(آیت 41) {وَفِيْعَادٍاِذْاَرْسَلْنَاعَلَيْهِمُالرِّيْحَالْعَقِيْمَ:} یعنی قوم عاد میں بھی ہم نے ایک نشانی اور بڑی عبرت چھوڑی۔ {”الْعَقِيْمَ“} وہ رحم یا عورت جس سے بچہ پیدا نہ ہو، ایسے مرد کو بھی {”عقيم“} کہتے ہیں، پھر ہر اس چیز کو بھی جو خیر و برکت سے خالی ہو۔ قوم عاد پر جو آندھی مسلط کی گئی وہ بھی ہر خیر و برکت سے خالی اور سراسر بربادی اور تباہی تھی، اس لیے اسے {”الْعَقِيْمَ“} فرمایا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حاقہ (۶ تا ۸)، قمر (۱۹، ۲۰) اور سورۂ احقاف (۲۴، ۲۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41۔ 1 ای ترکنا فی قصۃ عاد آیۃ عاد کے قصے میں بھی ہم نے نشانی چھوڑی۔ 41۔ 2 الریح العقیم (بانجھ ہوا) جس میں خیر و برکت نہیں تھی، وہ ہوا درختوں کو ثمر آور کرنے والی تھی نہ بارش کی پیامبر، بلکہ صرف ہلاکت اور عذاب کی ہوا تھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ اور عاد کے قصہ میں بھی (ایک نشانی چھوڑی ہے) جبکہ ہم نے ان پر تباہ کن [35] آندھی چھوڑ دی
[35] قوم عاد پر تباہ کُن ہوا :۔
﴿رِيْحَالْعَقِيْمِ﴾ لفظی معنی بانجھ ہوا۔ یعنی ایسی ہوا جو ہر طرح کی خیرو برکت سے خالی ہو۔ اور اس میں سراسر نقصان ہی نقصان ہو۔ بعض ہوائیں راحت پہنچانے والی، بعض خوشبو سے دماغ کو معطر کر دینے والی، بعض بارش کی خوشخبری لانے والی، بعض بادل اٹھانے والی اور بعض نر درختوں کا تخم اٹھانے والی ہوتی ہیں۔ ان سب میں کوئی نہ کوئی خیر و برکت کا پہلو ہوتا ہے مگر جو ہوا قوم عام پر چھوڑی گئی وہ ہر طرح کی خیر و برکت سے خالی اور بانجھ تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔