ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 29

فَذَکِّرۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّ لَا مَجۡنُوۡنٍ ﴿ؕ۲۹﴾
پس نصیحت کر، کیونکہ تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔ En
تو (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے
En
تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ {فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍ:} كاہن وہ شخص جو شیاطین سے تعلق رکھتا ہے اور ان سے سن کر غیب کی خبریں دیتا ہے، جن میں ایک آدھ وہ سچی خبر بھی ہوتی ہے جو انھوں نے آسمان کے نیچے فرشتوں کی باہمی گفتگو سے چُرائی ہوتی ہے، پھر اس کے ساتھ سو باتیں جھوٹی ملا کر اپنے دوستوں کو بتاتے ہیں۔
➋ سورت کے شروع سے قیامت، جزا و سزا اور جنت و جہنم کی تفصیل اور دلائل ذکر کرنے کے بعد فرمایا: { فَذَكِّرْ } (پس نصیحت کر) یعنی جب ہم نے یہ سب کچھ آپ کو وحی کے ذریعے سے بتا دیا تو اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ساتھ تمام لوگوں کو نصیحت کریں اور کفار و مشرکین کی بے ہودہ باتوں اور تہمتوں کی پروا نہ کریں۔ وہ آپ کو کاہن کہیں یا مجنون، آپ اللہ کے فضل سے کسی طرح بھی نہ کاہن ہیں نہ مجنون۔ کہانت یا دیوانگی کی کوئی بھی بات آپ میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ { فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ } میں {مَا } نافیہ کے بعد باء نفی کی تاکید کے لیے ہے اور { بِكَاهِنٍ } پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔
➌ اللہ تعالیٰ نے اور مقامات پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہانت اور جنون کی نفی فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۴۱، ۴۲)، قلم (۲) اور سورۂ تکویر (۲۲)۔ سورۂ شعراء میں یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاہن نہیں اور یہ کہ کاہن کس طرح کے لوگ ہوتے ہیں، تفصیل سے گزر چکی ہے، دیکھیے سورۂ شعراء کی آیات (۲۱۰ تا ۲۲۳) اور ان کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ وعظ و تبلیغ اور نصیحت کا کام کرتے رہیں اور یہ آپ کی بابت جو کچھ کہتے رہتے ہیں، ان کی طرف کان نہ دھریں، اس لئے کہ آپ اللہ کے فضل سے کاہن ہیں نہ دیوانہ (جیسا کہ یہ کہتے ہیں) بلکہ آپ پر باقاعدہ ہماری طرف سے وحی آتی ہے جو کہ کاہن پر نہیں آتی آپ جو کلام لوگوں کو سناتے ہیں وہ دانش و بصیرت کا آئینہ دار ہوتا ہے ایک دیوانے سے اس طرح گفتگو کیوں کر ممکن ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ پس آپ نصیحت کرتے رہئے۔ اپنے رب کے فضل سے آپ کاہن یا مجنون [23] نہیں
[23] کفار کا آپ کو کاہن دیوانہ اور شاعر کے القابات سے نوازنا :۔
یہاں سے پھر کفار مکہ کے آپ پر تبصروں اور القابات کی طرف رخ مڑ گیا ہے۔ ان آیات میں اگرچہ روئے سخن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے مگر حقیقت میں یہ خطاب کفار مکہ کی طرف ہے۔ یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دشمن بغض و عناد کی بنا پر آپ کو کاہن یا مجنوں کہتے ہیں تو ان کی اس بکواس سے آپ کاہن یا مجنوں بن نہیں جائیں گے۔ انہیں ایسی بکواس کرتے رہنے دیجئے اور آپ اپنے کام میں مصروف رہیے اور لوگوں کو قرآن سنا سنا کر نصیحت کرتے جائیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کاہن کی پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔
پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ کاہن جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجْنُوْنٍ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر الله تعالى رسوله - صلى الله عليه وسلم - أن يُذَكِّرَ الناس مسلمهم وكافرهم؛ لتقوم حجَّة الله على الظَّالمين، ويهتدي بتذكيره الموفَّقون، وأن لا يبالي بقول المشركين المكذِّبين وأذيَّتهم وأقوالهم التي يَصدُّون بها الناس عن اتِّباعه، مع علمهم أنَّه أبعدُ الناس عنها، ولهذا نفى عنه كلَّ نقص رَمَوْه به، فقال: {فما أنتَ بنعمةِ ربِّكَ}؛ أي: منَّه ولطفه {بكاهنٍ}؛ أي: له رِئْيٌ من الجنِّ يأتيه بخبر بعض الغيوب التي يضمُّ إليها مئة كذبةٍ، {ولا مجنونٍ}: فاقد العقل ، بل أنت أكملُ الناس عقلاً، وأبعدهم عن الشياطين، وأعظمهم صدقاً، وأجلُّهم، وأكملهم.