فٰکِہِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ۚ وَ وَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۸﴾
لطف اٹھانے والے اس سے جو ان کے رب نے انھیں دیا اور ان کے رب نے انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لیا۔
En
جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال۔ اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا
En
جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں، اوران کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بھی بچا لیا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) ➊ { ” فٰكِهِيْنَ “ ” فَكِهَ يَفْكَهُ فَكَهًا وَ فُكَاهَةً “} (ع) سے اسم فاعل ہے، خوش ہونا، لطف اٹھانا، لذت لینا، ظریف الطبع ہونا۔
➋ { بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ذاریات(۱۶) کی تفسیر۔
➌ { وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ دخان (۵۶) کی تفسیر۔
➋ { بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ذاریات(۱۶) کی تفسیر۔
➌ { وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ دخان (۵۶) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یعنی جنت کے گھر، لباس، کھانے، سواریاں، حسین جمیل بیویاں (حورعین) اور دیگر نعمتیں، ان سب پر وہ خوش ہونگے، کیونکہ یہ نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہوں گی۔ اور ما لا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر کا مصداق۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ جو کچھ انہیں ان کا پروردگار عطا کرے گا اس سے لطف اندوز ہوں گے اور ان کا پروردگار انہیں دوزخ کے عذاب [14] سے بچا لے گا
[14] جنت میں داخلہ محض اللہ کی مہربانی سے ہو گا :۔
جنت میں پرہیزگاروں کے داخلہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، کہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے گا، سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کی الگ نعمت ہے۔ اور دوزخ کے عذاب سے بچا لینا الگ نعمت ہے۔ اور بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ گویا کامیابی کا اصل معیار دوزخ کے عذاب سے بچنا ہے۔ رہا جنت میں داخلہ تو یہ محض اللہ کے فضل اور مہربانی سے ہو گا۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ” کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا“ صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے اعمال بھی مجھ کو جنت میں نہیں لے جائیں گے الا یہ کہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی مجھے ڈھانپ لے“ [بخاری، کتاب المرضیٰ۔ باب تمنی المریض الموت]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جنت کے مناظر ٭٭
اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔
پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے
جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔