تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِيْزَانَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۱۷) کی تفسیر۔
➌ { وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ:} لوہا اگرچہ زمین سے نکلتا ہے مگر اس نعمت کی عظمت کا احساس دلانے کے لیے{” اَنْزَلْنَا “} کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جیسا کہ چوپاؤں کے متعلق فرمایا: «وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ» [الزمر: ۶] ”اور اس نے تمھارے لیے چوپاؤں میں سے آٹھ قسمیں (نر و مادہ) اتاریں۔“ اس میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر نعمت کا اصل سرچشمہ آسمان ہی ہے، جہاں سے اللہ کا حکم صادر ہوتا ہے تو ہر چیز وجود میں آتی ہے اور اس تعلیم کی طرف بھی اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ بندوں کے دلوں میں لوہے کو حاصل کرنے اور اس کے استعمال کے طریقوں کا القا فرماتا ہے۔
➍ { فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ:} اس میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ لوہے کے دوسرے ”منافع“ کو بعد میں ذکر فرمایا ہے اور سخت لڑائی کا ذکر پہلے فرمایا ہے۔ اس سے جہاد اور اسلحہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ منافع سے مراد وہ بے شمار مشینیں، آلات اور سواریاں ہیں جو ایجاد ہو چکی ہیں اور آئندہ ہوں گی۔
➎ { وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَيْبِ:} جہاد کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک لمحے میں کفار کو نیست و نابود کر سکتا ہے، مگر وہ جہاد کے ذریعے سے اپنے بندوں کا امتحان کرتا ہے کہ اسے دیکھے بغیر کون اس کی خاطر لڑتا اور اس کے دین کی مدد کرتا ہے اور کون پیچھے رہتا ہے۔ {” وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ “} کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴۰ تا ۱۴۲) اور سورۂ عنکبوت (۳) کی تفسیر۔
➏ {اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جہاد کا حکم اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں دیا، بلکہ انھی کے فائدے کے لیے اور امتحان کے لیے دیا ہے، کیونکہ وہ تو بڑی قوت والا اور سب پر غالب ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[43] لوہا اگرچہ زمین کے اندر کانوں سے نکلتا ہے۔ تاہم اسے نازل کرنے سے تعبیر کیا جیسا کہ میزان کو نازل کرنے سے تعبیر کیا۔ اس سے مراد ان چیزوں کو پیدا کرنا اور وجود میں لانا اور اجمالاً تمام اشیاء ہی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ اور لوہے یا جنگی قوت کے استعمال کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس سے فتنہ و فساد کو روکا جا سکتا ہے۔ اور ضمنی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں چیزوں کے حصول اور استعمال سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کون اللہ کے دین کے نفاذ کی خاطر پیش قدمی کرتا ہے اور کون اس سے پہلو تہی کرتا ہے۔ ورنہ اللہ تو اتنا طاقتور اور غالب ہے کہ وہ اور بھی کئی طریقوں سے اپنا دین نافذ کر سکتا ہے۔ مگر جہاد سے اصل مقصود تو لوگوں کا امتحان ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ ہے «اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً» ۱؎ [11-ھود:17] ’ جو شخص اپنے رب کی طرف دلیل پر ہو اور ساتھ ہی اس کے شاہد بھی ہو۔‘
ایک اور جگہ ہے «فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» ۱؎ [30-الروم:30] ’ اللہ کی یہ فطرت ہے جس پر مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے۔ ‘
اور فرماتا ہے «وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ» [55-الرحمن:7] ’ آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان رکھ دی۔ ‘
پس یہاں فرمان ہے یہ اس لیے کہ لوگ حق و عدل پر قائم ہو جائیں، یعنی اتباع رسول کرنے لگیں امر رسول بجا لائیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تمام باتوں کو حق سمجھیں کیونکہ اس کے سوا حق کسی اور کا کلام نہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [6-الانعام:115] ’ تیرے رب کا کلمہ جو اپنی خبروں میں سچا اور اپنے احکام میں عدل والا ہے پورا ہو چکا۔‘ یہی وجہ ہے کہ جب ایماندار جنتوں میں پہنچ جائیں گے اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہو جائیں گے تو کہیں گے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ’ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہدایت دی اگر اس کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم اس راہ نہیں لگ سکتے تھے ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔‘
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے منکرین حق کی سرکوبی کے لیے لوہا بنایا ہے۔ ‘ یعنی اولاً تو کتاب و رسول اور حق سے حجت قائم کی پھر ٹیڑھے دل والوں کی کجی نکالنے کے لیے لوہے کو پیدا کر دیا تاکہ اس کے ہتھیار بنیں اور اللہ دوست حضرات، اللہ کے دشمنوں کے دل کا کانٹا نکال دیں، یہی نمونہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بالکل عیاں نظر آتا ہے کہ مکہ شریف کے تیرہ سال مشرکین کو سمجھانے، توحید و سنت کی دعوت دینے، ان کے عقائد کی اصلاح کرنے میں گزارے۔ خود اپنے اوپر مصیبتیں جھیلیں لیکن جب یہ حجت ختم ہو گئی تو شرع نے مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت دی، پھر حکم دیا کہ اب ان مخالفین سے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کو روک رکھا ہے مسلمانوں کو تنگ کر رکھا ہے ان کی زندگی دو بھر کر دی ہے ان سے باقاعدہ جنگ کرو، ان کی گردنیں مارو اور ان مخالفین وحی الٰہی سے زمین کو پاک کرو۔
پس لوہے سے لڑائی کے ہتھیار بنتے ہیں جیسے تلوار، نیزے، چھریاں، تیز زرہیں وغیرہ اور لوگوں کے لیے اس کے علاوہ بھی بہت سے فائدے ہیں۔ جیسے سکے، کدال، پھاوڑے، آرے، کھیتی کے آلات، بننے کے آلات، پکانے کے برتن، توے وغیرہ وغیرہ اور بھی بہت سی ایسی ہی چیزیں جو انسانی زندگی کی ضروریات سے ہیں۔
پھر فرمایا تاکہ اللہ جان لے کہ ان ہتھیاروں کے اٹھانے سے اللہ رسول کی مدد کرنے کا نیک ارادہ کس کا ہے؟ اللہ قوت و غلبہ والا ہے، اس کے دین کی جو مدد کرے وہ اس کی مدد کرتا ہے، دراصل اپنے دین کو وہی قوی کرتا ہے اس نے جہاد تو صرف اپنے بندوں کی آزمائش کے لیے مقرر فرمایا ہے ورنہ غلبہ و نصرت تو اسی کی طرف سے ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {لقد أرْسَلْنا رُسُلَنا بالبيِّناتِ}: وهي الأدلَّة والشواهد والعلامات الدَّالَّة على صدق ما جاؤوا به وحقِّيَّتِهِ، {وأنزلنا معهم الكتابَ}: وهو اسم جنس يَشْمَلُ سائر الكتب التي أنزلها الله لهداية الخلق وإرشادهم ما ينفعهم في دينهم ودنياهم، {والميزانَ}: وهو العدلُ في الأقوال والأفعال، والدين الذي جاءت به الرُّسل كلُّه عدلٌ وقسطٌ في الأوامر والنَّواهي وفي معاملات الخَلْق وفي الجنايات والقِصاص والحدود والمواريث وغير ذلك، وذلك {ليقومَ الناسُ بالقسطِ}: قياماً بدين الله، وتحصيلاً لمصالحهم التي لا يمكنُ حصرُها وعدُّها، وهذا دليلٌ على أنَّ الرسل متَّفقون في قاعدة الشرع، وهو القيامُ بالقسط، وإنِ اختلفتْ صورُ العدل بحسب الأزمنة والأحوال، {وأنزَلْنا الحديدَ فيه بأسٌ شديدٌ}: من آلات الحرب؛ كالسلاح والدُّروع وغير ذلك، {ومنافعُ للناس}: وهو ما يشاهَدُ من نفعه في أنواع الصِّناعات والحرف والأواني وآلات الحَرْثِ، حتى إنَّه قَلَّ أن يوجَدَ شيءٌ إلاَّ وهو يحتاجُ إلى الحديد، {ولِيَعْلَمَ اللهُ مَن يَنصُرُه ورُسُلَه بالغيب}؛ أي: ليقيم تعالى سوقَ الامتحان بما أنزله من الكتاب والحديد، فيتبيَّن من ينصُرُه وينصُرُ رسله في حالة الغيب، التي ينفع فيها الإيمان قبل الشهادة، التي لا فائدة بوجود الإيمان فيها؛ لأنَّه حينئذٍ يكون ضروريًّا. {إنَّ الله لَقَوِيٌّ عزيزٌ}؛ أي: لا يعجِزُه شيءٌ ولا يفوته هاربٌ، ومن قوَّته وعزَّته أن أنزل الحديدَ الذي منه الآلاتُ القويَّة، ومن قوَّته وعزَّته أنه قادرٌ على الانتصار من أعدائه، ولكنَّه يبتلي أولياءه بأعدائه؛ ليعلم من ينصرُهُ بالغيب.
وقَرَنَ تعالى بهذا الموضع بين الكتاب والحديد؛ لأنَّ بهذين الأمرين ينصر الله دينه ويُعلي كلمته: بالكتاب الذي فيه الحجَّة والبرهان، والسيف الناصر بإذن الله، وكلاهما قيامُهُ بالعدل والقِسْط، الذي يستدلُّ به على حكمةِ الباري وكماله وكمال شريعتِهِ التي شرعها على ألسنة رسله.