ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحشر (59) — آیت 18

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ لۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ اس سے پور ی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔ En
اے ایمان والوں! خدا سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کل (یعنی فردائے قیامت) کے لئے کیا (سامان) بھیجا ہے اور (ہم پھر کہتے ہیں کہ) خدا سے ڈرتے رہو بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
En
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیره) بھیجا ہے۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ:} غزوۂ بنو نضیر میں مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات، یہود کی عہد شکنی کی سزا اور منافقین کی ریشہ دوانیوں اور ان کے انجام کے ذکر کے بعد تمام مسلمانوں کو نصیحت کی جا رہی ہے۔ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا } کے الفاظ کے ساتھ مخلص مسلمانوں کو بھی خطاب ہے اور منافق مسلمانوں کو بھی جو یہود سے دوستی رکھتے اور انھیں اپنی مدد کا یقین دلاتے تھے۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور قیامت کے دن کی تیاری کی نصیحت کی گئی ہے، تاکہ مخلص مسلمان د نیا میں ملنے والی فتوحات اور نعمتوں کی خوشی میں آخرت کی تیاری کو نہ بھول جائیں اور منافقین میں سے جن کے دلوں میں ایمان کی کوئی رمق باقی ہے وہ اپنی روش پر نادم ہوں اور اللہ سے ڈر کر نفاق سے باز آجائیں اور آنے والے وقت کی فکر کرلیں۔
➋ {وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ: اتَّقُوا اللّٰهَ } پر {وَانْظُرُوْا } کے ساتھ عطف کے بجائے { وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ } کے ساتھ عطف یہ احساس دلانے کے لیے ڈالا گیا ہے کہ یہ حکم ہرشخص کے لیے ہے۔ { نَفْسٌ } کو نکرہ لانے سے بھی عموم مراد ہے۔ گویا { نَفْسٌ } یہاں { كُلُّ نَفْسٍ} کے معنی میں ہے، کیونکہ جس طرح نکرہ نفی کے سیاق میں آئے تو عموم مراد ہوتا ہے، اسی طرح اگر نکرہ امر، دعا اور ان جیسی چیزوں مثلاً شرط کے سیاق میں آئے تو وہاں بھی عموم مراد ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۶] اور اگر مشرکین میں سے کوئی ایک تجھ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دے۔ (ابن عاشور)
➌ {مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ: غَدٌ} (کل) سے مراد آخرت ہے۔ دنیا آج ہے اور آخرت کل، جو مرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ دور ہونے کے باوجود اسے {غَدٌ} کہنے میں یہ سبق ہے کہ اسے دور مت سمجھو، کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے، خصوصاً جس کا علم ہی نہ ہو کہ کب آئے گا اور جو اگلے لمحے ہی آ سکتا ہو اس کے { غَدٌ } ہونے میں کیا شبہ ہے۔
➍ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ:} یہاں { اتَّقُوا اللّٰهَ } کو دوبارہ لایا گیا ہے، اس کی تین توجیہیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں، ایک یہ کہ تکرار کا مقصد اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی تاکید ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ پہلے { اتَّقُوا اللّٰهَ } کے ساتھ اللہ سے ڈرنے کا اور آخرت کی تیاری کا حکم دیا، اس کے بعد { اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ } کے ساتھ اس کی وجہ بیان کرنا تھی، کیونکہ {إِنَّ} تعلیل کے لیے ہوتا ہے، لیکن چونکہ پہلے { اتَّقُوا اللّٰهَ } کے بعد فاصلہ زیادہ ہو رہا تھا، اس لیے { اتَّقُوا اللّٰهَ } کو دوبارہ لا کر اس کی وجہ بیان فرما دی کہ اللہ سے ڈر جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ تمھارا کوئی کام اس سے مخفی نہیں جس پر تم اس کی گرفت سے بچ جاؤ، یا اچھا ہے تو اس کے انعام سے محروم رہو۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ پہلے { اتَّقُوا اللّٰهَ } سے مراد تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کا حکم ہے جس کی بدولت آدمی نیکی کرتا ہے اور گناہ سے بچتا ہے اور دوسرے { اتَّقُوا اللّٰهَ } سے مراد اس پر دوام ہے، یعنی ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ تم جو کچھ کرتے ہو یا کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس معنی کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ بعد میں فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ» ‏‏‏‏ اور ان لوگوں یعنی منافقین کی طرح نہ ہو جاؤ جو (ایمان لانے کے بعد) اللہ کو بھول گئے، بلکہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 اہل ایمان کو خطاب کرکے انہیں وعظ کیا جارہا ہے اللہ سے ڈرنے کا مطلب ہے اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے انہیں بجا لاؤ جن سے روکا ہے ان سے رک جاؤ آیت میں یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا کیونکہ یہ تقوی اللہ کا خوف ہی انسان کو نیکی کرنے پر اور برائی سے اجتناب پر آمادہ کرتا ہے۔ 18۔ 2 اسے کل سے تعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ اس کا وقوع زیادہ دور نہیں، قریب ہے۔ 18۔ 3 چناچہ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا، نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی جزا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر ایک کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل [24] کے لئے کیا سامان کیا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ یقیناً اس سے پوری طرح با خبر ہے۔
[24] ہر شخص کو آخرت کا دھیان رکھنا چاہئے :۔
کل سے مراد قیامت کا دن یا اخروی زندگی ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اس کی دنیا کی پوری زندگی ”آج“ ہے۔ دنیا دار العمل ہے جس کا پھل اسے عقبیٰ میں یا آخرت میں ملے گا، جو کچھ بوئے گا، وہی کچھ کاٹے گا اور جتنا بوئے گا اتنا ہی کاٹے گا۔ ان اصولوں کے تحت ہر انسان کو خود اپنا محتسب بنایا گیا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے اعمال پر خود نظر رکھے۔ اسے سیدھے اور غلط راستے، نیکی اور بدی، اچھے اور برے کی تمیز بھی عطا کر دی گئی ہے اور پوری وضاحت کے ساتھ سب کچھ بتا بھی دیا گیا ہے۔ اب یہ اس کا اپنا کام ہے کہ خود دیکھتا رہے کہ وہ کون سی راہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہے۔ وہ اسے جہنم کی طرف لے جا رہی ہو؟ اور سورۃ قیامۃ میں فرمایا کہ انسان کو اتنی سمجھ دے دی گئی ہے کہ وہ اپنے اعمال کا خود ہی محاسبہ کر سکے۔ اگر وہ اپنے حق میں مصالحت اور بہانہ تراشیاں چھوڑ دے تو وہ اپنے اعمال کا وزن کر سکتا ہے۔ اور اسے ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اس لیے کہ اگر وہ ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہے گا تو سیدھے راستے سے چوکے گا نہیں۔ اور نہ ہی اللہ کی نافرمانی کے کام کرے گا۔ دوسری بات جو اسے ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے یہ ہے کہ اس کا مال و دولت، اس کی تندرستی، اس کی استعداد اور اس کی سرگرمیاں آیا دنیا کے حصول تک ہی ختم ہو کر رہ جاتی ہیں یا وہ آخرت کے لیے کچھ سامان مہیا کر رہا ہے۔ یہ احتساب خود اسے ایسی باتوں پر آمادہ کر دے گا جو آخرت میں اس کے لیے سود مند ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اجتماعی اور خیر کی ایک نوعیت اور انفرادی اعمال خیر ٭٭
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم دن چڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ کچھ لوگ آئے جو ننگے بدن اور کھلے پیر تھے۔ صرف چادروں یا عباؤں سے بدن چھپائے ہوئے تلواریں گردنوں میں حمائل کئے ہوئے تھے یہ تمام لوگ قبیلہ مضر میں سے تھے، ان کی اس فقرہ فاقہ کی حالت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی رنگت کو متغیر کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں گئے پھر باہر آئے پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنے کا حکم دیا اذان ہوئی پھر اقامت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ شروع کیا اور آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:1]‏‏‏‏، تلاوت کی پھر سورۃ الحشر کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [59-الحشر:18]‏‏‏‏، پڑھی اور لوگوں کو خیرات دینے کی رغبت دلائی جس پر لوگوں نے صدقہ دینا شروع کیا بہت سے درہم دینار کپڑے لتے کھجوریں وغیرہ آ گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر تقریر کئے جاتے تھے یہاں تک کہ فرمایا: اگر آدھی کھجور بھی دے سکتے ہو تو لے آؤ۔ ایک انصاری ایک تھیلی نقدی کی بھری ہوئی بہت وزنی جسے بمشکل اٹھا سکتے تھے لے آئے، پھر تو لوگوں نے لگاتار جو کچھ پایا لانا شروع کر دیا یہاں تک کہ ہر چیز کے ڈھیر لگ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اداس چہرہ بہت کھل گیا اور مثل سونے کے چمکنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی کسی اسلامی کار خیر کو شروع کرے اسے اپنا بھی اور اس کے بعد جو بھی اس کام کو کریں سب کا بدلہ ملتا ہے لیکن بعد والوں کے اجر گھٹ کر نہیں، اسی طرح جو اسلام میں کسی برے اور خلاف شرع طریقے کو جاری کرے اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہوتا ہے اور پھر جتنے لوگ اس پر کاربند ہوں سب کو جتنا گناہ ملے گا اتنا ہی اسے بھی ملتا ہے مگر ان کے گناہ گھٹتے نہیں۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح مسلم:1017]‏‏‏‏
آیت میں پہلے حکم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو، یعنی اس کے احکام بجا لا کر اور اس کی نافرمانیوں سے بچ کر، پھر فرمان ہے کہ وقت سے پہلے اپنا حساب آپ لیا کرو دیکھتے رہو کہ قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے پیش ہو گے، تب کام آنے والے نیک اعمال کا کتنا کچھ ذخیرہ تمہارے پاس ہے۔
پھر تاکید ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تمہارے تمام اعمال و احوال سے اللہ تعالیٰ پورا باخبر ہے نہ کوئی چھوٹا کام اس سے پوشیدہ، نہ بڑا نہ چھپا نہ کھلا۔
پھر فرمان ہے کہ اللہ کے ذکر کو نہ بھولو ورنہ وہ تمہارے نیک اعمال جو آخرت میں نفع دینے والے ہیں بھلا دے گا۔ اس لیے کہ ہر عمل کا بدلہ اسی کے جنس سے ہوتا ہے اسی لیے فرمایا کہ یہی لوگ فاسق ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانے والے اور قیامت کے دن نقصان پہنچانے والے اور ہلاکت میں پڑنے والے یہی لوگ ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:9]‏‏‏‏ یعنی ’ مسلمانو! تمہیں تمہارے مال و اولاد یاد اللہ سے غافل نہ کریں جو ایسا کریں وہ سخت زیاں کار ہیں۔‘
طبرانی میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک خطبہ کا مختصر سا حصہ یہ منقول ہے کہ آپ نے فرمایا، کیا تم نہیں جانتے؟ کہ صبح شام تم اپنے مقررہ وقت کی طرف بڑھ رہے ہو، پس تمہیں چاہیئے کہ اپنی زندگی کے اوقات اللہ عزوجل کی فرمانبرداری میں گزارو، اور اس مقصد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے کوئی شخص صرف اپنی طاقت و قوت سے حاصل نہیں کر سکتا، جن لوگوں نے اپنی عمر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے سوا اور کاموں میں کھپائی ان جیسے تم نہ ہونا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان جیسے بننے سے منع فرمایا ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّـهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ» ۱؎ [59-الحشر:19]‏‏‏‏ خیال کرو کہ تمہاری جان پہچان کے تمہارے بھائی آج کہاں ہیں؟ انہوں نے اپنے گزشتہ ایام میں جو اعمال کئے تھے ان کا بدلہ لینے یا ان کی سزا پانے کے لیے وہ دربار الٰہیہ میں جا پہنچے، یا تو انہوں نے سعادت اور خوش نصیبی پائی یا نامرادی اور شقاوت حاصل کر لی، کہاں ہیں؟ وہ سرکش لوگ جنہوں نے بارونق شہر بسائے اور ان کے مضبوط قلعے کھڑے کئے، آج وہ قبروں کے گڑھوں میں پتھروں تلے دبے پڑے ہیں، یہ ہے کتاب اللہ قرآن کریم تم اس نور سے مضبوط قلعے کھڑے کئے، آج وہ قبروں کے گڑھوں میں پتھروں تلے دبے پڑے ہیں، یہ ہے کتاب اللہ قرآن کریم تم اس نور سے روشنی حاصل کرو جو تمہیں قیامت کے دن کی اندھیروں میں کام آ سکے، اس کی خوبی بیان سے عبرت حاصل کرو اور بن سنور جاؤ، دیکھو اللہ تعالیٰ نے زکریا اور ان کی اہل بیت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا «إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:90]‏‏‏‏ یعنی ’ وہ نیک کاموں میں سبقت کرتے تھے اور بڑے لالچ اور سخت خوف کے ساتھ ہم سے دعائیں کیا کرتے تھے اور ہمارے سامنے جھکے جاتے تھے‘، سنو وہ بات بھلائی سے خالی ہے جس سے اللہ کی رضا مندی مقصود نہ ہو، وہ مال خیرو و برکت والا نہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جاتا ہو، وہ شخص نیک بختی سے دور ہے جس کی جہالت بردباری پر غالب ہو اس طرح وہ شخص بھی نیکی سے خالی ہاتھ ہے جو اللہ کے احکام کی تعمیل میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف کھائے۔
اس کی اسناد بہت عمدہ ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، گو اس کے ایک راوی نعیم بن نمحہ ثقاہت یا عدم ثقاہت سے معروف نہیں، لیکن امام ابوداؤد سجستانی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ کافی ہے کہ جریر بن عثمان کے تمام استاد ثقہ ہیں اور یہ بھی آپ ہی کے اساتذہ میں سے ہیں اور اس خطبہ کے اور شواہد بھی مروی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جہنمی اور جنتی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یکساں نہیں، جیسے فرمان ہے «أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [45-الجاثية:21]‏‏‏‏، یعنی ’ کیا بدکاروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں باایمان نیک کار لوگوں کے مثل کر دیں گے ان کا جینا اور مرنا یکساں ہے ان کا یہ دعویٰ بالکل غلط اور برا ہے۔ ‘
اور جگہ ہے «وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيءُ» ۱؎ [40-غافر:58]‏‏‏‏، یعنی ’ اندھا اور دیکھتا، ایماندار صالح اور بدکار برابر نہیں، تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کر رہے ہو۔ ‘
اور «أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [38-ص:28]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا ہم ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے والوں کو فساد کرنے والوں جیسا بنا دیں گے یا پرہیزگاروں کو مثل فاجروں کے بنا دیں گے؟‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ نیک کار لوگوں کا اکرام ہو گا اور بدکار لوگوں کو رسوا کن عذاب ہو گا۔
یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جنتی لوگ فائز بمرام اور مقصدور، کامیاب اور فلاح و نجات یافتہ ہیں اللہ عزوجل کے عذاب سے بال بال بچ جائیں گے۔‘