ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 12

اَفَتُمٰرُوۡنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی ﴿۱۲﴾
پھر کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو وہ دیکھتا ہے۔ En
کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟
En
کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ {اَفَتُمٰرُوْنَهٗ: تُمَارُوْنَ مَارٰي يُمَارِيْ مِرَاءً وَ مُمَارَاةً} (مفاعلہ) سے فعل مضارع معلوم جمع مذکر حاضر ہے، جھگڑا کرنا۔ یہ مشرکین مکہ سے خطاب ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ میرے پاس کوئی شیطان نہیں بلکہ جبریل فرشتہ آتا ہے اور میں اسے دیکھتا ہوں، اس کی اصل صورت میں بھی میں نے اسے دیکھا ہے تو انھوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور جھگڑنے لگے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اپنے صاحب کو خود صادق و امین تسلیم کرتے ہو، جب وہ تم سے کہتا ہے کہ اس کے پاس جبریل فرشتہ آتا ہے اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو تم اس سے جھگڑنے لگتے ہو، آخر تمھارے پاس اسے جھٹلانے اور اس پر جھگڑا کرنے کی کیا دلیل ہے؟
{إِذَا لَمْ تَرَ الْهِلَالَ فَسَلِّمْ
لِأُنَاسٍ رَأَوْهُ بِالْأَبْصَارِ}
جب تمھیں چاند نظر نہیں آیا تو ان لوگوں کی بات مان لو جنھوں نے اسے آنکھوں سے دیکھا ہے۔
➋ { عَلٰى مَا يَرٰى:} واضح رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ {أَفَتُمَارُوْنَهُ عَلٰي مَا رَأَي} پھر کیا تم اس سے اس پر جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھا بلکہ فرمایا: «‏‏‏‏اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا يَرٰى» ‏‏‏‏ پھر کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو وہ دیکھتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس بات کو وہ جھٹلاتے تھے وہ یہ تھی کہ میں جبریل فرشتے کو دیکھتا ہوں جب وہ میرے پاس آتا ہے اور حقیقت بھی یہی تھی کہ پہلی دفعہ جب جبریل علیہ السلام غارِ حرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اگرچہ اصل صورت میں نہ تھے، مگر بعد میں جب وہ اپنی اصل صورت میں اس شان سے سامنے آئے کہ زمین سے آسمان تک اور دائیں سے بائیں تک پورا اُفق ان سے بھرا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً پہچان گئے کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۶ تا ۹) کے آخری فائدہ میں مذکور حدیث۔ اس سے ظاہر ہے کہ جبریل علیہ السلام کے آنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں پہچان لیتے تھے، خواہ کسی حالت میں آئیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اب کیا تم اس بات میں جھگڑا کرتے ہو جو اس نے آنکھوں [8] سے دیکھا ہے۔
[8] اس کے مخاطب قریش مکہ ہیں اور انہیں کہا یہ جا رہا ہے کہ تم اپنے رفیق (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خود سچا اور راست باز انسان تسلیم کرتے ہو۔ اور وہ اپنے ذاتی اور عینی مشاہدہ کی بنا پر تم سے ایک بات کہتا ہے جو اسے دن کی روشنی میں اور عالم بیداری میں پیش آئی۔ پھر تم اس کی بات کا انکار کرتے۔ اور اس سے جھگڑا کرتے ہو تو آخر تمہارے پاس اس کو جھٹلانے اور اس پر جھگڑا کرنے کے لیے کیا دلیل ہے؟ واضح رہے کہ اس بارے میں صحابہ میں بھی اختلاف تھا کہ آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبریل کو دیکھا تھا یا اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا تو اس کے متعلق صحابہ کی اکثریت کا یہ قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا تھا۔ لے دے کے ایک سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا مگر وہ بھی اس بات کی پابندی لگاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو ان ظاہری آنکھوں سے نہیں بلکہ دل یا دل کی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
1۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل کو دیکھا تھا یا اللہ کو؟ مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”امی! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”تیری اس بات پر تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ تین باتیں کیا تو سمجھ نہیں سکتا جو شخص تجھ سے وہ بیان کرے وہ جھوٹا ہے۔ جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا تھا اس نے جھوٹ بولا پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ اور جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل کو ہونے والی بات جانتے تھے اس نے بھی جھوٹ بولا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ اور جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے کچھ چھپا رکھا وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو ان کی اصلی صورت میں دو بار دیکھا تھا۔ [بخاري، كتاب التفسير]
2۔ شعبی کہتے ہیں کہ عرفات میں کعب کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی اور ان سے کوئی بات پوچھی۔ پھر کعب نے اتنے زور سے اللہ اکبر کہا کہ پہاڑ گونج اٹھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:”ہم بنو ہاشم ہیں (یعنی ہم پر اتنا غصہ نہ کیجئے)“ کعبؓ کہنے لگے کہ ”اللہ تعالیٰ نے اپنے دیدار اور کلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰؑ میں تقسیم کیا۔ موسیٰؑ نے اللہ سے دو بار کلام کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار اللہ کو دیکھا“ مسروق کہتے ہیں کہ پھر میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر پوچھا کہ: ”کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا کہ: ”تم نے ایسی بات کہی جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے“ میں نے کہا:”ذرا سوچ لیجئے“ پھر میں نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَقَد رَايٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰي سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مجھے کہنے لگیں: تیری عقل کہاں گئی وہ تو جبریل تھے جو شخص تجھے یہ بتائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا کچھ حصہ چھپایا جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا یا وہ پانچ باتیں جانتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت ﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ [34:31] میں بتائیں۔ اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو اس کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا۔ ایک دفعہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک دفعہ (مکہ کے محلہ) جیاد میں، اس کے چھ سو پر تھے اور اس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰي اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل (کی آنکھ) سے دیکھا تھا۔ [حواله ايضاً]
3۔ سیدنا ابوذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”وہ تو نور ہے میں اسے کہاں سے دیکھ سکتا ہوں“ [حواله ايضاً]
اور میرے خیال کے مطابق سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس پابندی کے بعد وجہ اختلاف از خود ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن میں جس بات کی صراحت ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں ان ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔ اور عالم آخرت میں اہل جنت کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا صراحت کے ساتھ احادیث صحیحہ میں مذکور ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔