ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 13

وَ لَقَدۡ رَاٰہُ نَزۡلَۃً اُخۡرٰی ﴿ۙ۱۳﴾
حالانکہ بلاشبہ یقینا اس نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ En
اور انہوں نے اس کو ایک بار بھی دیکھا ہے
En
اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) {وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى:} لام اور {قَدْ} کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کا فائدہ دیتی ہے۔ مشرکین کے انکار کی وجہ سے اتنی تاکید کے ساتھ بات کی ہے۔ یعنی تم زمین پر اس کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا انکار کرتے ہو، قسم ہے کہ اس نے تو اسے ایک اور بار آسمانوں کے اوپر بھی اس کی اصل صورت میں اترتے ہوئے دیکھا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور ایک مرتبہ اور بھی اس نے اس (جبریل) کو

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰؔى یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دوسری دفعہ اپنی طرف اترتے ہوئے دیکھا ﴿ عِنْدَ سِدْرَةِ الْ٘مُنْ٘تَهٰى سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان پر بیری کا بہت بڑا درخت ہے اور اسے سدرۃ المنتہیٰ اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جو چیز اوپر کی طرف عروج کرتی ہے، اس کے پاس آ کر رک جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی وغیرہ نازل ہوتی ہے یہاں آ کر ٹھہر جاتی ہے۔ یا اس بنا پر اسے سدرۃ المنتہیٰ کہا جاتا ہے کہ یہ مخلوقات کے علم کی انتہائی حد ہے۔ نیز اس نام سے موسوم کیے جانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے اوپر واقع ہے اور سدرۃ المنتہیٰ اس کی بلندی کی انتہا ہے، اس کے علاوہ بھی کوئی سبب ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
چنانچہ اس مقام پر جو پاک، خوبصورت اور بلند مرتبہ ارواح کا مقام ہے، جہاں شیطان اور دیگر ارواح خبیثہ نہیں ٹھہر سکتیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ولقد رآه نزلةً أخرى}؛ أي: رأى محمدٌ جبريل مرةً أخرى نازلاً إليه، {عند سِدْرَةِ المُنتَهى}: وهي شجرةٌ عظيمةٌ جدًّا فوق السماء السابعة، سميت سدرةَ المنتهى؛ لأنَّه ينتهي إليها ما يعرج من الأرض، وينزل إليها ما ينزل من الله من الوحي وغيره، أو لانتهاء علم المخلوقات إليها؛ أي: لكونها فوق السماواتِ والأرض؛ فهي المنتهى في علومها، أو لغير ذلك. والله أعلم. فرأى محمد - صلى الله عليه وسلم - جبريلَ في ذلك المكان الذي هو محلُّ الأرواح العلويَّة الزاكية الجميلة التي لا يقربها شيطانٌ ولا غيره من الأرواح الخبيثة.