(آیت 4) ➊ { قَدْعَلِمْنَامَاتَنْقُصُالْاَرْضُمِنْهُمْ:} وہ دوبارہ زندہ ہونے کو اس لیے بعید کہہ رہے تھے کہ مٹی ہونے کے بعد اس کے ذرّات تو سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں، پھر جب ان کی مٹی کی دوسری مٹی سے پہچان ہی ختم ہو گئی تو وہ دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہے کو ردّ کرتے ہوئے فرمایا: «قَدْعَلِمْنَا» ”یقینا ہم جان چکے“ یعنی ہمیں پہلے ہی سے معلوم ہے کہ مرنے کے بعد زمین ان کے جسم میں سے جن جن اجزا کو کم کرے گی اور انھیں مٹی میں بدلتی جائے گی وہ کہاں کہاں ہوں گے، ہمارے علم سے ایک ذرّہ بھی باہر نہیں ہے۔ {”مِنْهُمْ“} میں لفظ {”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، اس میں اشارہ ہے کہ انسان کے تمام اجزا مٹی نہیں ہوتے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَمِنَالْإِنْسَانِشَيْءٌإِلَّايَبْلٰيإِلَّاعَظْمًاوَاحِدًاوَهُوَعَجْبُالذَّنَبِوَمِنْهُيُرَكَّبُالْخَلْقُيَوْمَالْقِيَامَةِ][مسلم، الفتن، باب ما بین النفختین: ۲۹۵۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ]”انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جاتی ہے سوائے ایک ہڈی کے جو دُم کی ہڈی ہے اور قیامت کے دن مخلوق کو اسی سے جوڑا جائے گا۔“ ➋ { وَعِنْدَنَاكِتٰبٌحَفِيْظٌ:”حَفِيْظٌ“} مبالغے کا صیغہ ہے۔ چونکہ لوگ لکھی ہوئی بات کو زیادہ معتبر سمجھتے ہیں اس لیے ان کی عام عادت کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمایا، ان کا ذرّہذرّہ ہمارے علم میں ہونے کے علاوہ اس کتاب میں بھی درج ہے جو خوب محفوظ رکھنے والی ہے۔ پھر ہمارے لیے ان ذرّات کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ {”كِتٰبٌحَفِيْظٌ“} سے اکثر مفسرین نے لوحِ محفوظ مراد لی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی وہ سب کچھ لکھ دیا ہے جو آئندہ ہونے والا ہے، اس میں ان کے ہر ذرے کے متعلق بھی درج ہے کہ وہ کہاں ہو گا۔ {”كِتٰبٌحَفِيْظٌ“} سے مراد ایسی کتاب بھی ہو سکتی ہے جس میں ہر انسان کا نام، اس کے اعمال اور اس پر زندگی میں اور موت کے بعد گزرنے والے تمام احوال ساتھ ساتھ درج ہوتے جاتے ہوں، حتیٰ کہ یہ بھی کہ مرنے کے بعد اس کے جسم کا کوئی بھی ذرہ کہاں کہاں منتقل ہوا اور کہاں موجود ہے۔ اس لیے قیامت کا انکار اس بنا پر درست نہیں کہ مٹی ہو جانے کے بعد وہ ذرّات کیسے جمع کیے جائیں گے۔ کفار کو دوبارہ زندگی کا یقین دلانے کے لیے {”كِتٰبٌحَفِيْظٌ“} کا یہ مفہوم الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔ (واللہ اعلم)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی زمین انسان کے گوشت، ہڈی اور بال وغیرہ بوسیدہ کر کے کھا جاتی ہے یعنی اسے ریزہ ریزہ کردیتی ہے وہ نہ صرف ہمارے علم میں ہے بلکہ لوح محفوظ میں بھی درج ہے اس لئے ان تمام اجزا کو جمع کر کے انہیں دوبارہ زندہ کردینا ہمارے لئے قطعًا مشکل امر نہیں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین ان (کے مردہ اجسام) میں سے کیا کچھ کم کرتی [5] ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے
[5] دوسرے اعتراض کا جواب :۔
حالانکہ ان کا یہ اعتراض محض ان کی کم عقلی اور عدم معرفت الٰہی کی بنا پر ہے۔ وہ اللہ کے علم اور اس کی قدرت کی وسعت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ ان کی ہر چیز مٹی میں نہیں چلی جاتی بلکہ ان کی روح اللہ کے قبضہ میں چلی جاتی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ ان کے جسم کے ذرات اگر مٹی میں مل بھی جائیں تو بھی وہ سب ذرات اللہ کے علم میں ہوتے ہیں۔ اور وہ جب چاہے ان ذرات کو اکٹھا کر کے پھر سے انسان کی شکل دے کر اور اس میں اس کی روح ڈال کر پھر سے زندہ کر سکتا ہے۔ تیسری چیز یہ ہے کہ ان کے ذرات کا اللہ کو علم ہی نہیں بلکہ اس کے پاس ہر چیز پہلے سے لکھی ہوئی بھی موجود اور محفوظ ہے۔ پھر جو چیز علم میں بھی ہو اور ضبط تحریر میں بھی آ چکی ہو، اس کے یقینی ہونے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔