(آیت 4){ وَالْبَيْتِالْمَعْمُوْرِ:} آباد گھر۔ اس کے متعلق بھی مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے فرمایا، اس سے مراد حدیث میں مذکور ساتویں آسمان پر موجود ایک مکان ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [ثُمَّعَرَجَبِنَاإِلَیالسَّمَاءِالسَّابِعَةِفَاسْتَفْتَحَجِبْرِيْلُفَقِيْلَمَنْهٰذَا؟قَالَجِبْرِيْلُ،قِيْلَوَمَنْمَعَكَ؟قَالَمُحَمَّدٌصَلَّیاللّٰهُعَلَيْهِوَسَلَّمَ،قِيْلَوَقَدْبُعِثَإِلَيْهِ؟قَالَقَدْبُعِثَإِلَيْهِ،فَفُتِحَلَنَافَإِذَاأَنَابِإِبْرَاهِيْمَصَلَّیاللّٰهُعَلَيْهِوَسَلَّمَمُسْنِدًاظَهْرَهُإِلَیالْبَيْتِالْمَعْمُوْرِوَإِذَاهُوَيَدْخُلُهُكُلَّيَوْمٍسَبْعُوْنَأَلْفَمَلَكٍلَايَعُوْدُوْنَإِلَيْهِ][مسلم، الإیمان، باب الإسراء برسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی السمٰوات…: ۱۶۲]”پھر ہمارے ساتھ ساتویں آسمان کی طرف چڑھے تو جبریل نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، کہا گیا: ”کون ہے؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”اور آپ کے ساتھ کون ہے؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟“ کہا: ”ہاں، پیغام بھیجا گیا ہے۔“ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میں نے ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اپنی پیٹھ کی ٹیک بیت المعمور (آباد گھر) کے ساتھ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس گھر میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، (اور جو ایک دفعہ داخل ہو جاتے ہیں وہ) پھر دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے۔ “ بعض مفسرین نے فرمایا اس سے مراد کعبہ ہے جو ہر وقت عمرہ، حج، قیام اور طواف کرنے والوں کے ساتھ آباد رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ {”الْبَيْتِالْمَعْمُوْرِ“} کے لفظ میں ان دونوں عظیم الشان گھروں کے علاوہ ہر آباد گھر بھی شامل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت کا کھلا نشان ہے کہ اس نے زمین کے ہر حصے کو آباد کر دیا ہے۔ شہروں، بستیوں، میدانوں، صحراؤں، پہاڑوں، سمندروں غرض زمین کے جس حصے کو دیکھو وہیں آبادی نظر آئے گی۔ حتیٰ کہ قطب شمالی، جہاں ہر طرف برف ہی برف ہے، وہاں بھی آبادی ملے گی۔ یعنی یہ آباد گھر (زمین) شاہد ہے کہ جس نے ابتداءً اتنی آبادی پھیلا دی ہے جب کچھ بھی نہیں تھا، تو وہ انھیں دوبارہ زندہ کر کے مجرموں کو عذاب دے سکتا ہے اور یقینا دے گا، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو انسان کو پیدا کرنا بے مقصد ٹھہرتا ہے، جبکہ ایسا نہیں، فرمایا: «اَيَحْسَبُالْاِنْسَانُاَنْيُّتْرَكَسُدًى»[القیامۃ: ۳۶]”کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا؟“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یہ بیت معمور، ساتویں آسمان پر وہ عبادت خانہ ہے جس میں فرشتے عبادت کرتے ہیں، یہ عبادت خانہ فرشتوں سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے آتے ہیں جن کی پھر دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی۔ جیسا کہ احادیث معراج میں بیان کیا گیا۔ بعض بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیتے ہیں۔ جو عبادت کے لیے آنے والے انسانوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے معمور کے معنی ہی آباد اور بھرے ہوئے کے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور بیت المعمور [3] کی قسم
[3] بیت المعمور کونسا گھر ہے؟
یعنی ہر وقت آباد رہنے والا گھر۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ جو ہر وقت حج و عمرہ اور طواف اور عبادت کرنے والوں سے بھرا رہتا ہے اور کبھی خالی نہیں ہوتا۔ نیز اس سے مراد ساتویں آسمان پر فرشتوں کی وہ عبادت گاہ بھی ہے جو خانہ کعبہ کے عین سیدھ میں واقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں جب آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کو اسی گھر کی دیوار سے ٹیک لگائے دیکھا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔