ترجمہ و تفسیر — سورۃ القمر (54) — آیت 14

تَجۡرِیۡ بِاَعۡیُنِنَا ۚ جَزَآءً لِّمَنۡ کَانَ کُفِرَ ﴿۱۴﴾
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیا گیا تھا۔ En
وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے
En
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) ➊ { تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا:} جب آسمان کے دروازے پانی کے ساتھ کھلنے اور زمین کے چشموں کے ساتھ پھٹ جانے سے زمین و آسمان کا پانی ایک ہو گیا تو اس پانی کی بلندی کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ اس کشتی میں بیٹھے ہوئے نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو کچھ معلوم نہیں کہ کدھر جانا ہے اور اسے موجوں سے کس طرح بچانا ہے، نہ کشتی پر یا پانی پر ان کا کوئی اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس وقت وہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس کے نگران و محافظ ہم تھے، پھر اسے کوئی گزند کیسے پہنچ سکتا تھا۔
➋ { جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ:} اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ یہ سب کچھ اس شخص کا بدلا لینے کی خاطر کیا گیا جس کا انکار کیا گیا اور اسے نبی تسلیم نہیں کیا گیا۔ { كُفِرَ } کا دوسرا معنی ناشکری اور ناقدر شناسی ہے، یعنی نوح علیہ السلام اس قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت تھے اور انھوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ یعنی اس شخص کا انتقام لینے کی خاطر جو ایک عظیم نعمت تھا مگر اس کی قدر نہیں پہچانی گئی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ [14] یہ بدلہ اس شخص کی خاطر دیا گیا جس کا انکار [15] کیا گیا تھا۔
[14] طوفان میں کشتی کا منظر :۔
جوں جوں پانی کی سطح بلند ہوتی جاتی تھی یہ کشتی خود بخود اوپر اٹھتی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ پہاڑ تک پانی میں غرق ہو گئے۔ اس وقت سیدنا نوحؑ اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ ہم نے کس طرف کشتی کا رخ موڑنا ہے اور ہماری منزل کون سی ہے وہ بھی اللہ کے سہارے اس کشتی میں جانیں محفوظ کیے بیٹھے تھے اس کے علاوہ انہیں کچھ علم نہ تھا اور نیچے پانی کا سمندر بن گیا تھا۔ اللہ ہی اس کشتی کی حفاظت اور نگرانی فرما رہا تھا اور اس کے حکم سے یہ کشتی اپنا رخ بدلتی تھی۔
[15] اس سے مراد نوحؑ ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اگر کفر کا معنی کفران نعمت یا قدر نا شناسی لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ نوحؑ کی ذات ان کے درمیان اللہ کی ایک نعمت تھی جن کی وجہ سے عذاب رکا ہوا تھا اور نبی کی نا قدر شناسی کی وجہ سے ہی ان پر یہ عذاب آیا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔