ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 11

فَوَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
تو اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔ En
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے
En
اس دن جھٹلانے والوں کو (پوری) خرابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12،11) {فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ (11) الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَ: خَاضَ يَخُوْضُ خَوْضًا} (ن) اصل میں پانی کے اندر داخل ہونے کو کہتے ہیں، پھر یہ لفظ فضول اور بے ہودہ اقوال و اعمال میں مشغولیت کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جس طرح پانی میں جانے والے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا پاؤں کہاں پڑے گا، فضول کام یا بات کرنے والا بھی اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ اس کا پاؤں کہاں پڑ رہا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ مدثر (۴۵) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے تباہی [9] ہے
[9] ایسا ہو گا وہ دن جس کے لیے کفار جلدی مچا رہے ہیں جو آتے ہی کافروں کی تباہی لائے گا، ان کافروں کی جو آج دنیا کی دلفریبیوں میں مست ہو کر اس دن کا مذاق اڑاتے اور مذاق اڑا کر خوش ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس دن سے پہلے ایمانداروں کو دنیا سے اٹھا لیا جائے گا۔ اور یہ دن صرف کافروں پر ہی واقع ہو گا جیسا کہ صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ ﴿لا تقوم الساعة الا علٰي شرار الناس﴾ یعنی قیامت بد ترین لوگوں پر قائم ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔