(آیت 30) ➊ {ذٰلِكَمَبْلَغُهُمْمِّنَالْعِلْمِ: ”مَبْلَغٌ“”بَلَغَيَبْلُغُ“} (ن) سے ظرف ہے، پہنچنے کی جگہ۔ {”ذٰلِكَ“} کا لفظ تحقیر کے لیے ہے کہ ان لوگوں کے علم کی پہنچ اور انتہا اس حقیر حیاتِ دنیا تک ہی ہے، جو آخرت کے مقابلے میں قلیل بھی ہے اور ناپائیدار بھی، اس سے آگے نہ انھیں کچھ علم ہے نہ وہ اس سے آگے جاننے یا سوچنے کے لیے تیار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک دعا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ آئے ہیں: [وَلاَتَجْعَلِالدُّنْيَاأَكْبَرَهَمِّنَاوَلاَمَبْلَغَعِلْمِنَا][ترمذي، الدعوات، باب دعاء { ”اللهم اقسم لنا…“ }: ۳۵۰۲، قال الألباني حسن]”اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنانا اور نہ اسے ہمارے علم کی انتہا بنانا۔“ ➋ {اِنَّرَبَّكَهُوَاَعْلَمُبِمَنْضَلَّعَنْسَبِيْلِهٖ …:} اس سے اللہ تعالیٰ کا کمال علم ثابت ہوتا ہے کہ اسے ان تمام لوگوں کا علم ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان کا بھی جو اس کی راہ پر قائم ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ ان کے علم کی پرواز بس یہیں تک [20] ہے۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ گم کئے ہوئے ہے اور کون ٹھیک راہ پر چل رہا ہے۔
[20] مشرکین مکہ کا مبلغ علم کیا تھا؟
یعنی وہ اپنے دنیا کے مفادات سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔ ان کا تمام تر علم اسی مقصد میں صرف ہوتا ہے کہ دنیا میں وہ زیادہ مال و دولت کیسے کما سکتے ہیں۔ پھر بھی اگر وہ سمجھیں کہ وہی راہ حق پر ہیں تو یہ فیصلہ نہ ان کے اختیار میں ہے اور نہ ان کی صواب دید پر منحصر ہے بلکہ یہ فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے کیونکہ کائنات کی ہر چیز کو اس نے پیدا کیا ہے اور وہی اپنی مخلوق کے حالات کو سب سے بہتر جان سکتا ہے لہٰذا آپ کو ان سے بحث و تکرار میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، نہ ہی انہیں راہ راست پر لا کر چھوڑنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔