(آیت 15) ➊ { وَلَقَدْتَّرَكْنٰهَاۤاٰيَةً:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۴۴) اور سورۂ عنکبوت (۱۵) کی تفسیر۔ ➋ { فَهَلْمِنْمُّدَّكِرٍ: ”مُدَّكِرٍ“”ذَكَرَيَذْكُرُ“} میں سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، جو اصل میں {”مُذْتَكِرٌ“} ہے، تائے افتعال کو دال سے بدل دیا گیا، اسی طرح ذال کو بھی دال سے بدل کر اس میں ادغام کر دیا گیا، جیسا کہ سورۂ یوسف میں گزرا ہے: «وَقَالَالَّذِيْنَجَامِنْهُمَاوَادَّكَرَبَعْدَاُمَّةٍ» [یوسف: ۴۵]”اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، اس نے کہا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 مُدَّکِرٍ معنی ہیں عبرت پکڑنے اور نصیحت حاصل کرنے والا (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ اور اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی [16] بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
[16] کشتی نوح نشانی کے طور پر :۔
یہ کشتی بالآخر جودی پہاڑ پر ٹک گئی۔ آسمان سے بارش بند ہو گئی۔ نیچے سے زمین نے پانی جذب کیا۔ کچھ ہواؤں اور سورج نے پانی خشک کیا۔ چنانچہ چالیس دن بعد کشتی پر سوار لوگ اس قابل ہو گئے کہ کشتی سے اتر آئیں۔ مگر کشتی وہیں رہ گئی۔ اس سے جو کام لیا جانا منظور تھا وہ لیا جا چکا تھا۔ یہ مدت ہائے دراز تک وہیں پڑی رہی اور آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَقَدْتَّرَؔكْنٰهَاۤاٰیَةًفَهَلْمِنْمُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح علیہ السلام کے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكْنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو دی، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلْمِنْمُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولقد تركناها آيةً فهل من مُدَّكِرٍ}؛ أي: ولقد تركنا قصة نوح مع قومه آيةً يتذكَّر بها المتذكِّرون على أنَّ من عصى الرُّسل وعاندهم أهْلَكَه الله بعقابٍ عامٍّ شديدٍ، أو أنَّ الضمير يعود إلى السفينة وجنسها، وأنَّ أصل صنعتها تعليمٌ من الله لرسوله نوح عليه السلام، ثم أبقى الله صنعتها وجنسها بين الناس؛ ليدلَّ ذلك على رحمته بخلقه وعنايته وكمال قدرته وبديع صنعته. {فهل من مُدَّكِرٍ}؛ أي: فهل متذكِّر للآيات ملقٍ ذهنَه وفكرته لما يأتيه منها؛ فإنَّها في غاية البيان واليُسر؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔