ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 27

فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾
پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں زہریلی لو کے عذاب سے بچا لیا۔ En
تو خدا نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا
En
پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز وتند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچا لیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) {فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ: السَّمُوْمِ سَمٌّ} (زہر) سے مشتق ہے، زہریلی لو۔ اس کی جمع {سَمَائِمُ} آتی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ { مَسَامُّ } سے ہے جو جسم کے ہر مسام میں داخل ہو جائے۔ یعنی ہم تو شدید خائف تھے کہ اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے جہنم میں نہ پھینک دیے جائیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہماری خطائیں معاف فرما کر ہمیں جہنم کی زہریلی لو سے بچا لیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 سَمُوم لو، جھلس ڈالنے والی گرم ہوا کو کہتے ہیں، جہنم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ سو (آج) اللہ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَ٘مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فمنَّ اللهُ علينا}: بالهداية والتوفيق، {ووَقانا عذابَ السَّموم}؛ أي: العذاب الحار الشديد حرُّه.