ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 11

مَا کَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾
دل نے جھوٹ نہیں بولا جو اس نے دیکھا۔ En
جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ مانا
En
دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے (پیغمبر نے) دیکھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) ➊ {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى: كَذَبَ } کو سبعہ قراء ات میں دو طرح پڑھا گیا ہے۔ چنانچہ ابن عامر نے اسے ذال کی تشدید کے ساتھ {كَذَّبَ} پڑھا ہے، جھٹلایا۔ اس وقت معنی ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں سے جو کچھ دیکھا دل نے اسے نہیں جھٹلایا، بلکہ اس کی تصدیق کی۔ دوسرے قراء نے ذال کو تشدید کے بغیر{ كَذَبَ } پڑھا ہے، جھوٹ کہا۔ یعنی دل نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا، بلکہ سچ کہا کہ اس نے جبریل کو دیکھا ہے، جیسے آنکھوں نے دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا۔ جبریل علیہ السلام کو دیکھنے میں آنکھیں اور دل دونوں شریک تھے۔ شیخ عبدالرحمن السعدی تیسیر الرحمن میں لکھتے ہیں: {أَيْ اِتَّفَقَ فُؤَادُ الرَّسُوْلِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ رُؤْيَتُهُ عَلَي الْوَحْيِ الَّذِيْ أَوْحَاهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ وَ تَوَاطَأَ عَلَيْهِ سَمْعُهُ وَ قَلْبُهُ وَ بَصَرُهُ} یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل اور آپ کی رؤیت نے اس وحی پر اتفاق کیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف کی اور اس پر آپ کے کان، آنکھیں اور دل متفق ہو گئے۔ سید امیر علی ملیح آبادی مواہب الرحمن میں اس جملے کی تفسیر کے آخر میں لکھتے ہیں: بالجملہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا اس میں فواد اور آنکھ دونوں متفق و صادق ہیں۔ بعض مفسرین نے { كَذَبَ } (تشدید کے بغیر) کا معنی جھٹلایا کیا ہے، جبکہ یہ {كَذَّبَ} (تشدیدِ ذال کے ساتھ) کا معنی ہے، { كَذَبَ } (بلا تشدید) کا نہیں۔
➋ جو کچھ آنکھ نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، دن کی روشنی میں دیکھا تاریکی میں نہیں دیکھا، جاگتے ہوئے دیکھا نیند یا نیم خوابی یا اونگھ کی حالت میں نہیں دیکھا، دل نے بھی دیکھنے میں آنکھوں کی موافقت کی اور کہہ دیا کہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جبریل فرشتے ہی کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتا ہے اور مسئلے میں کوئی شک و شبہ نہ رہا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل ؑ کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ جو کچھ اس نے آنکھ [7] سے دیکھا تھا دل نے اسے جھوٹ نہیں سمجھا۔
[7] جو کچھ آنکھ نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس نے جبریل کو اپنی اصلی شکل میں دیکھا۔ دن کی روشنی میں دیکھا، تاریکی میں نہیں دیکھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم بیداری میں دیکھا، نیند یا نیم خوابی یا اونگھ کی حالت میں نہیں دیکھا۔ لہٰذا دل نے پورے وثوق سے اس بات کی تائید کر دی کہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جبریل فرشتہ کو ہی دیکھا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتا ہے اور اس مسئلہ میں کوئی شک و شبہ نہ رہا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى اس (رسول) نے جو کچھ دیکھا، اس کے دل نے (اس کے متعلق) جھوٹ نہیں بولا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جو بھیجی، اس پر آپ کا قلب مبارک اور آپ کی رؤ یت، آپ کی سماعت اور آپ کی بصارت متفق تھے۔ یہ اس وحی کے کامل ہونے کی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بھیجی، نیز یہ اس بات کی دليل ہے کہ آپ نے وحی کو اس طرح حاصل کیا کہ اس میں کوئی شک شبہ نہ تھا۔ آپ کی آنکھ مبارک نے جو کچھ دیکھا، آپ کے قلب مقدس نے اس کو نہیں جھٹلایا اور نہ اس میں کوئی شک ہی کیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ بڑی بڑی آیات الٰہی ہوں جو اس رات آپ کو دکھائی گئیں جس رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا، آپ کو اپنے قلب مبارک اور رؤ یت کے ساتھ، اس کے حق ہونے کا یقین تھا، آیت کریمہ کی یہی تفسیر صحیح ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب کا دیدار اور اس کے ساتھ ہم کلام ہونا ہے، اسے بہت سے علمائے کرام نے اختیار کیا ہے، پھر وہ اسی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دنیا میں دیدار الٰہی کو ثابت کرتے ہیں۔ مگر پہلا قول صحیح ہے کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں جیسا کہ آیات کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے۔ نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو اپنی اصلی شکل میں دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ آسمان دنیا کے نیچے افق اعلیٰ میں جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اور دوسری دفعہ ساتویں آسمان کے اوپر جس رات آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ما كَذَبَ الفؤادُ ما رأى}؛ أي: اتَّفق فؤادُ الرسول - صلى الله عليه وسلم - ورؤيته على الوحي الذي أوحاه الله إليه، وتواطأ عليه سمعُه وبصرُه وقلبُه ، وهذا دليلٌ على كمال الوحي الذي أوحاه الله إليه، وأنَّه تلقَّاه منه تلقِّياً لا شكَّ فيه ولا شبهة ولا ريبَ، فلم يكذِبْ فؤادُه ما رأى بَصَرُه، ولم يشكَّ في ذلك.

ويُحتمل أنَّ المراد بذلك ما رأى - صلى الله عليه وسلم - ليلة أسْرِيَ به من آيات الله العظيمة، وأنَّه تيقَّنه حقًّا بقلبه ورؤيته، هذا هو الصحيحُ في تأويل الآية الكريمة. وقيل: إنَّ المرادَ بذلك رؤيةُ الرسول - صلى الله عليه وسلم - لربِّه ليلة الإسراء وتكليمه إيَّاه. وهذا اختيار كثيرٍ من العلماء رحمهم الله، فأثبتوا بهذا رؤية الرسول - صلى الله عليه وسلم - لربِّه في الدنيا.

ولكنَّ الصحيح القول الأول، وأنَّ المراد به جبريل عليه السلام؛ كما يدلُّ عليه السياق، وأنَّ محمداً - صلى الله عليه وسلم - رأى جبريل في صورته الأصليَّة التي هو عليها مرتين : مرةً في الأفق الأعلى تحت السماء الدُّنيا كما تقدَّم، والمرة الثانية فوق السماء السابعة ليلة أسْرِيَ برسول الله - صلى الله عليه وسلم -.