ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحديد (57) — آیت 21

سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾
اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح ہے، وہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ En
(بندو) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی (طرف) جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ اور جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو۔ یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
En
(آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت کے برابر ہے یہ ان کے لیے بنائی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) ➊ {سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ: سَابِقُوْۤا سَبَقَ يَسْبِقُ سَبْقًا} (ض،ن) سے باب مفاعلہ کا امر حاضر ہے۔ اس میں مقابلے کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے اعمال کی طرف آگے بڑھو جن سے تم مغفرت اور جنت کے مستحق بن سکو۔ مثلاً میدان قتال کی پہلی صف میں ہونا، امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ میں شامل ہونا اور اللہ کی راہ میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا وغیرہ۔ یہ آیت سورۂ آل عمران کی آیت (۱۳۳) سے ملتی جلتی ہے، اس کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
➋ { وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ: السَّمَآءِ } کا لفظ یہاں بطور جنس استعمال ہوا ہے، مراد تمام آسمان ہیں۔ دلیل اس کی سورۂ آل عمران کی یہ آیت ہے: «‏‏‏‏وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۳۳] اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر)ہے۔
➌ { اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ:} یہاں اتنا ہی ذکر ہے کہ جنت ایمان والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، جبکہ سورۂ آل عمران (۱۳۳ تا ۱۳۵)میں ان ایما ن والوں کے چند اعمال کا بھی ذکر ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کے فضل کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ ان میں پہلا عمل خوشی اور تکلیف میں خرچ کرنا ہے، جس کا ذکر یہاں { اَنْفَقُوْا } میں گزر چکا ہے۔
➍ { ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخلہ محض اللہ کے فضل کے ساتھ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں اور انسان جتنے بھی عمل کر لے وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت کا بھی بدل نہیں ہو سکتے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [لَنْ يُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، قَالُوْا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِقَالَ لاَ، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَةٍ] [بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت: ۵۶۷۳] کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: نہیں، مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ البتہ اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے حصول کا سبب بنتے ہیں، دیکھیے سورۂ اعراف(۴۳) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21-1یعنی اعمال صالحہ اور توبۃ النصوح کی طرف کیونکہ یہی چیزیں مغفرت رب کا ذریعہ ہیں۔ 21-2اور جس کا عرض اتنا ہو، اس کا طول کتنا ہوگا؟ کیونکہ طول عرض سے زیادہ ہی ہوتا ہے 21-3ظاہر ہے اس کی چاہت اسی کے لیے ہوتی ہے جو کفر و معصیت سے توبہ کر کے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتا ہے اسی لیے وہ ایسے لوگوں کو ایمان صالحہ کی توفیق سے بھی نوازتا دیتا ہے۔ 21-4وہ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے جس کو وہ کچھ دے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے اسے کوئی نہیں دے سکتا۔ تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر [36] ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا [37] ہے۔
[36] جنت کی وسعت :۔
یہاں یہ فرمایا کہ جنت کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے اور سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 133 میں فرمایا کہ جنت کا عرض تمام آسمانوں اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ حالانکہ ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک بھی لاکھوں میل کا فاصلہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں جنت کا رقبہ بتانا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ محاورتاً استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مقصود صرف جنت کی وسعت کا تصور دلانا ہے۔ جو یہ ہے کہ زمین و آسمان کو تو تم دیکھ ہی رہے ہو جنت ان سب آسمانوں اور زمین سے بھی بہت بڑی ہو گی۔ لہٰذا تم دنیا کے بجائے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور اگر تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو تمہارے گناہ اور لغزشیں بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور اتنی وسیع و عریض جنت بھی عطا فرمائے گا۔ رہی یہ بات ہے کہ جس جنت کی وسعت یہاں بیان ہو رہی ہے یہ سب اہل جنت کا حق ہو گا، یا ہر جنتی کو اتنی وسیع و عریض جنت ملے گی؟ تو استقصاء سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی ایک مخصوص رہائش گاہ ہو گی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کو جنت میں سیدنا عمرؓ کا محل دیکھا تھا۔ البتہ سیر و تفریح کے لحاظ سے ہر جنتی اتنی وسیع و عریض جنت میں جہاں چاہے گا جا سکے گا۔ اور اس آمدورفت میں اسے کوئی مشکل حائل نہ ہو گی نہ ہی اسے گاڑیوں یا جہازوں کی ضرورت پیش آئے گی۔
[37] جنت صرف اللہ کی مہربانی سے ملے گی :۔
یہ مضمون پہلے بھی متعدد مقامات پر گزر چکا ہے کہ جنت کسی شخص کو اس کے اعمال کے بدلہ کے طور پر نہیں بلکہ محض اللہ کے فضل و کرم سے ملے گی۔ اعمال صالحہ کا بدلہ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ اسے دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے اور یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی شخص کو اس کا عمل بہشت میں نہیں لے جا سکتا؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے اعمال بھی آپ کو بہشت میں نہیں لے جا سکیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں میرے اعمال بھی مجھے بہشت میں نہیں لے جا سکیں گے الا یہ کہ اللہ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ [بخاری۔ کتاب المرضیٰ۔ باب تمنی المریض الموت]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مغفرت کی جستجو ٭٭
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے ہر ایک سے جنت اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنا تمہارا جوتی کا تسمہ اور اسی طرح جہنم بھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6488]‏‏‏‏
پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لیے اسے چاہیئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہو جائیں اور ثواب اور درجے بلند ہو جائیں۔
اسی لیے اس کے ساتھ ہی فرمایا دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:133]‏‏‏‏ ’ اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لیے بنائی گی ہیں۔ ‘
یہاں فرمایا ’ یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے، یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے، اسی لیے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لیے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا۔‘
پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہو چکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسے؟ کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہو اور اتنی ہی بار «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» اور اسی طرح «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» }، کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:843]‏‏‏‏