ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 9

یَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا ۙ﴿۹﴾
جس دن آسمان لرزے گا، سخت لرزنا۔ En
جس دن آسمان لرزنے لگا کپکپا کر
En
جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) {يَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا: مَارَ يَمُوْرُ مَوْرًا} (ن) کسی چیز کا تیزی سے حرکت کرنا اور آگے پیچھے اور دائیں بائیں زور سے ہلنا، الٹ پلٹ ہونا، چکر کھانا۔ { مَوْرًا } مصدر تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ سخت لرزنا کیا گیا ہے۔ { يَوْمَ لَوَاقِعٌ } کا ظرف ہے، یعنی تیرے رب کا عذاب اس دن واقع ہونے والا ہے جب آسمان میں سخت لرزہ پیدا ہو گا اور وہ نہایت تیزی سے چکر کھائے گا اور آخر کار پھٹ جائے گا۔ قیامت کے دن آسمان پر گزرنے والے احوال کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان(۲۵)، رحمن(۳۷)، حاقہ(۱۶)، معارج(۸)، مزمل(۱۸)، مرسلات(۹)، نبا(۱۹)، تکویر(۱۱)، انفطار(۱)، انشقاق(۱)، ابراہیم(۴۸)، انبیاء(۱۰۴) اور سورۂ زمر(۶۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 مور کے معنی ہیں حرکت و اضطراب، قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور ستارے و سیاروں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔ یعنی عذاب اس روز واقع ہوگا جب آسمان تھر تھرائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ جس دن آسمان تیزی سے لرزنے [7] لگے گا
[7] مور کا لغوی مفہوم :۔
تمور۔ مار میں بنیادی تصور حرکت اور تیز رفتاری ہے ﴿النَّاقَة تَمُوْرُ فِي سَيْرِهَا بمعنی اونٹنی کا تیز رفتاری کی وجہ سے غبار اڑاتے چلے جانا (مفردات) اور مور بمعنی غبار بن کر ہوا میں اڑنا (فقہ اللغۃ) اور ﴿مارَالشَّي بمعنی کسی چیز کا تیز رفتاری کی وجہ سے آگے پیچھے ہلنا، لرزنا اور توازن کھو دینا (منجد) گویا اس دن آسمان کے انجر پنجر ہل جائیں گے وہ کانپنے، لرزنے، ہچکولے کھانے، ڈگمگانے اور با لآخر ذرات کی شکل میں تبدیل ہو کر اڑنے لگے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔