(آیت 28) ➊ { اِنَّاكُنَّامِنْقَبْلُنَدْعُوْهُ:} یعنی ہم اس سے پہلے دنیا میں ڈرتے تھے، مگر ڈرنے کے باوجود اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوئے، بلکہ اپنی امیدیں اسی سے وابستہ رکھیں۔ اس لیے اسی کو پکارتے رہے، اسی سے دعا کرتے رہے اور اسی سے جنت میں داخلے اور جہنم سے پناہ کی درخواست کرتے رہے۔ ➋ { اِنَّهٗهُوَالْبَرُّالرَّحِيْمُ: ”إِنَّ“} تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی اس نے ہماری خطائیں معاف فرمائیں، ہمیں جہنم کی زہریلی لو سے بچایا، ہمیں جنت کی نعمتیں عطا کیں اور ہمارے پیاروں کو ہمارے ساتھ یکجا کر دیا، اس لیے کہ وہی ہے جو بے حد احسان کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے، ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ محض اسی کے احسان اور رحم کا نتیجہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 یعنی صرف اسی ایک کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، یا یہ مطلب ہے کہ اس سے عذاب جہنم سے بچنے کے لیے دعا کرتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ ہم اس سے پہلے (دنیا میں) اسی کو پکارا [22] کرتے تھے۔ بلا شبہ وہ بڑا احسان کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
[22] یعنی ہم دنیا میں اللہ سے ڈرتے بھی رہتے تھے اور ساتھ ہی اللہ سے دعائیں بھی مانگا کرتے تھے کہ اے پروردگار! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے رکھنا۔ سو اللہ نے ہماری دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ہمیں اس عذاب سے بچا لیا اور یہ جنت اور اس کی نعمتیں جو عطا فرمائی ہیں تو یہ اس کا خاص احسان اور اس کی مہربانی ہے کہ ہمیں ہمارے اعمال اور دعاؤں سے بڑھ کر ثواب عطا کیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔