ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 42

مَا تَذَرُ مِنۡ شَیۡءٍ اَتَتۡ عَلَیۡہِ اِلَّا جَعَلَتۡہُ کَالرَّمِیۡمِ ﴿ؕ۴۲﴾
جو کسی چیز کو نہ چھوڑتی تھی جس پر سے گزرتی مگر اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح کر دیتی تھی۔ En
وہ جس چیز پر چلتی اس کو ریزہ ریزہ کئے بغیر نہ چھوڑتی
En
وه جس جس چیز پر گرتی تھی اسے بوسیده ہدی کی طرح (چورا چورا) کردیتی تھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) {مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ …: اَلرَّمِيْمُ} بوسیدہ، پرانی، گلی ہوئی ہڈی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42۔ 1 یہ اس ہوا کی تاثیر تھی جو قوم عاد پر بطور عذاب بھیجی گئی تھی۔ یہ تند تیز ہوا، سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی (الحاقہ)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ وہ جس چیز پر بھی گزرتی اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح چکنا چور [36] کر دیتی
[36] یہ بانجھ ہوا باد صرصر تھی اولوں کی طرح ٹھنڈی یخ اور آندھی سے بھی زیادہ تیز۔ جو بے قابو ہوئی جا رہی تھی۔ یہ طوفانی ہوا ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلی۔ ان کے مکانوں کے اندر داخل ہو کر ہر چیز کو فنا کر رہی تھی۔ اس کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر پہلے بھی گزر چکا ہے اور بعد میں بھی آئے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔