ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحديد (57) — آیت 24

الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَ یَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۴﴾
وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑ جائے تو یقینا اللہ ہی ہے جو بڑا بے پروا ہے، بہت تعریفوں والا ہے۔ En
جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپروا (اور) وہی سزاوار حمد (وثنا) ہے
En
جو (خود بھی) بخل کریں اور دوسروں کو (بھی) بخل کی تعلیم دیں۔ سنو! جو بھی منھ پھیرے اللہ بےنیاز اور سزاوار حمد وﺛنا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24) ➊ {الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَ يَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ:} مراد اس سے منافقین ہیں جو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکے تھے، مگر جب جہاد کا موقع آتا تو جنگ میں شرکت سے گریز کرتے اور خرچ کرنے سے بخل کرتے، بلکہ اپنے ہم نواؤں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرتے تھے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ» ‏‏‏‏ [المنافقون: ۷] یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے۔
➋ {وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} ضمیر فصل { هُوَ } لانے سے اور خبر { الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ } پر الف لام لانے سے حصر پیدا ہو رہا ہے کہ اللہ ہی غنی و حمید ہے، کوئی اور نہیں۔ یعنی جو شخص اتنی نصیحت سن کر بھی جہاد میں خرچ کرنے سے منہ موڑے اور سمجھے کہ اس کے خرچ نہ کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کا کوئی نقصان ہو جائے گا تو اس کا یہ خیال باطل ہے، کیونکہ آسمان و زمین کے تمام خزانوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے (جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا) اور غنی وہ اکیلا ہی ہے، دوسرے سب اس کے محتاج ہیں، جو کوئی بھی خرچ کرتا ہے اس کے دیے میں سے خرچ کرتا ہے اور اپنے فائدے کے لیے خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے خرچ کرنے سے بے نیاز ہے۔ غنی کے ساتھ حمید کی صفت بیان فرمائی، کیونکہ بہت سے اغنیاء عارضی غنی کے مالک ہونے کے باوجود اپنی غنی کو مذموم کاموں میں استعمال کرتے ہیں مگر اللہ ایسا غنی ہے کہ وہ ہر مذموم صفت اور فعل سے پاک ہے اور تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24-1یعنی انفاق فی سبیل اللہ سے، کیونکہ اصل بخل یہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑے تو اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اور وہ اپنی ذات میں محمود ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَ٘اْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں۔ یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شر کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انھوں نے بخل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انھیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ ﴿ وَمَنْ یَّتَوَلَّ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور سزاوارِ حمد وثنا ہے۔ جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ ﴿الْحَمِیْدُ وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل اور ہر فعل خوبصورت ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الذين يَبْخَلونَ ويأمُرونَ الناس بالبُخْلِ}؛ أي: يجمعون بين الأمرين الذَّميمين اللذين كلٌّ منهما كافٍ في الشرِّ: البخل، وهو منع الحقوق الواجبة، ويأمرون الناس بذلك، فلم يكفِهِم بُخْلُهم، حتى أمروا الناس بذلك، وحثُّوهم [على] هذا الخلق الذميم بقولهم وفعلهم، وهذا من إعراضهم عن طاعة ربِّهم وتولِّيهم عنها، {ومن يَتَوَلَّ}: عن طاعة اللهِ؛ فلا يضرُّ إلاَّ نفسه، ولن يضرَّ الله شيئاً، {فإنَّ الله هو الغنيُّ الحميدُ}: الذي غناه من لوازم ذاته، الذي له مُلْكُ السماواتِ والأرض، وهو الذي أغنى عبادَه وأقْناهم، الحميدُ الذي له كلُّ اسم حسنٍ ووصفٍ كامل وفعل جميل يستحقُّ أن يُحْمَدَ عليه ويُثْنى ويُعَظَّم.