تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ: ” اتَّقُوا اللّٰهَ “} پر {”وَانْظُرُوْا “} کے ساتھ عطف کے بجائے {” وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ “} کے ساتھ عطف یہ احساس دلانے کے لیے ڈالا گیا ہے کہ یہ حکم ہرشخص کے لیے ہے۔ {” نَفْسٌ “} کو نکرہ لانے سے بھی عموم مراد ہے۔ گویا {” نَفْسٌ “} یہاں {” كُلُّ نَفْسٍ“} کے معنی میں ہے، کیونکہ جس طرح نکرہ نفی کے سیاق میں آئے تو عموم مراد ہوتا ہے، اسی طرح اگر نکرہ امر، دعا اور ان جیسی چیزوں مثلاً شرط کے سیاق میں آئے تو وہاں بھی عموم مراد ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ» [التوبۃ: ۶] ”اور اگر مشرکین میں سے کوئی ایک تجھ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دے۔“ (ابن عاشور)
➌ {مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ: ”غَدٌ“} (کل) سے مراد آخرت ہے۔ دنیا آج ہے اور آخرت کل، جو مرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ دور ہونے کے باوجود اسے {”غَدٌ“} کہنے میں یہ سبق ہے کہ اسے دور مت سمجھو، کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے، خصوصاً جس کا علم ہی نہ ہو کہ کب آئے گا اور جو اگلے لمحے ہی آ سکتا ہو اس کے {” غَدٌ “} ہونے میں کیا شبہ ہے۔
➍ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ:} یہاں {” اتَّقُوا اللّٰهَ “ } کو دوبارہ لایا گیا ہے، اس کی تین توجیہیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں، ایک یہ کہ تکرار کا مقصد اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی تاکید ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ پہلے {” اتَّقُوا اللّٰهَ “} کے ساتھ اللہ سے ڈرنے کا اور آخرت کی تیاری کا حکم دیا، اس کے بعد {” اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ “} کے ساتھ اس کی وجہ بیان کرنا تھی، کیونکہ {”إِنَّ“} تعلیل کے لیے ہوتا ہے، لیکن چونکہ پہلے {” اتَّقُوا اللّٰهَ “} کے بعد فاصلہ زیادہ ہو رہا تھا، اس لیے {” اتَّقُوا اللّٰهَ “} کو دوبارہ لا کر اس کی وجہ بیان فرما دی کہ اللہ سے ڈر جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ تمھارا کوئی کام اس سے مخفی نہیں جس پر تم اس کی گرفت سے بچ جاؤ، یا اچھا ہے تو اس کے انعام سے محروم رہو۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ پہلے {” اتَّقُوا اللّٰهَ “} سے مراد تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کا حکم ہے جس کی بدولت آدمی نیکی کرتا ہے اور گناہ سے بچتا ہے اور دوسرے {” اتَّقُوا اللّٰهَ “} سے مراد اس پر دوام ہے، یعنی ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ تم جو کچھ کرتے ہو یا کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس معنی کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ بعد میں فرمایا: «وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ» اور ان لوگوں یعنی منافقین کی طرح نہ ہو جاؤ جو (ایمان لانے کے بعد) اللہ کو بھول گئے، بلکہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر تاکید ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تمہارے تمام اعمال و احوال سے اللہ تعالیٰ پورا باخبر ہے نہ کوئی چھوٹا کام اس سے پوشیدہ، نہ بڑا نہ چھپا نہ کھلا۔
پھر فرمان ہے کہ اللہ کے ذکر کو نہ بھولو ورنہ وہ تمہارے نیک اعمال جو آخرت میں نفع دینے والے ہیں بھلا دے گا۔ اس لیے کہ ہر عمل کا بدلہ اسی کے جنس سے ہوتا ہے اسی لیے فرمایا کہ یہی لوگ فاسق ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانے والے اور قیامت کے دن نقصان پہنچانے والے اور ہلاکت میں پڑنے والے یہی لوگ ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:9] یعنی ’ مسلمانو! تمہیں تمہارے مال و اولاد یاد اللہ سے غافل نہ کریں جو ایسا کریں وہ سخت زیاں کار ہیں۔‘
اس کی اسناد بہت عمدہ ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، گو اس کے ایک راوی نعیم بن نمحہ ثقاہت یا عدم ثقاہت سے معروف نہیں، لیکن امام ابوداؤد سجستانی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ کافی ہے کہ جریر بن عثمان کے تمام استاد ثقہ ہیں اور یہ بھی آپ ہی کے اساتذہ میں سے ہیں اور اس خطبہ کے اور شواہد بھی مروی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور جگہ ہے «وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيءُ» ۱؎ [40-غافر:58]، یعنی ’ اندھا اور دیکھتا، ایماندار صالح اور بدکار برابر نہیں، تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کر رہے ہو۔ ‘
اور «أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] یعنی ’ کیا ہم ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے والوں کو فساد کرنے والوں جیسا بنا دیں گے یا پرہیزگاروں کو مثل فاجروں کے بنا دیں گے؟‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ نیک کار لوگوں کا اکرام ہو گا اور بدکار لوگوں کو رسوا کن عذاب ہو گا۔
یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جنتی لوگ فائز بمرام اور مقصدور، کامیاب اور فلاح و نجات یافتہ ہیں اللہ عزوجل کے عذاب سے بال بال بچ جائیں گے۔‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عباده المؤمنين بما يوجبه الإيمان ويقتضيه من لزوم تقواه سرًّا وعلانيةً في جميع الأحوال، وأن يراعوا ما أمرهم الله به من أوامرِهِ وشرائعهِ وحدودِه، وينظُروا ما لهم وما عليهم، وماذا حصلوا عليه من الأعمال التي تنفعهم أو تضرُّهم في يوم القيامةِ؛ فإنَّهم إذا جعلوا الآخرة نصبَ أعينهم وقبلةَ قلوبهم، واهتمُّوا للمقام بها؛ اجتهدوا في كثرة الأعمال الموصلة إليها وتصفيتها من القواطع والعوائق، التي توقِفُهم عن السير أو تَعوقُهم أو تصرِفهم، وإذا علموا أيضاً أنَّ {الله خبيرٌ بما}: يعملون، لا تخفى عليه أعمالُهم، ولا تضيع لديه، ولا يهملها؛ أوجب لهم الجدَّ والاجتهاد.
وهذه الآية الكريمةُ أصلٌ في محاسبة العبد نفسَه، وأنَّه ينبغي له أن يتفقَّدها؛ فإنْ رأى زللاً؛ تداركه بالإقلاع عنه والتوبة النصوح والإعراض عن الأسباب الموصلة إليه، وإن رأى نفسه مقصراً في أمر من أوامر الله؛ بذل جهدَه واستعانَ بربِّه في تتميمه وتكميله وإتقانه، ويقايس بين منن الله عليه وإحسانه وبين تقصيرِهِ؛ فإن ذلك يوجب له الحياء لا محالة.