یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اٰمِنُوۡا بِرَسُوۡلِہٖ یُؤۡتِکُمۡ کِفۡلَیۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِہٖ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۚۙ۲۸﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، وہ تمھیں اپنی رحمت سے دوہرا حصہ دے گا اور تمھارے لیے ایسی روشنی کر دے گا جس کے ذریعے تم چلتے رہو گے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
مومنو! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کردے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناه بھی معاف فرمادے گا، اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 28) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ …:} مفسرین نے اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے الفاظ کے مخاطب اہلِ کتاب ہیں جو اس سے پہلے اپنے نبی پر ایمان کا دعویٰ رکھتے تھے، انھیں حکم دیا جا رہا ہے کہ اللہ سے ڈر جاؤ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ، تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی رحمت سے دوہرا حصہ عطا فرمائے گا۔ اس کی تائید سورۂ قصص کی آیات (۵۲ تا ۵۴) سے ہوتی ہے اور اس حدیث سے بھی جو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ثَلاَثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْكُ إِذَا أَدّٰی حَقَّ اللّٰهِ وَحَقَّ مَوَالِيْهِ، وَ رَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ تَأْدِيْبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ] [بخاري، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأہلہ: ۹۷] ”تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کے لیے دو اجر ہیں، ایک اہلِ کتاب میں سے کوئی آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور ایک وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو، جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے اور ایک وہ آدمی جس کے پاس ایک لونڈی تھی، وہ اس سے صحبت کرتا تھا، تو اس نے اسے ادب سکھایا اور اچھی طرح ادب سکھایا اور اسے تعلیم دی اور اچھی طرح تعلیم دی، پھر اسے آزاد کر دیا اور اس سے نکاح کر لیا، تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“
اس تفسیر میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ اپنی جگہ درست ہے، مگر یہاں {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} سے اہلِ کتاب میں سے مسلمان ہونے والے مراد لینا سیاق کے خلاف ہے، کیونکہ شروع سے آخر تک خطاب ان لوگوں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، انھی کو اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرنے اور اللہ کی راہ میں قتال اور خرچ کا حکم آرہا ہے۔ اس آیت میں بھی انھیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول پر کما حقہ ایمان لانے کا حکم اور اس کی جزا کے طور پر اپنی نعمت کا دوہرا حصہ اور نور عظیم عطا کرنے کی بشارت کا ذکر ہے۔ اس لیے صحیح تفسیر ان حضرات کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ خطاب ان لوگوں سے ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، خواہ وہ اہلِ کتاب میں سے اسلام لائے ہوں یا مشرکین میں سے، یا پیدا ہی اسلام میں ہوئے ہوں، ان سب سے کہا جا رہا ہے کہ صرف زبان سے ایمان کے اقرار اور دعویٰ پر اکتفا نہ کرو، بلکہ سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ، اس کا حق ادا کرو اور اس کے تقاضے پورے کرو، تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا کرے گا۔
اس دوہرے حصے سے مراد ہماری اس امت کی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے محض اپنے فضل سے پہلی امتوں کی بہ نسبت دوہرے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ایک مثال کے ساتھ واضح فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ، فَقَالَ مَنْ يَّعْمَلُ لِيْ مِنْ غُدْوَةَ إِلٰی نِصْفِ النَّهَارِ عَلٰی قِيْرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُوْدُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِيْ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلٰی صَلاَةِ الْعَصْرِ عَلٰی قِيْرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارٰی، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَّعْمَلُ لِيْ مِنَ الْعَصْرِ إِلَی أَنْ تَغِيْبَ الشَّمْسُ عَلٰی قِيْرَاطَيْنِ؟ فَأَنْتُمْ هُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارٰی، فَقَالُوْا مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلاً، وَأَقَلَّ عَطَاءً؟ قَالَ هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ؟ قَالُوْا لاَ قَالَ فَذٰلِكَ فَضْلِيْ أُوْتِيْهِ مَنْ أَشَاءُ] [بخاري، الإجارۃ، باب الإجارۃ إلٰی نصف النہار: ۲۲۶۸، ۳۴۵۹، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] ”تمھاری مثال اور دونوں کتابوں (تورات و انجیل) والوں کی مثال اس آدمی کی مثال کی طرح ہے جس نے کئی مزدوروں کو اجرت پر رکھا اور کہا: ”کون ہے جو میرے لیے صبح سے نصف النہار تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟“ تو یہود نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: ”کون ہے جو میرے لیے نصف النہار سے عصر تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟“ تو نصاریٰ نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: ”کون ہے جو میرے لیے عصر سے سورج غروب ہونے تک دو قیراط پر کام کرے گا۔“ تو تم وہ لوگ ہو۔ اس پر یہود و نصاریٰ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: ”ہمیں کیا ہے کہ ہم نے کام زیادہ کیا اور اجرت کم ملی؟“ اس نے کہا: ”کیا میں نے تمھارے حق میں کوئی کمی کی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ اس نے کہا: ”پھر یہ میرا فضل ہے، جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔“
➋ { وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ …:} یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بدولت اللہ تعالیٰ تمھیں کتاب و سنت کی صورت میں وحیٔ الٰہی کا ایسا عظیم نور عطا کرے گا جس کے ذریعے سے تم دنیا و آخرت میں ہر جگہ آسانی کے ساتھ چلتے رہو گے، کسی مسئلے میں تمھیں کوئی الجھن یا اندھیرا پیش نہیں آئے گا، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ» [البقرۃ: ۲۵۷] ”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ اور قیامت کے دن کے اندھیروں میں وہ نور عطا کرے گا جس میں چلتے ہوئے تم جنت تک پہنچ جاؤ گے، جس کا ذکر اس سے پہلے {” يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ “} میں گزرچکا ہے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ غفور و رحیم ہے۔
اس تفسیر میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ اپنی جگہ درست ہے، مگر یہاں {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} سے اہلِ کتاب میں سے مسلمان ہونے والے مراد لینا سیاق کے خلاف ہے، کیونکہ شروع سے آخر تک خطاب ان لوگوں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، انھی کو اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرنے اور اللہ کی راہ میں قتال اور خرچ کا حکم آرہا ہے۔ اس آیت میں بھی انھیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول پر کما حقہ ایمان لانے کا حکم اور اس کی جزا کے طور پر اپنی نعمت کا دوہرا حصہ اور نور عظیم عطا کرنے کی بشارت کا ذکر ہے۔ اس لیے صحیح تفسیر ان حضرات کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ خطاب ان لوگوں سے ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، خواہ وہ اہلِ کتاب میں سے اسلام لائے ہوں یا مشرکین میں سے، یا پیدا ہی اسلام میں ہوئے ہوں، ان سب سے کہا جا رہا ہے کہ صرف زبان سے ایمان کے اقرار اور دعویٰ پر اکتفا نہ کرو، بلکہ سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ، اس کا حق ادا کرو اور اس کے تقاضے پورے کرو، تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا کرے گا۔
اس دوہرے حصے سے مراد ہماری اس امت کی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے محض اپنے فضل سے پہلی امتوں کی بہ نسبت دوہرے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ایک مثال کے ساتھ واضح فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ، فَقَالَ مَنْ يَّعْمَلُ لِيْ مِنْ غُدْوَةَ إِلٰی نِصْفِ النَّهَارِ عَلٰی قِيْرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُوْدُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِيْ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلٰی صَلاَةِ الْعَصْرِ عَلٰی قِيْرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارٰی، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَّعْمَلُ لِيْ مِنَ الْعَصْرِ إِلَی أَنْ تَغِيْبَ الشَّمْسُ عَلٰی قِيْرَاطَيْنِ؟ فَأَنْتُمْ هُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارٰی، فَقَالُوْا مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلاً، وَأَقَلَّ عَطَاءً؟ قَالَ هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ؟ قَالُوْا لاَ قَالَ فَذٰلِكَ فَضْلِيْ أُوْتِيْهِ مَنْ أَشَاءُ] [بخاري، الإجارۃ، باب الإجارۃ إلٰی نصف النہار: ۲۲۶۸، ۳۴۵۹، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] ”تمھاری مثال اور دونوں کتابوں (تورات و انجیل) والوں کی مثال اس آدمی کی مثال کی طرح ہے جس نے کئی مزدوروں کو اجرت پر رکھا اور کہا: ”کون ہے جو میرے لیے صبح سے نصف النہار تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟“ تو یہود نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: ”کون ہے جو میرے لیے نصف النہار سے عصر تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟“ تو نصاریٰ نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: ”کون ہے جو میرے لیے عصر سے سورج غروب ہونے تک دو قیراط پر کام کرے گا۔“ تو تم وہ لوگ ہو۔ اس پر یہود و نصاریٰ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: ”ہمیں کیا ہے کہ ہم نے کام زیادہ کیا اور اجرت کم ملی؟“ اس نے کہا: ”کیا میں نے تمھارے حق میں کوئی کمی کی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ اس نے کہا: ”پھر یہ میرا فضل ہے، جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔“
➋ { وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ …:} یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بدولت اللہ تعالیٰ تمھیں کتاب و سنت کی صورت میں وحیٔ الٰہی کا ایسا عظیم نور عطا کرے گا جس کے ذریعے سے تم دنیا و آخرت میں ہر جگہ آسانی کے ساتھ چلتے رہو گے، کسی مسئلے میں تمھیں کوئی الجھن یا اندھیرا پیش نہیں آئے گا، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ» [البقرۃ: ۲۵۷] ”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ اور قیامت کے دن کے اندھیروں میں وہ نور عطا کرے گا جس میں چلتے ہوئے تم جنت تک پہنچ جاؤ گے، جس کا ذکر اس سے پہلے {” يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ “} میں گزرچکا ہے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ غفور و رحیم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28-1یہ دگنا اجر اہل ایمان کو ملے گا جو نبی سے قبل پہلے کسی رسول پر ایمان رکھتے تھے پھر نبی پر بھی ایمان لے آئے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے (صحیح بخاری) ایک دوسری تفسیر کے مطابق جب اہل کتاب نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انہیں دوگنا اجر ملے گا، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی۔ (تفصیل کیلئے دیکھئے، تفسیر ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا کرے [51] گا اور ایسا نور [52] بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے اور تمہیں معاف کر دے گا اور اللہ بخشنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔
[51] دوہرا اجر صرف ایمان والے اہل کتاب کے لئے ہی مختص نہیں :۔
کتاب و سنت میں صراحت سے مذکور ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے۔ انہیں دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجر اپنے نبی پر ایمان لانے کا اور دوسرا نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کا۔ اب اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے تھے۔ وہ دوسرے مسلمانوں پر فخر کرنے لگے کہ ہمارے لئے دو اجر ہیں اور تمہارے لئے صرف ایک جس سے عام مسلمانوں میں کچھ احساس کمتری پیدا ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانبردار بن جاؤ گے تو تمہیں بھی دوہرا اجر ملے گا۔ اللہ کے ہاں اجر کی کوئی کمی نہیں۔
[52] نور سے مراد ایک تو وحی الہٰی اور علم شریعت کی روشنی ہے۔ ایماندار اسی روشنی میں اپنا طرز زندگی متعین کرتے اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور دوسرے وہ نور مراد ہے جو اعمال صالحہ کی بدولت مومنوں کو قیامت کے دن حاصل ہو گا جس کا ذکر اسی سورۃ کی آیت نمبر 12 میں گزر چکا ہے۔
[52] نور سے مراد ایک تو وحی الہٰی اور علم شریعت کی روشنی ہے۔ ایماندار اسی روشنی میں اپنا طرز زندگی متعین کرتے اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور دوسرے وہ نور مراد ہے جو اعمال صالحہ کی بدولت مومنوں کو قیامت کے دن حاصل ہو گا جس کا ذکر اسی سورۃ کی آیت نمبر 12 میں گزر چکا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کی مثال ٭٭
اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جن مومنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا۔“
جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخص جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:97]
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی [ابن جریر]
اسی مضمون کی ایک آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [8-الانفال:29] ہے یعنی ’ اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘
جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخص جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:97]
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی [ابن جریر]
اسی مضمون کی ایک آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [8-الانفال:29] ہے یعنی ’ اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ ”تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ”ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔“ سعید رحمہ اللہ نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے { تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟ پس یہود تیار ہو گئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2268]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟ پس یہود تیار ہو گئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2268]
صحیح بخاری میں ہے { مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرا لی اور انہوں نے ظہر تک کام کر کے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لیے بغیر چلتے بنے، اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہو سکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہیئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے، اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چنانچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے۔ پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2271]
پھر فرماتا ہے یہ اس لیے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔
پھر فرماتا ہے یہ اس لیے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِئَلَّا يَعْلَمَ» کا معنی «لِیَعْلَمَ» ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «لِکَیْ یَعْلَمَ» ہے، اسی طرح عطابن عبداللہ رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔
غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں «لا» صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آ جاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» ۱؎ [7-الأعراف:12] میں ہے اور آیت «وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:109] میں اور آیت «وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:95] میں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحدید کی تفسیر ختم ہوئی۔
غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں «لا» صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آ جاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» ۱؎ [7-الأعراف:12] میں ہے اور آیت «وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:109] میں اور آیت «وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:95] میں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحدید کی تفسیر ختم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس ستائیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔
میرے مہربان اللہ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔
اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لیے بھی رحم کی دعا کریں۔
یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین!
میرے مہربان اللہ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔
اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لیے بھی رحم کی دعا کریں۔
یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین!