(آیت 22){ تِلْكَاِذًاقِسْمَةٌضِيْزٰى: ”ضِيْزٰى“”ضَازَيَضِيْزُضَيْزًا“} (ض) سے {”فُعْلٰي“} (فاء کے ضمہ کے ساتھ) کے وزن پر ہے جو {”أَفْعَلُ“} (اسم تفضیل) کی مؤنث ہے۔ اس کا معنی {”شَدِيْدُالضِّيْزِ“} (سخت ناانصافی والی) ہے۔ ”ضاد“ کے ضمہ کو ”یاء“ کی موافقت کے لیے کسرہ سے بدل دیا گیا۔ یعنی ایک تو اللہ کے لیے اولاد بتانا، پھر اپنے لیے لڑکے اور اللہ تعالیٰ کے لیے لڑکیاں پسند کرنا، یہ تو بہت ہی سخت ناانصافی کی تقسیم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 ضِیْزیٰ، حق و صواب سے ہٹی ہوئی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم [13] ہے
[13] گویا مشرکین عرب دوہرا ظلم ڈھاتے تھے۔ ایک تو اللہ کی اولاد قرار دیتے تھے اور انہیں اللہ کا شریک سمجھتے تھے۔ دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے جبکہ اپنے لیے وہ بیٹیوں کو قطعاً پسند نہ کرتے۔ بلکہ انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔