(آیت 50){ فِيْهِمَاعَيْنٰنِتَجْرِيٰنِ:} چشمے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جن سے اتنا پانی نکلتا ہے جو آگے بہنے لگتا ہے اور ندی نالے کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ایک وہ جن سے پانی نکلتا ہے مگر اتنا ہی جتنا ان میں سے نکالا جاتا ہے، جیسا کہ زمزم کا چشمہ پھوٹ کر نکلا اور ہاجرہ علیھا السلام نے اس کے گرد ریت وغیرہ کی منڈیر بنا دی تو وہ وہیں رک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ امِ اسماعیل پر رحم فرمائے، اگر وہ اس کے گرد منڈیر نہ بناتی تو وہ ندی کی صورت میں جاری ہو جاتا۔“ (دیکھیے، بخاری: ۲۳۶۸) مطلب یہ ہے کہ ان دونوں چشموں کا پانی ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں بلکہ بہ رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
50۔ 1 ایک کا نام تَسْنِیْم اور دوسرے کا نام سَلْسَبِیْل ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ ان دونوں میں [33] دو چشمے جاری ہوں گے
[33] ایک چشمے کا نام تسنیم ہو گا اور دوسرے کا سلسبیل، اور یہ دونوں چشمے ہمیشہ جاری رہیں گے، کبھی خشک نہ ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان جنتوں کے اندر ﴿ عَیْنٰ٘نِتَجْرِیٰنِ﴾”دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔“ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وفي تلك الجنتين {عينانِ تجريانِ}: يفجِّرونَهما على ما يريدون ويشتَهون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔