ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 4

وَّ الۡبَیۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ ۙ﴿۴﴾
اور آباد گھر کی! En
اور آباد گھر کی
En
اورآباد گھر کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){ وَ الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ:} آباد گھر۔ اس کے متعلق بھی مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے فرمایا، اس سے مراد حدیث میں مذکور ساتویں آسمان پر موجود ایک مکان ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيْلُ فَقِيْلَ مَنْ هٰذَا؟ قَالَ جِبْرِيْلُ، قِيْلَ وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيْلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيْمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَی الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُوْدُوْنَ إِلَيْهِ] [مسلم، الإیمان، باب الإسراء برسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی السمٰوات…: ۱۶۲] پھر ہمارے ساتھ ساتویں آسمان کی طرف چڑھے تو جبریل نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، کہا گیا: کون ہے؟ کہا: جبریل ہوں۔ کہا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں، پیغام بھیجا گیا ہے۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میں نے ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اپنی پیٹھ کی ٹیک بیت المعمور (آباد گھر) کے ساتھ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس گھر میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، (اور جو ایک دفعہ داخل ہو جاتے ہیں وہ) پھر دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے۔
بعض مفسرین نے فرمایا اس سے مراد کعبہ ہے جو ہر وقت عمرہ، حج، قیام اور طواف کرنے والوں کے ساتھ آباد رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ { الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ } کے لفظ میں ان دونوں عظیم الشان گھروں کے علاوہ ہر آباد گھر بھی شامل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت کا کھلا نشان ہے کہ اس نے زمین کے ہر حصے کو آباد کر دیا ہے۔ شہروں، بستیوں، میدانوں، صحراؤں، پہاڑوں، سمندروں غرض زمین کے جس حصے کو دیکھو وہیں آبادی نظر آئے گی۔ حتیٰ کہ قطب شمالی، جہاں ہر طرف برف ہی برف ہے، وہاں بھی آبادی ملے گی۔ یعنی یہ آباد گھر (زمین) شاہد ہے کہ جس نے ابتداءً اتنی آبادی پھیلا دی ہے جب کچھ بھی نہیں تھا، تو وہ انھیں دوبارہ زندہ کر کے مجرموں کو عذاب دے سکتا ہے اور یقینا دے گا، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو انسان کو پیدا کرنا بے مقصد ٹھہرتا ہے، جبکہ ایسا نہیں، فرمایا: «‏‏‏‏اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى» [القیامۃ: ۳۶] کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یہ بیت معمور، ساتویں آسمان پر وہ عبادت خانہ ہے جس میں فرشتے عبادت کرتے ہیں، یہ عبادت خانہ فرشتوں سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے آتے ہیں جن کی پھر دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی۔ جیسا کہ احادیث معراج میں بیان کیا گیا۔ بعض بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیتے ہیں۔ جو عبادت کے لیے آنے والے انسانوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے معمور کے معنی ہی آباد اور بھرے ہوئے کے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور بیت المعمور [3] کی قسم
[3] بیت المعمور کونسا گھر ہے؟
یعنی ہر وقت آباد رہنے والا گھر۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ جو ہر وقت حج و عمرہ اور طواف اور عبادت کرنے والوں سے بھرا رہتا ہے اور کبھی خالی نہیں ہوتا۔ نیز اس سے مراد ساتویں آسمان پر فرشتوں کی وہ عبادت گاہ بھی ہے جو خانہ کعبہ کے عین سیدھ میں واقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں جب آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کو اسی گھر کی دیوار سے ٹیک لگائے دیکھا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّالْبَیْتِ الْ٘مَعْمُوْرِ اور بیت معمور کی (قسم)۔ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ بیت معمور سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے: ﴿ وَهٰؔذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ(التین 95؍3) اور اس امن والے شہر کی قسم۔ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والبيت المعمورِ}: وهو البيتُ الذي فوق السماء السابعة، المعمور مدى الأوقات بالملائكة الكرام، [الذي] يدخُله كلُّ يوم سبعون ألف مَلَك، يتعبَّدون فيه لربِّهم، ثمَّ لا يعودون إليه إلى يوم القيامةِ، وقيل: إنَّ البيت المعمور هو بيت الله الحرام المعمور بالطائفين والمصلِّين والذَّاكرين كلَّ وقت وبالوفود إليه بالحجِّ والعمرة؛ كما أقسم الله به في قوله: {وهذا البلدِ الأمين}، وحقيقٌ ببيت هو أفضل بيوت الأرض، الذي يَقْصِدُه الناس بالحجِّ والعمرة، أحد أركان الإسلام ومبانيه العظام، التي لا يتمُّ إلاَّ بها، وهو الذي بناه إبراهيمُ وإسماعيلُ، وجعله الله مثابةً للناس وأمناً؛ أنْ يُقْسِمَ الله به، ويبيِّن من عظمته ما هو اللائقُ به وبحرمته.