(آیت 29){ فَاَعْرِضْعَنْمَّنْتَوَلّٰىعَنْذِكْرِنَا …:} یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ {”فَأَعْرِضْعَنْهُمْ“} (سو ان سے منہ پھیر لے) یہ فرمایا: «فَاَعْرِضْعَنْمَّنْتَوَلّٰىعَنْذِكْرِنَا» (سو اس سے منہ پھیر لے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا) تاکہ ان مشرکین سے اعراض کی وجہ بھی سامنے آ جائے کہ جو شخص ہماری وحی کے ذریعے سے آنے والی نصیحت کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار ہی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اس نے کچھ چاہا ہی نہیں ہے،آپ بھی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور نہ ہی اس کی خاطر وقت ضائع کریں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ لہٰذا جو شخص ہماری یاد سے [19] منہ موڑتا ہے آپ اس کی پروا نہ کیجئے، ایسا شخص دنیا کی زندگی کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا
[19] ذکر سے مراد قرآن کریم بھی ہو سکتا ہے اور معبود ان باطل کے مقابلہ میں خالص اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعوت حق اور وعظ و نصیحت بھی یعنی جو شخص میرا ذکر سننا گوارا ہی نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔ ایسے لوگوں کا منتہائے مقصود صرف دنیوی مفادات ہی ہوتے ہیں جبکہ یہ تعلیم اخروی فلاح کی طرف بلاتی ہے۔ جس پر نہ ان کا ایمان ہے اور نہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ لہٰذا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی طرف کیوں توجہ دیں گے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔