(آیت 5) {وَالسَّقْفِالْمَرْفُوْعِ:} اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لیے چھت کی طرح ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَجَعَلْنَاالسَّمَآءَسَقْفًامَّحْفُوْظًاوَّهُمْعَنْاٰيٰتِهَامُعْرِضُوْنَ» [الأنبیاء: ۳۲]”اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ “ جسے اللہ تعالیٰ نے اتنی بلندی پر کسی ستون کے بغیر محض اپنے حکم کے ساتھ تھام کر رکھا ہوا ہے، فرمایا: «اَللّٰهُالَّذِيْرَفَعَالسَّمٰوٰتِبِغَيْرِعَمَدٍتَرَوْنَهَا» [الرعد: ۲]”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے، جنھیں تم دیکھتے ہو۔“ اور فرمایا: «وَيُمْسِكُالسَّمَآءَاَنْتَقَعَعَلَىالْاَرْضِاِلَّابِاِذْنِهٖ»[الحج: ۶۵]”اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے اس سے کہ زمین پر گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔“ پھر اس بلند چھت کو سورج، چاند اور ستاروں کے ساتھ سجا رکھا ہے، فرمایا: «وَلَقَدْزَيَّنَّاالسَّمَآءَالدُّنْيَابِمَصَابِيْحَ» [الملک: ۵]”اور بلاشبہ یقینا ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی۔“ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر آسمان کے پیدا کرنے کو انسان کی دوبارہ پیدائش کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے، فرمایا: «ءَاَنْتُمْاَشَدُّخَلْقًااَمِالسَّمَآءُبَنٰىهَا (27) رَفَعَسَمْكَهَافَسَوّٰىهَا (28) وَاَغْطَشَلَيْلَهَاوَاَخْرَجَضُحٰىهَا» [النازعات: ۲۷ تا ۲۹]”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔ اور اس کی رات کو تاریک کر دیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کر دیا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے بمنزلہ چھت کے ہے۔ قرآن نے دوسرے مقام پر اسے ' محفوظ چھت ' کہا ہے، بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لئے چھت ہے۔ (وَجَعَلْنَاالسَّمَاۗءَسَقْفًامَّحْفُوْظًا) 21۔ الانبیاء:32)۔ بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ اور اونچی [4] چھت کی
[4] اس سے مراد وہ نیلگوں آسمان ہے جو ہمیں اپنے سروں پر قبہ کی طرح چھایا ہوا نظر آتا ہے نیز اس سے پورے کا پورا عالم بالا بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالسَّقْفِالْ٘مَرْفُوْعِ﴾”اور اونچی چھت کی (قسم)۔“ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والسقفِ المرفوع}؛ أي: السماء التي جعلها الله سقفاً للمخلوقات وبناءً للأرض تستمدُّ منها أنوارها، ويُقتدى بعلاماتها ومنارها، ويُنْزِلُ اللهُ منها المطر والرحمة وأنواع الرزق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔