تَجۡرِیۡ بِاَعۡیُنِنَا ۚ جَزَآءً لِّمَنۡ کَانَ کُفِرَ ﴿۱۴﴾
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیا گیا تھا۔
En
وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے
En
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 14) ➊ { تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا:} جب آسمان کے دروازے پانی کے ساتھ کھلنے اور زمین کے چشموں کے ساتھ پھٹ جانے سے زمین و آسمان کا پانی ایک ہو گیا تو اس پانی کی بلندی کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ اس کشتی میں بیٹھے ہوئے نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو کچھ معلوم نہیں کہ کدھر جانا ہے اور اسے موجوں سے کس طرح بچانا ہے، نہ کشتی پر یا پانی پر ان کا کوئی اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس وقت وہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس کے نگران و محافظ ہم تھے، پھر اسے کوئی گزند کیسے پہنچ سکتا تھا۔
➋ { جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ:} اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ یہ سب کچھ اس شخص کا بدلا لینے کی خاطر کیا گیا جس کا انکار کیا گیا اور اسے نبی تسلیم نہیں کیا گیا۔ {” كُفِرَ “} کا دوسرا معنی ناشکری اور ناقدر شناسی ہے، یعنی نوح علیہ السلام اس قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت تھے اور انھوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ یعنی اس شخص کا انتقام لینے کی خاطر جو ایک عظیم نعمت تھا مگر اس کی قدر نہیں پہچانی گئی۔
➋ { جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ:} اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ یہ سب کچھ اس شخص کا بدلا لینے کی خاطر کیا گیا جس کا انکار کیا گیا اور اسے نبی تسلیم نہیں کیا گیا۔ {” كُفِرَ “} کا دوسرا معنی ناشکری اور ناقدر شناسی ہے، یعنی نوح علیہ السلام اس قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت تھے اور انھوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ یعنی اس شخص کا انتقام لینے کی خاطر جو ایک عظیم نعمت تھا مگر اس کی قدر نہیں پہچانی گئی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ [14] یہ بدلہ اس شخص کی خاطر دیا گیا جس کا انکار [15] کیا گیا تھا۔
[14] طوفان میں کشتی کا منظر :۔
جوں جوں پانی کی سطح بلند ہوتی جاتی تھی یہ کشتی خود بخود اوپر اٹھتی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ پہاڑ تک پانی میں غرق ہو گئے۔ اس وقت سیدنا نوحؑ اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ ہم نے کس طرف کشتی کا رخ موڑنا ہے اور ہماری منزل کون سی ہے وہ بھی اللہ کے سہارے اس کشتی میں جانیں محفوظ کیے بیٹھے تھے اس کے علاوہ انہیں کچھ علم نہ تھا اور نیچے پانی کا سمندر بن گیا تھا۔ اللہ ہی اس کشتی کی حفاظت اور نگرانی فرما رہا تھا اور اس کے حکم سے یہ کشتی اپنا رخ بدلتی تھی۔
[15] اس سے مراد نوحؑ ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اگر کفر کا معنی کفران نعمت یا قدر نا شناسی لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ نوحؑ کی ذات ان کے درمیان اللہ کی ایک نعمت تھی جن کی وجہ سے عذاب رکا ہوا تھا اور نبی کی نا قدر شناسی کی وجہ سے ہی ان پر یہ عذاب آیا تھا۔
[15] اس سے مراد نوحؑ ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اگر کفر کا معنی کفران نعمت یا قدر نا شناسی لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ نوحؑ کی ذات ان کے درمیان اللہ کی ایک نعمت تھی جن کی وجہ سے عذاب رکا ہوا تھا اور نبی کی نا قدر شناسی کی وجہ سے ہی ان پر یہ عذاب آیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّ٘مَنْ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح علیہ السلام کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿ قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰ٘مٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَیْكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ (ھود:11؍48)”کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔“
اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ”کفر“ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{تجري بأعْيُنِنا}؛ أي: تجري بنوح ومَنْ آمن معه ومَنْ حمله مِن أصناف المخلوقات برعايةٍ من الله وحفظٍ منه لها عن الغرق ونظرٍ وكلاءةٍ منه تعالى، وهو نعم الحافظُ الوكيلُ، {جزاءً لِمَنْ كان كُفِرَ}؛ أي: فعلنا بنوح ما فعلنا من النَّجاة من الغرق العامِّ جزاءً له؛ حيث كذَّبه قومُه وكفروا به، فصبر على دعوتِهِم، واستمرَّ على أمر الله، فلم يردَّه عنه رادٌّ ولا صدَّه عن ذلك صادٌّ؛ كما قال تعالى في الآية الأخرى: {قيل يا نوحُ اهبطْ بسلام مِنَّا وبَرَكاتٍ عليك وعلى أمم مِمَّن معك ... } الآية. ويُحتمل أنَّ المراد أنَّا أهلَكنا قومَ نوح وفعلنا بهم ما فَعَلنا مِن العذاب والخزي جزاءً لهم على كفرِهم وعنادهم. وهذا متوجِّهٌ على قراءة من قرأها بفتح الكاف.