ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 55

وَّ ذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۵﴾
اور نصیحت کر، کیونکہ یقینا نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے۔ En
اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے
En
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 55) {وَ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ: ذَكَّرَ يُذَكِّرُ تَذْكِرَةً} کا معنی نصیحت بھی ہے اور یاد دہانی بھی۔ یعنی سرکشوں سے منہ پھیرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ انھیں یاد دہانی اور نصیحت کرنا بھی چھوڑ دیں، بلکہ آپ انھیں یاد دہانی اور نصیحت کرتے رہیں، کیونکہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے اور چونکہ آپ کو معلوم نہیں کہ کون ہے جو ایمان لے آئے گا اور کون ہے جو اس سے محروم رہے گا، اس لیے آپ ایمان لانے والی سعید روحوں کی تلاش میں ہر نیک و بد، موافق و مخالف کو نصیحت جاری رکھیں، بالآخر وہ لوگ جن کی فطرت مسخ نہیں ہوئی، اس نصیحت سے فائدہ اٹھائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى (10) وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى» ‏‏‏‏ [الأعلٰی: ۱۰،۱۱] عنقریب نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے۔ اور اس سے علیحدہ رہے گا جو سب سے بڑا بدنصیب ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

55۔ 1 اس لیے کہ نصیحت سے فائدہ انہیں کو پہنچتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں اس نصیحت سے وہ لوگ یقینا فائدہ اٹھائیں گے جن کی بابت اللہ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان لائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ اور نصیحت کرتے رہیے۔ کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں [47] کو فائدہ دیتی ہے۔
[47] سعید روحوں کا نصیحت کی انتظار :۔
یعنی پیغمبر یا داعی حق کے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اللہ کا پیغام مسلسل پہنچاتے رہیں۔ خواہ ان کے سامنے مخالف یا نا قدر شناس ہی بیٹھے ہوں۔ اس لیے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انسانی معاشرے کے لاکھوں کروڑوں افراد میں وہ سعید روحیں کہاں ہیں جو اس دعوت کو ماننے کے لئے تیار بیٹھی ہیں اور فقط دعوت کے پہنچنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ یہی لوگ اس کی اصل دولت اور سرمایہ ہیں۔ انہی کی تلاش اس کا اصل کام ہے۔ ایسے ہی لوگ اس کا دست راست بننے اور اس کے ساتھ مصائب جھیلنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّذَكِّ٘رْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَ٘نْفَ٘عُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور نصیحت کیجیے، بلاشبہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔ اور تذکیر کی دو اقسام ہیں:
(۱) ایسے امور کے ذریعے سے تذکیر جس کی تفصیل کی معرفت حاصل نہیں، البتہ وہ فطرت اور عقل کے ذریعے سے مجمل طور پر معروف ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل میں خیر سے محبت اور خیر کو ترجیح دینا، شر کو ناپسند کرنا اور اس سے دور بھاگنا ودیعت کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی شریعت اس کے موافق ہے۔ پس شریعت کا ہر امر و نہی، تذکیر ہے۔ تذکیر کامل یہ ہے کہ مامورات شریعت میں بھلائی، حسن اور انسانی مصالح پوشیدہ ہیں ان کا ذکر کیا جائے اور منہیات میں جو نقصانات پنہاں ہیں ان کا ذکر کیا جائے۔
(۲) تذکیر کی دوسری قسم ان امور کے ذریعے سے تذکیر ہے جو اہل ایمان کو معلوم ہیں۔ مگر غفلت اور مدہوشی نے انھیں ڈھانپ رکھا ہے، ان کو ان امور کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے، ان کے سامنے ان باتوں کو مکرر بیان کیا جاتا ہے، تاکہ یہ باتیں ان کے ذہن میں راسخ ہو جائیں، ان کو تنبیہ ہوتی رہے اور جن باتوں کی انھیں یاد دہانی ہوئی ہے ان پر عمل پیرا ہوں۔ نیز یہ کہ ان میں نشاط اور ہمت پیدا ہو جو ان کے لیے فائدے اور بلندی کی موجب ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ نصیحت اور تذکیر مومنوں کو فائدہ دیتی ہے، کیونکہ ان کے پاس جو سرمایۂ ایمان، خشیتِ الٰہی، انابتِ الی اللہ اور اتباع رسول ہے، یہ تمام اوصاف اس بات کے موجب ہیں کہ تذکیر ان کو فائدہ دے اور نصیحت ان کے دل میں اتر جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذَكِّ٘رْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى ؕ۰۰ سَیَذَّكَّـرُ مَنْ یَّخْشٰى ۙ۰۰ وَیَتَجَنَّبُهَا الْاَشْ٘قَى (الاعلیٰ: 87؍9-11) پس نصیحت کرتے رہیے، اگر نصیحت کوئی فائدہ دے۔ جو خشیت سے بہرہ ور ہے، وہ نصیحت پکڑے گا اور بدبختی کا مارا ہوا اس سے پہلو تہی کرے گا۔ جس میں ایمان کی رمق ہے نہ نصیحت کو قبول کرنے کی استعداد ہے، اس کو تذکیر اور نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی، وہ اس شور زدہ زمین کی مانند ہے جس کو بارش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اس قسم کے لوگوں کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آ جائیں تو وہ پھر بھی اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وذكِّرْ فإنَّ الذِّكْرى تنفعُ المؤمنين}: والتَّذكير نوعان: تذكيرٌ بما لم يُعْرَفْ تفصيله مما عُرِفَ مجملُه بالفِطَر والعقول ؛ فإنَّ الله فطر العقول على محبَّة الخير وإيثاره وكراهة الشرِّ والزُّهد فيه، وشرعُه موافقٌ لذلك؛ فكل أمرٍ ونهيٍ من الشرع؛ فهو من التذكير، وتمامُ التذكير أن يذكر ما في المأمور من الخير والحسن والمصالح، وما في المنهيِّ عنه من المضارِّ. والنوع الثاني من التذكير: تذكيرٌ بما هو معلومٌ للمؤمنين، ولكن انسحبتْ عليه الغفلةُ والذُّهول، فيذكَّرون بذلك، ويكرَّر عليهم؛ ليرسخ في أذهانهم، وينتبهوا، ويعملوا بما تَذَكَّروه من ذلك، وليحدثَ لهم نشاطاً وهمَّة توجب لهم الانتفاع والارتفاع. وأخبر الله أنَّ الذِّكرى تنفع المؤمنين؛ لأنَّ ما معهم من الإيمان والخشية والإنابة واتِّباع رضوان الله يوجب لهم أن تنفع فيهم الذِّكرى وتقع الموعظة منهم موقعها؛ كما قال تعالى: {فذكِّرْ إن نفعتِ الذِّكرى. سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشى. وَيَتَجَنَّبُها الأشقى}، وأما من ليس معه إيمانٌ ولا استعدادٌ لقبول التذكير؛ فهذا لا ينفع تذكيره؛ بمنزلة الأرض السبخة التي لا يفيدها المطر شيئاً. وهؤلاء الصنف لو جاءتهم كلُّ آية؛ لم يؤمنوا حتى يروا العذاب الأليم.