(آیت 17) {فَكَانَعَاقِبَتَهُمَاۤاَنَّهُمَافِيالنَّارِخَالِدَيْنِفِيْهَا …:} یعنی قیامت کے دن نہ شیطان اور دوسرے گمراہ کرنے والے آگ سے یہ کہہ کر بچ سکیں گے کہ ہم نے انھیں کفر کی صرف دعوت دی تھی، اس پر مجبور نہیں کیا تھا، اب ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کفار یہ کہہ کر بچ سکیں گے کہ ہمیں تو شیطان نے یا ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا، اس لیے ہمارے بجائے انھیں عذاب دیا جائے، بلکہ گمراہی کی دعوت دینے والے بھی جہنم میں جائیں گے اور ان کے کہنے پر گمراہ ہونے والے سب لوگ بھی اور تمام ظالموں کی یہی جزا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (39،38)، عنکبوت (13،12)، سبا (32،31)اور سورۂ ق (۲۳ تا ۲۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 یعنی جہنم کی دائمی سزا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ پھر ان دونوں کا انجام [23] یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔
[23] یعنی گمراہ ہونے والے کو خود عقل و ہوش سے کام لینا چاہئے اور گمراہ کرنے والے سے بچنا چاہیے۔ پھر جب وہ گمراہ ہو گیا تو دونوں ایک جیسے ہو گئے اور ایک دوسرے کے ساتھی بن گئے۔ لہٰذا دونوں کو ایک جیسی سزا ملے گی۔ دونوں ہی ہمیشہ کے لیے دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَكَانَعَاقِبَتَهُمَاۤ ﴾”پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔“ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے، جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے ﴿اَنَّهُمَافِیالنَّارِخَالِدَیْنِفِیْهَا﴾”دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَایَدْعُوْاحِزْبَهٗلِیَكُوْنُوْامِنْاَصْحٰؔبِالسَّعِیْرِ﴾ (فاطر:35؍6) ”وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔“﴿ وَذٰلِكَجَزٰٓؤُاالظّٰلِمِیْنَ﴾”اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔“ جنھوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہو گی۔
شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے، وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انھیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب وہ جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہلاکت کے اسباب انھیں آ گھیرتے ہیں تو ان سے بری ٔالذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے، پس اس کی اطاعت کرنے والا واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فكان عاقِبَتَهما}؛ أي: الداعي الذي هو الشيطان والمدعو الذي هو الإنسان حين أطاعه، {أنهما في النار خالدَيْنِ فيها}؛ كما قال تعالى: {إنَّما يدعو حزبَه ليكونوا من أصحابِ السعيرِ}. {وذلك جزاءُ الظالمين}: الذين اشتركوا في الظُّلم والكفر، وإن اختلفوا في شدَّة العذاب وقوته. وهذا دأب الشيطان مع كل أوليائهِ؛ فإنَّه يَدْعوهم ويدلِّيهم بغرور إلى ما يضرُّهم ، حتى إذا وقعوا في الشباك، وحاق بهم أسبابُ الهلاك؛ تبرأ منهم وتخلَّى عنهم، واللَّوم كلُّ اللَّوم على من أطاعه؛ فإنَّ الله قد حذَّر منه وأنذر، وأخبرَ بمقاصده وغايته ونهايته، فالمقدِم على طاعته عاصٍ على بصيرةٍ لا عذر له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔