیصلہ میں نہیں کر سکتا، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تم اپنے وعدے کے مطابق اس مال کی نگرانی اور اس کا صرف نہیں کر سکتے تو تم اسے پھر لوٹا دو تاکہ میں خود اسے اسی طرح خرچ کروں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور جس طرح خلافت صدیقی میں اور آج تک ہوتا رہا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3094]
مسند احمد میں ہے کہ { لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کھجوروں کے درخت وغیرہ دے دیا کرتے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے اموال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آئے تو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ان کو دیئے ہوئے مال واپس دینے شروع کئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بھی ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ ہمارا دیا ہوا بھی سب یا جتنا چاہیں ہمیں واپس کر دیں میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب واپس کرنے کو فرمایا، لیکن یہ سب سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اپنی طرف سے دے چکے تھے انہیں جب معلوم ہوا کہ یہ سب میرے قبضے سے نکل جائے گا تو انہوں نے آ کر میری گردن میں کپڑا ڈال دیا اور مجھ سے فرمانے لگیں اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے یہ نہیں دیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو مجھے وہ سب کچھ دے چکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ایمن تم نہ گھبراؤ ہم تمہیں اس کے بدلے اتنا اتنا دیں گے۔“ لیکن وہ نہ مانیں اور یہی کہے چلی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اور اتنا اتنا ہم تمہیں دیں گے۔“ لیکن وہ اب بھی خوش نہ ہوئیں اور وہی فرماتی رہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو ہم تمہیں اتنا اتنا اور دیں گے یہاں تک کہ جتنا انہیں دے رکھا تھا اس سے جب تقریباً دس گنا زیادہ دینے کا وعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔“ تب آپ رضی اللہ عنہا راضی ہو کر خاموش ہو گئیں اور ہمارا مال ہمیں مل گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4120]
یہ «فے» کا مال جن پانچ جگہوں میں صرف ہو گا یہی جگہیں غنیمت کے مال کے صرف کرنے کی بھی ہیں اور سورۃ الانفال میں ان کی پوری تشریح و توضیح کے ساتھ کامل تفسیر «الْحَمْدُ لِلَّـه» گزر چکی ہے اس لیے ہم یہاں بیان نہیں کرتے۔
یہ «فے» کا مال جن پانچ جگہوں میں صرف ہو گا یہی جگہیں غنیمت کے مال کے صرف کرنے کی بھی ہیں اور سورۃ الانفال میں ان کی پوری تشریح و توضیح کے ساتھ کامل تفسیر «الْحَمْدُ لِلَّـه» گزر چکی ہے اس لیے ہم یہاں بیان نہیں کرتے۔
پھر فرماتا ہے کہ مال فے کے یہ مصارف ہم نے اس لیے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیئے کہ یہ مالداروں کے ہاتھ لگ کر کہیں ان کا لقمہ نہ بن جائے اور اپنی من مانی خواہشوں کے مطابق وہ اسے اڑائیں اور مسکینوں کے ہاتھ نہ لگے۔
پھر فرماتا ہے کہ جس کام کے کرنے کو میرے پیغمبر تم سے کہیں تم اسے کرو اور جس کام سے وہ تمہیں روکیں تم اس سے رک جاؤ۔ یقین مانو کہ جس کا وہ حکم کرتے ہیں وہ بھلائی کا کام ہوتا ہے اور جس سے وہ روکتے ہیں وہ برائی کا کام ہوتا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا آپ گودنے سے (یعنی چمڑے پر یا ہاتهوں پر عورتیں سوئی وغیره سے گدوا کر جو تلوں کی طرح نشان وغیره بنا لیتی ہیں) اس سے اور بالوں میں بال ملا لینے سے (جو عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے لیے کرتی ہیں) منع فرماتے ہیں تو کیا یہ ممانعت کتاب اللہ میں ہے یا حدیث رسول میں؟ آپ نے فرمایا: کتاب اللہ میں بھی اور حدیث رسول میں بھی، دونوں میں اس ممانعت کو پاتا ہوں، اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم دونوں لوحوں کے درمیان جس قدر قرآن شریف ہے میں نے سب پڑھا ہے اور خوب دیکھ بھال کی ہے لیکن میں نے تو کہیں اس ممانعت کو نہیں پایا آپ نے فرمایا: کیا تم نے آیت «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [59-الحشر:7] نہیں پڑھی؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے۔
فرمایا: ”قرآن سے ثابت ہوا کہ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ممانعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قابل عمل ہیں، اب سنو خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے گودنے سے اور بالوں میں بال ملانے سے اور پیشانی اور چہرے کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے (یہ بھی عورتیں اپنی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لیے کرتی ہیں اور اس زمانے میں تو مرد بھی بکثرت کرتے ہیں) اس عورت نے کہا یہ تو آپ کی گھر والیاں بھی کرتی ہیں آپ نے فرمایا: جاؤ دیکھو، وہ گئیں اور دیکھ کر آئیں اور کہنے لگیں معاف کیجئے غلطی ہوئی ان باتوں میں سے کوئی بات آپ کے گھرانے والیوں میں میں نے نہیں دیکھی۔
آپ نے فرمایا: کیا تم بھول گئیں کہ اللہ کے نیک بندے (شعیب علیه السلام) نے کیا فرمایا تھا «وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ» ۱؎ [11-هود:88] یعنی ’ میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہیں جس چیز سے روکوں خود میں اس کا خلاف کروں۔‘ ۱؎ [مسند احمد:415/1:اسنادہ قوی]
پھر فرماتا ہے کہ جس کام کے کرنے کو میرے پیغمبر تم سے کہیں تم اسے کرو اور جس کام سے وہ تمہیں روکیں تم اس سے رک جاؤ۔ یقین مانو کہ جس کا وہ حکم کرتے ہیں وہ بھلائی کا کام ہوتا ہے اور جس سے وہ روکتے ہیں وہ برائی کا کام ہوتا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا آپ گودنے سے (یعنی چمڑے پر یا ہاتهوں پر عورتیں سوئی وغیره سے گدوا کر جو تلوں کی طرح نشان وغیره بنا لیتی ہیں) اس سے اور بالوں میں بال ملا لینے سے (جو عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے لیے کرتی ہیں) منع فرماتے ہیں تو کیا یہ ممانعت کتاب اللہ میں ہے یا حدیث رسول میں؟ آپ نے فرمایا: کتاب اللہ میں بھی اور حدیث رسول میں بھی، دونوں میں اس ممانعت کو پاتا ہوں، اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم دونوں لوحوں کے درمیان جس قدر قرآن شریف ہے میں نے سب پڑھا ہے اور خوب دیکھ بھال کی ہے لیکن میں نے تو کہیں اس ممانعت کو نہیں پایا آپ نے فرمایا: کیا تم نے آیت «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [59-الحشر:7] نہیں پڑھی؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے۔
فرمایا: ”قرآن سے ثابت ہوا کہ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ممانعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قابل عمل ہیں، اب سنو خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے گودنے سے اور بالوں میں بال ملانے سے اور پیشانی اور چہرے کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے (یہ بھی عورتیں اپنی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لیے کرتی ہیں اور اس زمانے میں تو مرد بھی بکثرت کرتے ہیں) اس عورت نے کہا یہ تو آپ کی گھر والیاں بھی کرتی ہیں آپ نے فرمایا: جاؤ دیکھو، وہ گئیں اور دیکھ کر آئیں اور کہنے لگیں معاف کیجئے غلطی ہوئی ان باتوں میں سے کوئی بات آپ کے گھرانے والیوں میں میں نے نہیں دیکھی۔
آپ نے فرمایا: کیا تم بھول گئیں کہ اللہ کے نیک بندے (شعیب علیه السلام) نے کیا فرمایا تھا «وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ» ۱؎ [11-هود:88] یعنی ’ میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہیں جس چیز سے روکوں خود میں اس کا خلاف کروں۔‘ ۱؎ [مسند احمد:415/1:اسنادہ قوی]
مسند احمد اور بخاری و مسلم میں ہے کہ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے اس عورت پر جو گدوائے اور جو گودے اور جو اپنی پیشانی کے بال لے اور جو خوبصورتی کے لیے اپنے سامنے کے دانتوں کی کشادگی کرے اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی پیدائش کو بدلنا چاہے، یہ سن کر بنو اسد کی ایک عورت جن کا نام ام یعقوب تھا آپ کے پاس آئیں اور پوچھا کہ کیا آپ نے اس طرح فرمایا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے؟ اور جو قرآن میں موجود ہے، اس نے کہا میں نے پورا قرآن جتنا بھی دونوں پٹھوں کے درمیان ہے اول سے آخر تک پڑھا ہے لیکن میں نے تو یہ حکم کہیں نہیں پایا۔ آپ نے فرمایا: اگر تم سوچ سمجھ کر پڑھتیں تو ضرور پاتیں کیا تم نے آیت «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا» ۱؎ [59-الحشر:7] نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں یہ تو پڑھی ہے پھر آپ نے وہ حدیث سنائی، اس نے آپ کے گھر والوں کی نسبت کہا پھر دیکھ کر آئیں اور عذر خواہی کی اس وقت آپ نے فرمایا: اگر میری گھر والی ایسا کرتی تو میں اس سے ملنا چھوڑ دیتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4886]
بخاری و مسلم میں { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:7288]
نسائی میں { سیدنا عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن میں، سبز ٹھلیا میں، کھجور کی لکڑی کے کریدے ہوئے برتن میں اور رال کی رنگی ہوئی ٹھلیا میں نبیذ بنانے سے یعنی کھجور یا کشمش وغیرہ کے بھگو کر رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ } پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1997] (یاد رہے کہ یہ حکم اب باقی نہیں ہے۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے اس کے احکام کی ممنوعات سے بچتے رہو، یاد رکھو کہ اس کی نافرمانی مخالفت انکار کرنے والوں کو اور اس کے منع کئے ہوئے کاموں کے کرنے والوں کو وہ سخت سزا اور درد ناک عذاب دیتا ہے۔
بخاری و مسلم میں { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:7288]
نسائی میں { سیدنا عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن میں، سبز ٹھلیا میں، کھجور کی لکڑی کے کریدے ہوئے برتن میں اور رال کی رنگی ہوئی ٹھلیا میں نبیذ بنانے سے یعنی کھجور یا کشمش وغیرہ کے بھگو کر رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ } پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1997] (یاد رہے کہ یہ حکم اب باقی نہیں ہے۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے اس کے احکام کی ممنوعات سے بچتے رہو، یاد رکھو کہ اس کی نافرمانی مخالفت انکار کرنے والوں کو اور اس کے منع کئے ہوئے کاموں کے کرنے والوں کو وہ سخت سزا اور درد ناک عذاب دیتا ہے۔