ترجمہ و تفسیر — سورۃ القمر (54) — آیت 18

کَذَّبَتۡ عَادٌ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۱۸﴾
عاد نے جھٹلادیا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟ En
عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا
En
قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19،18){ كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورئہ حم السجدہ (۱۵، ۱۶) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ قوم عاد نے (بھی) جھٹلایا تھا۔ پھر (دیکھ لو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔