ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 82

وَ تَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَکُمۡ اَنَّکُمۡ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۸۲﴾
اور تم اپنا حصہ یہ ٹھہراتے ہو کہ بے شک تم جھٹلاتے ہو۔ En
اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو
En
اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 81 میں تا آیت 83 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ اور اس میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا کہ اسے جھٹلاتے [39] رہو
[39] اس آیت کے بھی کئی مطالب ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح روزانہ کھانا کھانا تمہارا معمول ہے اسی طرح قرآن کو جھٹلانا بھی تم نے روز مرہ کا معمول بنا رکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی کوئی اور توجیہ تلاش کر کے اللہ کی اس نعمت کو بھی جھٹلا دینا تمہارا معمول بن گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ اس آیت کی تفسیر مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رزق کا شکر یوں ادا کرتے ہو کہ اللہ کو جھٹلاتے ہو اور کہتے ہو کہ مینہ ہم پر فلاں نچھتر اور فلاں ستارے کے سبب سے برسا ہے۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
اور یہ قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی بارش اور بہت بڑی نعمت ہے اور تم اس نعمت کی شکرگزاری یوں کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ قرآن کو مان لینے سے تمہارا رزق بند ہو جائے گا۔ کعبہ کی سرپرستی اور تولیت چھن جائے گی۔ نذریں نیازیں بند ہو جائیں گی اور کعبہ کی وجہ سے عرب بھر میں جو تمہارا عزت و وقار بنا ہوا ہے سب ختم ہو جائے گا۔ لہٰذا تم اپنے رزق اور عز و جاہ کا ثبات اسی بات میں دیکھتے ہو کہ تم قرآن کو جھٹلاتے رہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔